ہوا میں اڑتے پتے (21)

mirza

     شام ہو چکی تھی۔ حیدر اور مقامی صحافی جا چکے تھے۔ مناہل بھی بیڈ روم میں آرام کرنے کی خاطر لیٹ گئی تھی۔ طغرل اپنے پلنگ پر بیٹھا سامنے رکھے ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا۔ مناہل نے خود بات چھیڑی تھی اور پوچھا تھا کہ تمہیں کیا لگتا ہے کہ کہیں ہمارے ملازم نے تو چوری نہیں کیے زیور؟ طغرل نے اسے سمجھایا تھا کہ ملازم پندرہ سال کی عمر سے ان کے ہاں ہے جو بائیس تیئیس برس کا ہو چکا ہے۔ وہ ہمارے بچوں کی طرح ہے۔ وہ ہماری خدمت ملازموں کی نسبت بیٹوں کی طرح زیادہ کرتا ہے، اس کو کیا ضرورت پڑی کہ ایسا جرم کرے؟ "کیا پتا، دماغ تو کسی کا بھی خراب ہو سکتا ہے" مناہل بولی تھی۔ "کچھ لوگوں کا دماغ کبھی خراب نہیں ہوتا" طغرل نے کہا تھا اور ساتھ ہی سمجھانا شروع کر دیا تھا کہ پولیس والوں کی نفسیات کسقدر مجرمانہ ہوتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ پولیس کی معاونت کے بغیر کم ہی جرم ہیں جو ہو سکتے ہوں۔ وہ دیوانی تو تھی نہیں سمجھ گئی تھی کہ طغرل حیدر وڑائچ پر شک کر رہا ہے۔ "حیدر کا نام نہ آئے اس معاملے میں ورنہ اچھا نہیں ہوگا" مناہل نے اچھی خاصی اونچی آواز میں کہا تھا۔ طغرل نے ایک بار پھر مناسب جانا تھا کہ خاموش رہنا بہتر ہے۔

     رات کٹ گئی تھی۔ ملازم نے آ کر کہا تھا کہ ماہم چوہدری صاحب کے بڑے بھائی نے آپ دونوں کو بلایا ہے کہ سہ پہر تین بجے ان سے آ کر ملیں۔ مناہل گھر کے کاموں میں مصروف رہی تھی اور طغرل بچوں کےساتھ کھیلتا اور گپ شپ لگاتا رہا تھا۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد تھوڑی دیر استراحت کی تھی پھر طغرل نے کہا تھا چلیں چوہدری ابراہیم کی طرف۔ مناہل نے کہا تھا، تم چلے جاؤ تمہیں اپنے دوست ماہم سے بھی گپ شپ کرنی ہوگی میں بعد میں آ جاؤنگی چنانچہ وہ چلا گیا تھا۔ وہ ان کے ہاں جا کر ڈرائنگ روم میں بیٹھ گیا تھا۔ ملازم ماہم چوہدری کو اطلاع کرنے چلا گیا تھا۔ تھوڑی دیر میں ماہم ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تھا۔ وہ آپس میں گلے ملے تھے اور بیٹھ گئے تھے۔ ماہم نے اس سے کہا تھا کہ اب تم کہیں مت جانا ، معاملات اتنے درست نہیں جتنے ہونے چاہییں۔ ماہم کے ساتھ طغرل کا یارانہ تھا۔ وہ اس سے ہر وہ بات کر سکتا تھا جو کسی سے کرنے کے قابل نہیں ہوتی تھی۔ اگرچہ ان دونوں کے مزاج اور خیالات میں بہت فرق تھا مگر وہ ایک دوسرے کو سمجھتے تھے۔ چوہدری ماہم باوجود بڑے زمیندار سیاسی خاندان کا فرد ہونے کے مذہب کی جانب میلان رکھتا تھا، اس نے زندگی میں سگریٹ تک نہیں چھوئی تھی، شراب کی بات تو دور کی رہی جب کہ طغرل رند کا رند تھا اور ایک عرصے سے ہاتھ سے جنت بھی جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ مگر کل جب مناہل نے اسے غیروں بلکہ غیر پر تکیہ کرتے ہوئے اسے ان کی گفتگو میں مخل نہ ہونے کو کہا تھا، تب سے اسے لگا تھا کہ جنت کو ہاتھ میں رکھے رہنے کی کوشش کرنا بے سود ہے۔ اس نے یہی بات ماہم سے کہی تھی۔ ماہم نے کہا تھا کہ تم کچھ زیادہ ہی حساس ہو، ممکن ہے چوری سے متعلق کوئی ایسی بات ہو جس سے تم متفق نہ ہوتے اس لیے اس نے تم سے کہا ہوگا کہ انہیں تنہا چھوڑ دو۔ ابھی اس کا فقرہ تمام ہوا تھا کہ اس کے بڑے بھائی جو سیاسی رہنما تھے اور زمانہ چشیدہ بھی، ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے طغرل کو چھوٹے بھائیوں کی طرح پیار سے گلے لگایا تھا پھر بیٹھ کر اسے سمجھانے لگے تھے کہ ابھی کچھ نہیں بگڑا، کہیں مت جاؤ، گھر سنبھال لو۔ وہ ان کی بات عموما" خاموش رہ کر سنا کرتا تھا جیسے بڑے بھائیوں کی بات سننے کی ریت ہے۔

     تھوڑی دیر میں مناہل حیدر وڑائچ  کے ہمراہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی۔ وہ دونوں ایک صوفے پر معمولی سا فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئے تھے۔ حیدر لغاری نے اس طرف کا بازو جس جانب مناہل بیٹھی تھی لمبا کرکے مناہل کے پیچھے صوفے کی پشت پر سیدھا کر لیا تھا۔ طغرل نے ماہم کو دیکھا تھا، ماہم نے طغرل کو۔ جہاں دیدہ چوہدری ابراہیم کے چہرے پر بھی ناگواری کی ایک شکن پیدا ہوئی تھی۔ ان کے ہاں عورتوں کا بالکل علیحدہ صوفے پر بیٹھنے کا رواج تھا چہ جائیکہ خاوند کی موجودگی میں محض شناسا شخص کے ساتھ بیٹھا جائے۔ مگر وہ سیانے شخص تھے۔ طغرل سے مخالطب ہو کر کہنے لگے، "طغرل ۔ زیور چلا گیا، اللہ اور دے گا۔ اس معاملے کو آگے بڑھانے سے سر میں خاک ہی پڑے گی"۔ وہ چوری کی آڑ میں بہت گہری بات کہہ گئے تھے۔ طغرل نے کہا تھا،" بھائی جان گرد تو اڑنی چاہیے چاہے وہ میرے سر میں ہی کیوں نہ پڑے"۔ بہرحال اس گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ مناہل نے نکلنے سے پہلے البتہ طغرل سے پوچھا تھا، "تم چلو گے؟" اس نے جواب میں کہا تھا،" نہیں میں بعد میں آؤں گا"۔ سب کے جانے کے بعد ماہم اور طغرل رہ گئے تھے۔ طغرل نے کہا تھا،" یار ماہم، دو طریقے ہین یا تو میں روایتی شوہر بن جاؤں اور خاک اڑا دوں یا پھر شرافت کے ساتھ اس کی زندگی سے نکل جاؤں۔ تم نے دیکھ تو لیا ہے کہ بات کہاں تک جا چکی ہے"۔ ماہم نے بس اتنا کہا تھا،"ہاں تم ٹھیک کہتے ہو"۔ پھر اس نے یاد دلایا تھا کہ جو تمہارے لچھن تھے میں نے کیا کہا تھا تمہیں کہ:

                 نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال صنم

                 نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے رہے

       واقعی کئی سال پہلے، ماہم نے حسب معمول طغرل کو سمجھانے کے بعد یہ شعر ایک پرزے پر لکھ کر کہا تھا، اس کو محفوظ کر لو کسی خاص وقت کے لیے، طغرل نے ہنستے ہوئے وہ پرزہ کسی کتاب میں رکھ دیا تھا۔رات کو مناہل نے اسے وہ کاغذ دکھایا تھا جس کے تحت اس نے عدالت میں جا کر حق طلاق استعمال کرتے ہوئے خلع لے لیا تھا جس پر طغرل کے دستخط ہونے باقی تھے اور کہا تھا کہ میں نہیں کہتی کہ تم اس پر دستخط کرو۔ طغرل نے اسے پڑھ کر کہا تھا، اس سے کیا فرق پڑتا ہے، اگر کوئی رہنا چاہتا ہے تو ایسے دس کاغذ بھی کچھ نہیں کر سکتے اور اگر کوئی رہنا نہیں چاہتا تو ایسے کاغذ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ پھر ہنستے ہوئے کہا تھا لو میں اس پر دستخط کیے دیتا ہوں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

      چوری کے معاملے پر طغرل کو یقین کی حد تک شک تھا کہ اس میں حیدر وڑائچ کا ہاتھ ہے۔ اس شک کے اظہار پر ان کی ایک دوبار ٹھنی بھی تھی۔ تاہم طغرل پروگرام کئے مطابق دو ہفتوں کے قیام کے بعد کراچی چلا گیا تھا۔

     طغرل کو کاروبار کی دنیا سے ناآگاہ تھا۔ وہ جن اعمال کو گناہ خیال کرتا تھا، جھوٹ بولنا ان میں سب سے پہلے شمار ہوتا تھا۔ اس کو جھوٹ بولنا کسی کو دھوکہ دینے کے مترادف لگتا تھا یعنی دوہرا گناہ۔ اسے عاصم کے دفتر میں بیٹھ کر معلوم ہوا کہ کاروبار میں جب معاملہ لین دین کا ہو تو جھوٹ بولنا ایک عام سی بات تھی۔ اسے شاید زندگی کا پہلا جھوٹ ویں بولنا پڑا تھا۔ عاصم کے دفتر میں کسی کا فون آیا تھا۔ عاصم نے کہا تھا،"چچا ریسیور اٹھاو ، اگر اکبر کا فون ہے تو کہہ دینا کہ میں دفتر میں موجود نہیں ہوں۔ اس کو ایسا کرنا پڑا تھا، ظاہر ہے جھوٹ بول دیا تھا۔ وہ کوفت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ عاصم نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے پوچھا تھا، "کیا ہوا موڈ کیوں آف ہو گیا ہے؟" طغرل نے گلہ کیا تھا،" تم نے مجھ سے جھوٹ جو بلوا دیا"۔ عاصم کی بھنویں تن گئی تھیں،"چچا ، کمال کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ میں اس شخص سے ملنا نہیں چاہتا، اس لیے تم سے کہلا دیا کہ میں موجود نہیں ہوں"۔ پھر اس نے تاویل دینا شروع کر دی تھی کہ ایسا جھوٹ بولنا گناہ ہوتا ہے جس سے کسی کو نقصان پہنچتا ہو وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال وہ طغرل کو اس ضمن میں قائل نہیں کر سکا تھا۔ طغرل کے نزدیک جھوٹ بس جھوٹ تھا۔

     طغرل نے ضد کر لی تھی کہ جب تک عاصم ساتھ نہیں جائے گا وہ اکیلا واپس نہیں جائے گا۔ عاصم نے ساتھ جائے کا وعدہ کر لیا تھا کہ وہ جائے گا اور کمپنی رجسٹر کروا کر سب انتظامات کرکے آئے گا، لیکن اس کے کام تھے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ طغرل، عاصم کی چھوٹی بیگم کے گھر رہتا تھا۔ عاصم نے ایک گاڑی کی چابی اس کے حوالے کر دی تھی۔ عموما" تو عاصم طغرل کو اپنے ساتھ دفتر لے جاتا تھا لیکن اگر کبھی دفتر کے بعد اسے سگریٹ خریدنے، وڈیو فلم کرائے پر لانے یا کولڈ کافی پینے کی خواہش ہوتی تو وہ اس گاڑی کو استعمال کر لیا کرتا تھا۔

     اسے کم و بیش تین ماہ کراچی میں رہنا پڑ گیا تھا۔ عاصم کے ساتھ دفتر جانے کے علاوہ جہاں وہ کاروبار کے اسرار و رموز سیکھنے کی کوشش کرتا تھا، طغرل عموما" کراچی پریس کلب میں چلا جایا کرتا تھا، جہاں اس کے کئی صحافی دوست تھے۔ اس طرح وہ اپنی نفسیاتی تسکین بھی کر لیا کرتا تھا، جیسے کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ طغرل کاروبار کی دنیا میں نووارد تھا، مگر اسے شعر و ادب اور علم و آگہی سے بہت پہلے سے علاقہ تھ

     وہ جب چاہتا گھر یا دفتر سے مناہل سے فون پر بات کر لیتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کی خیریت دریافت کرتا یا اگر مناہل کو پیسے درکار ہوتے تو وہ اسے کہہ دیتی تھی جس کا عاصم انتظام کر دیا کرتا تھا لیکن ایسی ضرورت دو ایک بار ہی پڑی تھی کیونکہ وہ مناہل اور بچوں کے لیے کچھ اندوختہ چھوڑ آیا تھا۔ طغرل کو صاف لگ رہا تھا کہ اب ان دنوں کے ازدواجی تعلق کا جواز باقی نہیں رہا ہے۔ بچے مشترکہ بھی ہوں تو بھی وہ بیچارے نازک دھاگے، ٹوٹتے ہوئے بندھنوں کو بھلا کیسے آپس میں جوڑے رکھ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *