آئینے میں عکس دیکھنے کی ضرورت ہے

imad

انصاف اور احتساب دو ایسے الفاظ ہیں جن کے معنی کم سے کم وطن عزیز میں موجود کسی بھی لغت میں ڈھونڈے  سے  بھی نہیں ملتے. لیکن ان دونوں الفاظوں کا مسلسل استعمال یہاں اس قدر عام ہے کہ شاید ہی کسی اور لفظ یا محاورے  کا ہو. سیاستدانوں سے لیکر عدلیہ، فوجی آمروں سے لیکر بڑی بڑی اہم  این جی اوز اور ٹی وی اینکرز سے لیکر لکھاری ، خواص سے لیکر عام آدمی، سب ملک میں انصاف نہ ہونے اور احتساب نہ ہونے کی دہائیاں اکثر دیتے ہوئے پائے جاتے ہیں. شوروغل برپا رہتا ہے آہ و فغاں جاری رہتی ہے لیکن نہ تو کبھی عدل ہونے پاتا ہے اور نہ احتساب. اس احتساب کا نعرہ لگا کر سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں اور پھر اقتدار حاصل کرتے ہی اپنے مخالفین کو انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے حامیوں کے جرائم سے چشم پوشی اختیار کر لیتی ہیں.اسی طرح آمر سیاستدانوں سے قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کا وعدہ کر کے مارشل لا اور ایمرجینسی کا نفاز کرتے ہیں اور پھر اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور طول دینے کی غرض سے انہی سیاستدانوں میں سے چند سیاستدانوں  کے ساتھ مفاہمت کر لیتے ہیں اور یوں پھر ایک مخصوص طبقہ آرام سے قانون کی گرفت سے باہر رہتا ہے. عدلیہ میں بھی بڑے بڑے وکلا اور معزز جج حضرات انصاف کے تقاضوں کی لاج رکھنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن پھر اسی نظام کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے آنکھیں بند کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں. وطن عزیز میں بستے ہوئے ہم لوگ شاید ابھی تک ایک خاص زہنی و فکری کیفیت سے نجات نہیں حاصل کرنے پائے. یہ کیفیت نفسیات کی زبان میں "احساس کمتری" کہلاتی ہے. اپنے سے بلند مرتبہ افراد کو جی حضوری کرنا اور محض مرتبے اور دولت کے رعب اور دبدبے کی وجہ سے کسی کی عزت کرنا. جبکہ کمزور یا اپنی حیثیت کے برابر افراد پر اپنی ناتمام آرزوؤں اور زہنی غلامی کا غصہ نکالنا بھی ہماری عادت بن چکا ہے. ایک اور عادت جو بے ایمانی دھونس دھاندلی اور کرپشن کے رجحان کے فروغ میں مدد دیتی ہے وہ ہمارے سوچنے کا انداز ہے. ہمارے پڑوس میں اگر ایک ایسا آدمی رہتا ہے جو شراب پیتا ہے یا کسی آور بشری عیب کا مرتکب ہے. لیکن عملی زندگی میں ایمانداری اور محنت سے اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے  اور دوسری طرف اگر ایک ایسا شخص رہتا ہے جو اپنے پیشے یا کاروبار میں مکمل بے ایمانی کرتا ہے انتہا درجے کا کرپٹ پے اور لوگوں کے ساتھ فراڈ کرتا ہے لیکن نماز پڑھ لیتا ہے یا خیرات میں کچھ پیسے غریبوں میں بانٹ دیتا ہے تو ہم ایماندار شخص کی عزت اس کے بشری عیبوں کو دیکھتے ہوئے  نہیں کرتے جبکہ بے ایمان کے سارے گناہوں اور مکاریوں کو ہم اس کے عبادات اور خیرات  کے معاملات کی وجہ سے عزت و احترام سے دیکھتے ہیں. اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں. یہ مائینڈ سیٹ معاشرے میں کرپشن اور بے ایمانی کو قابل قبول بناتے ہوئے بے ایمان اور کرپٹ شخص کو ایک سماجی حیثیت اور مقام عطا کرتا ہے جس کے ملنے کے بعد سیاست میں یا سماجی کاموں میں نام بنا کر اپنے بے ایمانی کے دھندوں اور کالے دھن کو سفید کر لیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ سٹیٹس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون کی گرفت سے بھی بالاتر ہونا بے آسان ہو  جاتا ہے.مثال لت لیجئے  ایک صاحب کی جو  ملک میں پراپرٹی کے کاروبار کے بے  تاج بادشاہ مانے جاتے ہیں. کسی زمانے میں علاقائی بدمعاشوں سے ملکر زمینوں پر قبضے کر لیتے. یا بدمعاشی کے زور پر زمینیں اونے پونے  داموں خرید کر ہاوسنگ کالونیاں بنا لیتے. دھندہ پھیلتا گیا ساتھ ساتھ انکے تعلقات بھی. آہسته آہستہ  سیاسی جماعتوں سے لیکر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فوج  کے اعلی افسران سے لیکر عدلیہ کے معزز ججز تک سب کو پلاٹوں اور پیسے کی چمک سے جیب میں کر لیا. کالے دھن اور ٹیکس نہ دینے پر جب تھوڑی آوازیں آنی شروع ہوئیں تو فورا میڈیا کے اینکرز اور صحافیوں کو بھی پیسے کی چمک سے اندھا کر دیا. موصوف نے ساتھ ساتھ غربا کیلئے علاج معالجے  کی سہولیات سے لے کر لنگر بانٹنے کا بھی سماجی کام بڑے پیمانے پر شروع کر دیا. جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ان کے کالے دھن اور دھندوں کے بارے میں کوئی نہیں پوچھتا. بے شمار افراد انہیں دعائیں دیتے پائے جاتے ہیں.یہ مثال اس لیئے بیان کرنا ضروری تھا کہ ہم اپنے مائینڈ سیٹ پر ذرا سی دیر کو غور کر سکیں.ایک شخص ہمارے جیسے ہی عام آدمیوں کو دھوکے یا دھونس دھاندلی سے مجبور کر کے 100 روپے لوٹ کر  کماتا ہے اس میں سے 1 روپیہ فلاحی کاموں یا عوام کی مدد کے نام پر واپس انہی لوگوں پر لگاتا ہے جن کو بیوقوف بنا کر اس نے پیسہ کمایا ہوتا ہے اور بدلے میں خراج و تحسین بھی پاتا ہے تو اس کا فیصلہ قارئین خود اچھی طرح کر سکتے ہیں کہ بیوقوف کون ہے.  اسی طرح بڑے بڑے ٹی وی چینلز پر بیٹھے نقاد، تجزیہ نگار جو سیاستدانوں کی کرپشن کی دہائیاں دیتے نظر آ رہے ہوتے ہیں.ایک ہیجانی کیفیت میں عوام کو مبتلا رکھتے ہیں کہ بس قوم کا سارا پیسہ کرپشن کی نذر ہو گیا، وہ خود کبھی بھی اپنے ٹی وی چینلز کی مالکان کی کرپشن اور مخصوص سیاسی ایجنڈے پر کبھی بھی سچ بولنے کی ہمت نہیں کرتے. اپنے اپنے شعبہ زندگی میں جو لوگ سچ نہ بول  سکیں اصولوں پر کھڑے نہ رہ سکیں وہ انصاف اور احتساب کے نعرے اپنے اپنے مالکان کے کاروباری تحفظات کو محفوظ بنانے کیلئے تو لگا سکتے ہیں لیکن حقیقی انصاف یا احتساب کیلیۓ نہیں. آصف زرداری ہوں یا الطاف حسین،  نواز شریف ہوں یا عمران خان یہ سب کٹھ پتلیاں ہیں ایک بڑے پردہ سکرین کے بڑے کھیل کی. صنعتکار جاگیردار پراپرٹی کے ناخدا، مزہب کے ٹھیکیدار اور غداری کی اسناد تقسیم کرتے  نقاب پوش چہرے سکون سے دونوں ہاتھوں سے کالا دھن بنانے اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے میں دن رات مصروف رہتے ہیں.سرکاری بابو یعنی بیوروکریسی اس عمل میں ان کا مکمل ساتھ دیتی ہے یوں نظام کالے دھن اور لاقانونیت کے بل پر چلتا رہتا ہے. عوام نعروں ،وعدوں اور میڈیا کے زریعے بنائے گئے نیریٹو کو سچا مان کر ایک دوسرے سے دست و گریباں رہتے ہیں. تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے آخر کیونکر انصاف اور احتساب ممکن ہو. اس کا جواب کینے اور سننے میں  بے حد سادہ ہے لیکن عملا انتہائی مشکل.  اور وہ یہ ہے کہ ہم سب کو پہلے خود اپنا اپنا احتساب کرنے کی اشد ضرورت ہے.  میرٹ کی پامالی،   دھونس دھاندلی اور تعلقات کے بل پر اپنے اپنے کام نکلوانے کی عادت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے. اپنے اپنے کاروبار یا پیشے میں لگن محنت اور ایمانداری کی ضرورت ہے. کسی سے نفرت کی وجہ اس کے بشری عیب ، مذہبی عقیدے اور سیاسی وابستگیوں کے باعث چھڑ کر ، کرپشن دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پر ایسے اشخاص کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے . معاشرے میں لاقانونیت اور کرپشن تب پروان چڑھتی ہے جب اس کو معاشرے میں تسلیم کیا جاتا ہے اگر معاشرہ ان دونوں برائیوں کی جانب زیرو ٹولیرنس دکھائے تو بہت سے معاملات سدھر سکتے ہیں. پیسے کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں لیکن بینائی کو کھویا نہیں جا سکتا.  ایک ایسے معاشرے میں جہاں بینائی کا رکھنا ایک جرم ہو وہاں آئینے بیچنا مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن ناممکن نہیں. بس بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم اپنے اپنے آیینوں پر جمی خواہشات کی گرد  کو کچھ دیر کیلئے ہٹا کر ان میں خود کا چہرہ تلاش کرنے  کی کوشش کریں اور اگر ہم ان آئینوں میں اپنے عکس پر کرپشن یا بے ایمانی کی خراشیں دیکھیں تو ان سے نظریں نہ چرائیں بلکہ ان خراشوں کا علاج کریں.جس دن اس آئینے میں ہم اپنے عکس کو آنکھیں ملا کر دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے.اس دن ہم دوسروں کو بھی آئینہ دکھا سکیں گے اور شاید احتساب اسی کو کہتے ہیں.

آئینے میں عکس دیکھنے کی ضرورت ہے” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *