اسرائیل کیسے بنا؟ چونکا دینے والی رپورٹ

(بشکریہ : سردار عبدالرحمان)

israel

  تقریباً 65 سال سے اسرائیل اور فلسطین کی جنگ جاری ہے۔ یہ جنگ دو انتہائی غیر مساوی طرفین کی جنگ ہے ایک طرف بندوق، گولا بارود، ٹینکس، ہوائی جہازوں، میزائلوں، بحری جہازوں، ڈرون حملوں اور زہریلے موادوں سے حملے ہوتے ہیں اور دوسری طرف سے بے بسی کی حالت میں کنکریوں، پتھروں، اینٹوں اور غلیلوں سے جواب دیا جاتا ہے۔ ایک طرف چاق و چوبند اسرائیل کی بہترین ٹرینڈ آرمی اور دوسری طرف غیر مسلح، غیر منظم نوجوانوں کا غیور اور جذباتی گروپ یہ چیونٹی اور ہاتھی کی جنگ ہے۔ لیکن جس ثابت قدمی سے فلسطینیوں نے اسرائیلی کا مقابلہ کرکے مدافعت کی ہے وہ بڑا کارنامہ ہے۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وقفے وقفے کے بعد ایک چھوٹی سی چھنگاری سے بڑے بڑے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں اور اسرائیل کے ہاتھوں غزہ اور ویسٹ بنک میدان کارزار بن جاتا ہے۔ ایک جنگ تو مذہبی، کلچرل، ثقافتی اور نسلی محاز پر لڑی جارہی ہے اور دوسری جنگ آڈیولاجیکل وجوہات پر برپا کی گئی ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی جھگڑے کا سب سے زیادہ غور طلب پہلو یہ ہے کہ اس جھگڑے میں اسرائیل کو مکمل طور پر ”سپر پاور“ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ دامے، درمے اور قدمے اسرائیل کی حمایت کرتا ہے، اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کرتا ہے، مالی امداد مہیا کرتا ہے۔ اسرائیل کے خلاف تمام، یواین او کی قراردادیں امریکہ ”ویٹو“ کر دیتا ہے۔ اس حرکت سے فلسطینوں کے حق میں ہونے والی قراردادیں غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ اسرائیل جب چن چن کر فلسطینیوں کے لیڈران کو ڈرون حملوں سے ٹارگٹ کلنگ کرتا ہے تو بھی اسرائیل کی مذمت نہیں ہوتی۔ اسرائیل، یو۔این۔او کی قراردادوں سے بار بار منحرف ہوا ہے۔ ”اوسلو ایکارڈ“ سے روگردانی کی ہے۔ اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف کمزور نہتے، بے بس، بے گھر، بے اختیار، خانہ بدوش، اپنی دھرتی کے اندر اور باہر مہاجر کیمپوں میں مبحوس فلسطینی اپنی شہریت سے محروم، حقوق انسانی سے محروم، ضروری سازو سامان سے تہی دست، مصائب و آلام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے گھروں، اپنے گاوٴں، اپنی زمین، اپنے وطن میں دنیا کے کونے کونے سے آنے والے یہودیوں کو آباد ہوتے دیکھ رہے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ فلسطینیوں سے ان کا وطن کیوں اور کس جرم میں چھینا گیا ہے۔ قارئین کرام! وطن کی محبت، وطن کا جذبہ، وطن کا درد، وطن کی یاد اور وطن سے لگاوٴ کوئی غریب الوطن سے پوچھے، کوئی جلا وطن سے پوچھے، کسی مہاجر سے پوچھے، جانور، چرندے، پرندے، اور خزندے بھی اپنی جگہ، اپنی کھرلی، اپنی شاخ، اپنے گھونسلے، اپنے سوراخ اور اپنے ٹھکانے کیلئے لڑتے ہیں۔ فلسطینی بھی اس غیر مساوی ظالم اور مظلوم کی جنگ میں اپنے دفاع میں ریت کے خشک زروں کو اپنے گرم لہو سے کئی بار تر کر چکے ہیں۔ لیکن دنیا پھر بھی کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ تماشہ شروع کیسے ہوا اور ناانصافی کی بنیاد کونسی طاقت نے رکھی۔
جب اہل مغرب نے آخر کار مشرق وسطیٰ میں عثمانیہ سلطنت کو شکست سے دوچار کرکے ختم کردیا تو برطانیہ اور فرانس نے 1916ء کے معاہدہ ”سائیکس اور پیکاٹ“ کے تحت مشرق وسطیٰ کو آپس میں بانٹ لیا۔ اس معاہدے کے مطابق فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا۔ برطانیہ نے فلسطین پر 1918ء میں قبضہ کر لیا اور دو سال بعد ”سن رومیو“ امن کانفرنس میں فلسطین پر اپنا منڈیٹ حاصل کر لیا۔ فلسطین پر منڈیٹ کا ایریا (Mediterranean)سمندر سے لے کر دریائے اژون تک پھیلا ہوا تھا۔ برطانیہ کے فلسطین پر منڈیٹ کی تصدیق کونسل آف لیگ آف نیشن نے 1922ء میں کی تھی۔ اس سے پہلے برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بلفور نے یہودیوں کی ڈائنٹ تحریک سے وعدہ کر لیا تھا کہ حکومت برطانیہ فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کے لئے ایک الگ قومی ریاست کے قیام کے لئے مدد کرے گی۔ اسی وجہ سے اسرائیل کے معرض وجود میں آنے کے لئے ” بلفور اعلامیہ“ کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ 1922ء میں فلسطینیوں کی آبادی سات لاکھ تھی اور یہودیوں کی آبادی صرف اسی ہزار تھی۔ لیکن 1948ء میں جب اسرائیل معرض وجود میں آیا تو فلسطینی مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ملین تھی اور فلسطینی یہودیوں کی آبادی چھ لاکھ تھی۔ انگریزوں کا مینڈیٹ فلسطین پر اس وقت ختم ہوا جب اسرائیل کو معرض وجود میں لایا گیا۔ ”بلفور اعلامیہ“اس خط کو کہتے ہیں جو اس وقت کے وزیر خارجہ آرتھر بلفور نے بنکنگ کے امیر ترین یہودی لارڈ راتھ چائلڈ کو لکھا تھا۔ اس خط میں وزیر خارجہ نے یہودیوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی حکومت فلسطین میں یہودی ریاست قیام کرنے میں پوری مدد کرے گی۔ خط کا متن اس طرح تھا:
”ہز میجسٹی کی حکومت فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کے لئے قومی ریاست قائم کرنے کے حق میں ہے اور یہودی ریاست قائم کرنے کے لئے بھرپور کوشش کرے گی۔ اور تمام سہولیات بھی فراہم کرے گی۔ اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس ریاست کے اندر غیر یہودی آبادی کے خلاف کوئی ایسی بات نہیں ہوگی کہ جس سے غیر یہودی آبادی کے سیاسی سٹیٹس یا انسانی حقوق میں کسی قسم کا تعصب برتا جائے“۔
اس کے بعد اسرائیل کا فلسطین کی دھرتی میں 14مئی 1948ء سے آغاز ہو گیا۔ اسرائیل کا قیام برطانیہ کے منڈیٹ کے خاتمے پر ہی عمل لایا گیا۔ اس موقع پر ایک دستاویز بھی شائع ہوئی جس کے ذریعے یہودی ریاست ”اسرائیل“ کا اعلان ہوا۔ اس دستاویز کی رو سے اسرائیل کے سب شہریوں کے معاشرتی مذہبی سیاسی حقوق بلا امتیاز نر و مادہ کے مساوی رکھنے کا اعلان کیا گیا اور برابری کے سلوک کا ذکر تھا۔ نسلی امتیاز کے خلاف بھی ذکر کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس فلسطین جس کو اسرائیل میں تبدیل کیا جارہا تھا۔ وہاں کی آبادی کا بڑا حصہ فلسطینی مسلمانوں کی آبادی کا تھا۔ اور مسلمان عربی نسل کے مقامی باشندے تھے۔ اس اعلامیہ میں یہ وعدہ بھی درج تھا کہ اسرائیلی حکومت ایک واضع طریقے سے آئین سازی کرکے اپنا آئین اکتوبر 1942ء سے پہلے مرتب کرے گی۔ لیکن اسرائیل نے یہ وعدہ آج تک پورا نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غیر قانونی ہتھکنڈوں سے فلسطینیوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ آئین کی رو سے وہ عدالتوں میں چیلنج ہو سpppکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے پاس آج تک کوئی مربوط آئین نہیں ہے۔ اسرائیل کے اندر فلسطینیوں کے شہری حقوق سلب کئے جارہے یا مختلف طریقوں سے مشکل بنا کر محدود کئے جارے ہیں۔ تحریر تقریر، صحت، تعلیم، ملازمت اور باقی تمام معاشرتی حقوق غصب کئے جا چکے ہیں۔ جو بین الاقوامی قوانین کی بڑی خلاف ورزی ہے۔
اس وقت پوری دنیا کے یہودیوں کی تعداد تقریباً کل 14ملین کے قریب ہے۔ تقریباً چھ ملین یہودی اسرائیل میں رہتے ہیں۔ تقریباً پانچ ملین یہودی نارتھ امریکہ میں رہتے ہیں دو ملین یہودی یورپ میں رہتے ہیں۔ ان کی اکثریت برطانیہ اور فرانس میں ہے۔ مشرقی یورپ میں یہودیوں کی آبادی کم ہوتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ بین المذاہب شادیاں اور یورپین کلچر میں ادغام ہے۔ اسرائیل کے اندر اس وقت پوری آبادی کا پانچواں حصہ فلسطینیوں کا ہے جو برائے نام اسرائیلی شہری ہیں۔ ان کو اسرائیلی حکومت ”عرب اسرائیلی“ کے نام سے منسوب کرتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ یہودی قوم پر انسانی تاریخ میں مصائب کے بڑے بڑے پہاڑ ٹوٹے، ”گٹوز“ بنائے گئے، نفرتیں کی گئیں، ان کو گھٹیا سمجھا گیا اور تعصب برتا جاتا رہا ہے۔ اس نفرت میں صرف ہٹلر اور مسولینی ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے اداروں میں ہوتا رہا۔ نسلی امتیاز بھی برتا جاتا رہا۔ لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ وہی لوگ اپنی تاریخ کو دوسروں پر آزما کر دہرا رہے ہیں۔ اسرائیل بننے کی وجوہات میں دو عالمی جنگوں کا زبردست رول ہے۔ ان جنگوں کے دوران یہودیوں پر بہت ظلم ہوا اور اس کے بدلے میں لوگوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوگئیں۔ یہودی یہ بھی دعوے کرتے ہیں کہ فلسطین اور اس کے ارد گرد کا علاقہ ان کے لئے عطیہ خداوندی ہے۔
-

  اسرائیل کی بنیاد رکھنے سے پہلے برطانیہ، امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں نے یہودی مطالبات کے مطابق دنیا کے کئی ممالک سے یہودیوں کو فلسطین میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ ان لوگوں کے آنے سے فلسطین میں پہلے سے ہی انتہائی خوفناک فسادات اور افراتفری میں بے چینی اور دہشت گردی کی آگ کے شعلے خطرناک حد تک بھڑک اٹھے۔ ان لوگوں نے فلسطین کے اندر مقامی یہودیوں سے مل کر باقاعدہ گوریلا جنگ شروع کر دی اور قتل و غارت کو روزمرہ کامعمول بنا دیا۔ فلسطینیوں کے ساتھ برادرانہ ہمدردی کیلئے ایک دو ہمسایہ مسلمان ممالک نے ان کی مدد کرنا شروع کردی۔ لیکن باہر سے نئے آنے والے یہودی اور مقامی یہودی بہترین ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ ان کو بڑی طاقتوں کی حمایت اور آشیرباد بھی حاصل تھی جنہوں نے عربوں کے فلسطین میں یہودیوں کا ملک بنانے کی حکمت عملی تیار کی تھی۔ وہ اس پروجیکٹ کو فیل نہیں ہوتے دیکھ سکتے تھے۔ فلسطین کے مسلمانوں اور ان کے اتحادیوں کے پاس یا تو ہتھیار تھے ہی نہیں اگر تھے تو فرسودہ اور بیکار نئے اور پرانے مقامی یہودیوں نے مل کر فلسطینیوں کو قریہ قریہ، گاؤں گاؤں اور گلی گلی دہشت گردی کانشانہ بنا کر قتل و غارت کا بازار گرم کردیا۔ فلسطینیوں کے پاس سامان حرب سرے سے تھا ہی نہیں۔ یہودیوں کو کئی ذرائع سے مسلح کیا جارہا تھا۔ یہودی پشت پر مغرب کا دستِ شفقت تھا۔ فسلطینی نہتے، پس ماندہ، بے سہارا اور بے یار و ماددگار تھے۔ فلسطینی بھی بہادری سے لڑے لیکن ان کی حکمت عملی ناقص تھی اور لیڈر شپ ناپید۔ یہودی پڑھے لکھے امیر اورتجربہ کارتھے۔ فلسطینیوں کے خلاف کچھ ایسے افراد بھی لڑ رہے تھے جو حکومتِ برطانیہ کے دوران حکمرانی میں اشتہاری ملزم تھے۔ آزادی کے بعد ان سے چند ایک اسرائیل کی کرسیٴ صدارت پر بھی براجمان ہوئے۔
اسرائیل بننے سے پہلے 19448ء کی اس خوفناک، خون آلود، دہشت گردی اور بربریت کی جنگ میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ خاندان تباہ ہوئے، فلسطینی خانہ بدوش، مہاجر کمپوں کے رہائشی بنے، بوڑھے، بچے، بیمار ناتواں پیدل سفر کی صعوبتوں سے جان کی بازی ہارگئے۔ متمول، متواضع اور متعبر افراد فلسطینی مہاجر کیمپوں میں خیراتی راشن کے لئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ جو فلسطین کے پشتوں سے شہری تھے ان کو زبردستی ملک بدر کرکے غیر ملکوں کو ان کے گھروں میں لاکر بسایا جارہا تھا۔ 1948ء کی اس جنگ، اس حادثے اس ٹریجڈی اور اس کھلی ناانصافی کو یہودی اسرائیلی جنگ آزادی کا نام دیتے ہیں۔ یہ جنگ اور قتل و غارت ایک سال تک جاری رہی۔ یہودیوں نے برطانیہ کا مینڈیٹ ختم ہونے سے پہلے ہی ایک مسلح آرمی تیار کرلی تھی۔ یہ آرمی دہشت گردی، لوٹ مار، غنڈہ گردی کی ماہر تھی۔ اور اپنی کاررائیوں سے عام عرب شہریوں کو متوحش کر رہی تھی۔ اس آرمی نے فلسطینیوں کے سینکڑوں گاؤں خالی کرا کر دوسرے ممالک سے ترکِ وطن کرکے آنے والے یہودیوں کے حوالے کر دیئے تھے۔ مئی 1948ء کے بعد اسرائیلیوں نے منظم سازش کے تحت بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے لئے قتل گاہیں سجائیں، ان میں سے بدترین قتل گاہ دیریا سین نے 9 اپریل 1948 میں اس جنگ کے دوران اسرائیل نے فلسطین کے 78 فی صد علاقے پر قبضہ کرکے سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کر دیا۔ یہ فسلطینی مہاجر لبنان، شام، اردن، ویسٹ بنک، غزہ، مراکش، تیونس، مصر اور دنیا کے کونے کونے میں جاکر پناہ گزیں ہوئے اور آج تک مہاجر ہیں۔ ان فلسطینی مہاجروں کو اپنے وطن میں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے۔
قارئین کرام! ان ستم رسیدہ فلسطینیوں سے ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اسرائیل نے بین الاقوامی نظروں کے سامنے سفاکی کے ساتھ فلسطینیوں کو اپنی دھرتی سے زبردستی ملک بدر کردیا۔ بین الاقوامی ضمیر سویا رہا یا مصلحتِ وقت کی وجہ سے خاموش رہا۔ یہودی فلسطینیوں کی جائیداد، گھروں، باغات، فصل سے لدے ہوئے کھیتوں اور زمینوں کے راتوں رات مالک بن گئے۔ اسرائیل میں ایمرجنسی قوانین نافذ کر دیئے گئے جو آج تک لاگو ہیں۔ اس درد ناک اور انسانیت سوز تاریخی روئیداد کی ایک اور ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے۔ یہودی بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے نوزائیدہ ملک اسرائیل میں داخل ہورہے ہیں اور معتوب فلسطینی آباؤ اجداد کی قبروں کو خیرآباد کرکے خالی ہاتھ پیدل، گدھوں، اونٹوں اور لڑکوں اور کشتیوں کے ذریعے اپنے ملک چھوڑ کر مایوسی غیر یقینی اور حیرانگی کے عالم میں مستقبل کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے دوسری جانب روانہ ہیں۔ کبھی ایسا اتفاق بھی ہوا کہ فلسطینیوں کے خستہ حال کشتی فلسطین ترک کرکے جارہی ہے اور یہودیوں کا جہاز فلسطین کی طرف اسی وقت آرہا ہے اور ان دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے آنے والوں کو دیکھ کر فلسطینیوں کے جذبات کتنے ہی کرب ناک ہوں گے ان کے چہروں پر کتنی ہی کراہت ہوگی۔ اس کا اندازہ لگانا کوئی اتنی مشکل بات نہیں ہے۔
1967ء میں انیس سال بعد اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان ایک جنگ ہوئی اس جنگ کو تاریخی طور چھ دن کی جنگ کہا جاتاہے۔ اس جنگ میں فلسطینیوں کے ہمسایہ عرب ممالک نے بھی ان کی مدد کے لئے حصہ لیا۔ عربوں کو پھر شکست ہوئی۔ یہودیوں کو امریکہ نے جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح کر رکھا تھا اور امریکہ کی مشاورت بھی شامل تھی۔ جدید ترین میزائل سسٹم بھی دے دیا تھا۔ عربی اور فلسطینی باوجود تیل کی دولت سے مالا ہونے کے سامان حرب اور ٹیکنالوجی کی سہولتوں سے محروم تھے۔ ان کی افواج بھی اسرائیل کی طرح منظم نہ تھیں۔ اس لئے ان کو شرمناک ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے جارڈن سے ویسٹ بنک اور یورو شلم فتح کرکے قبضے میں لے لیا۔ مصر سے صحرائے سینا فتح کرلیا۔ اور شام سے گولان ہائیٹس چھین لیا۔ صحرائے سینا کو بعد میں 1982ء میں اسرائیل نے مصر کے ساتھ بائی لیٹرل سمجھوتے کے تحت واپس کردیا۔ لیکن باقی علاقے اب تک غیر قانونی طور پر اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔
ویسٹ بنک میں فلسطینیوں کی آبادی ڈھائی ملین ہے۔ لیکن یہودیوں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مفتوعہ علاقے میں دو لاکھ یہودی (Settlers) کو آباد کردیا ہے جو غیر قانونی حرکت ہے۔ اسرائیلی ویسٹ بنک کے علاقے کو بائبل مقدمے میں لکھے گئے پرانے نام (Judea) اور (Samaria) کے ناموں سے منصوب کرتے ہیں۔ غزہ کی آبادی ڈیڑھ ملین فلسطینی عربوں کی ہے۔ یہاں پر بھی سات ہزار اسرائیلی یہودیوں کو (Settlers) کی حیثیت سے آباد کیا گیا تھا۔ لیکن 2005ء میں احتجاج کی وجہ سے ان کو واپس بلا لیا گیا تھا۔ اسرائیلی 1948ء کی دہشت گردی، قتل وغارت اور فسلطین پر قبضے کو جنگ آزادی کا نام دیتے ہیں اور آرتھوڈاکس یہودی فلسطین پر قبضے کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس کو اللہ کی طرف سے یہودیوں کے لئے تحفہ سمجھتے ہیں۔ لیکن فلسطین کے نکالے جانے والے فلسطینی اور اسرائیلی کے اندر رہنے والے فلسطینی اس جنگ کو (NAKBA) نقبہ کہتے ہیں۔ فلسطینی سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی قبضہ تباہی، چوری اور سینہ زوری کی مثال تھی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل نے ان کے ملک پر نقب زنی کی اور ناجائز قبضہ کیا ہے۔ (NAKBA) عربی کا لفظ ہے۔
-

اسرائیل نے فلسطین میں اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد 1950 ء میں ایسے قوانین بنانا شروع کردیئے کہ جن کے ذریعے فلسطینیوں کے حقوق صلب ہوتے رہے اور یہودیوں کے لئے تمام راستے کھول دیئے گئے۔ انہی قوانین کے تحت فلسطینوں کے گاؤں اور کئی شہر ٹریکٹروں سے اوکھیڑ کر مسمار کردیئے گئے۔ جو فلسطینی دہشت گردی کے ڈر سے اپنے گھروں سے عارضی طور پر کہیں پناہ لئے ہوئے تھے ان کے گھر بھی ملیا میٹ کردیئے گئے۔ اسرائیل کے اندر فلسطینی مہاجر کہیں اجاڑ، بیابان اور دور دراز سنگلاخ علاقوں میں جاکر اوقات بسری کررہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے اپنی پہلی فرصت ہی میں ایک ایسا قانون بنایا جس کو وہ (LAW OF RETURN) یعنی ”واپسی کا قانون“ کہہ رہے ہیں یہ قانون 1950 ء میں اسرائیلی پارلیمنٹ جس کو (KENESSET) کہا جاتا ہے نے پاس کیا یہ قانون دنیا کے ہر یہودی کو حق دیتا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی جس ملک میں رہتے ہوں ترک وطن کرکے اسرائیل پہنچ کر اسرائیل کے شہری بن سکتے ہیں۔ اسرائیل کا دوسرا قانون یہ ہے کہ جو فلسطینی عرب مسلمان اسرائیلی بننے سے پہلے یا بعد اسرائیل چھوڑ کر باہر گیا ہے یا مہاجر بنا ہے وہ واپس فلسطین کے کسی علاقے میں داخل نہیں ہوسکتا ہے۔ اس قانون کے تحت یہودی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہودی وہ شخص ہوگا (مرد یا عورت) جس کا دادا یا دادی یہودی ہے یا رہے ہیں۔ اس قانون کو اسرائیل نے بنانے میں اتنی عجلت کی کہ وہ یہودیوں کے مذہبی رول اور اصول کو بھی بھول گئے یا جان کر یہودیوں کو رعایت دی گئی ۔ ان کامذہبی لیگل سسٹم(HALAKH) ”ہلاکھا“ توریت کی تعلیم پر عمل کراتا ہے اور توریت کے مطابق ”ہلاکھا“ اصولوں کے مطابق یہودی ہونے کے لئے ماں کا یہودی ہونا لازمی ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر اس طرح عددی سبقت لینے کے لئے ربانیکل مذہبی اصولوں کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ اصل میں ”واپسی کا قانون“ اس قانون کے عنوان سے بھی انصاف نہیں کررہا ہے۔ واپسی تب ہوتی ہے کہ جب کوئی کہیں گیا ہو۔ جو لوگ فلسطین چھوڑ کر ہی نہیں گئے تھے اور نہ شہری رہے تھے ان کی واپسی کیسی ؟ اس واپسی کے قانون سے مقامی فلسطینیوں پر ایک اور نقب زنی کی گئی۔
اسرائیل کی سفاکی اور فلسطینیوں کے ساتھ تعصب کی داستانیں پڑھ کر با ضمیر انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ اس وقت یہ حقیقت منکشف ہوکر سامنے آتی ہے کہ عالمی طاقتیں کتنی مکار اور مفاد پرست ہیں ۔ دنیا میں حکمرانی بین الاقوامی انصاف پر استوار نہیں بلکہ خود غرضی، لالچ، اور مفاد پرستی پر قائم ہے۔ اسرائیل نے اپنے ملک کے اندر فلسطینی عربی کلچر، عربی زبان، عربی لٹریچر، ثقافت اور رسم و رواج کو نسلی وجوہات اور مذہبی تعصب کی بنا پر تہس نہیں کردیا ہے۔ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں فلسطینی وکرز کو عربی بولنے کی پاداش میں نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔
فلسطینیوں سے ان کے قصبے اور گاؤں بندوقوں اور سنگینوں کی نوکوں پر خالی کرائے گئے ہیں۔ ان مقامات کو توڑ پھوڑ کر ہموار کرکے تفریح گاہیں ، پارک اور مصنوعی جنگلات بنا دیئے گئے ہیں۔ دنیا کا تقریباً ہر یہودی اسرائیل کے لئے ایک درخت (DONATE) کرتا اور درختوں کو (ADOPT) کراتا ہے لیکن وہاں انسانوں کی جگہ درخت لگایا جاتا ہے۔ کچھ درخت ساؤتھ امریکہ سے منگوائے جاتے ہیں جو صرف لڑکی کے لئے استعمال ہوسکتے ۔ فلسطینیوں کے روایتی باغات جن میں زیتون اور طرح طرح کے میواجات اور سبزیاں پیدا ہوتی تھیں جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دی گئی ہیں تاکہ اس وجہ سے فلسطینی تنگ آکر اسرائیل سے ہمیشہ کے لئے بھاگ جائیں۔ بھیڑ، بکریوں اور مال مویشی کی چراگاہیں اسرائیل نے قومی پارکس بنادی ہیں۔ قارئین کرام ! (EIN HOD) ”عین حد“ فلسطین کا ایک نہایت ہی خوبصورت گاؤں ہوتا تھا۔ یہ گاؤں حیفہ (HAIFA) کے قریب کارمل پہاڑ کے جنگل کے ڈھلوان علاقے میں واقع ہے۔ ”عین حد“ کو اسرائیلیوں نے فلسطینیوں سے خالی کرا کر اب ٹور ازم مقام بنا لیا ہے لیکن اس گاؤں کی اصلی تاریخی حیثیت کو چھپایا جارہا ہے۔ اسی گاؤں میں بارویں صدی میں ترکی مسلمان آباد تھے اور بعد میں کئی پشتوں سے فلسطینی آباد رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اس گاؤں کی پرانی اور انتہائی خوبصورت مسجد کو ایک جدید ریسٹورنٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ اس مسجد کی عمارت میں جو ریسٹورنٹ بنایا گیا ہے اس کا نام (DONA ROZA) رکھاگیا ہے۔ اس ”ڈونا روزہ“ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کی تواضع کے لئے ان کو شراب سے نوازا جاتا ہے۔ اس ریسٹورنٹ کی سامنے والی دیوار پر ایک ننگی خاتون کی تصویر کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ مسجد تھی پھر دنیا شکایت کرتی ہے کہ فلسطینی اشتعال میں کیوں آتے ہیں اور میزائل کیوں داغتے ہیں ؟۔
اسرائیل کی ایک اور فلسطینیوں سے دشمنی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے اندر فلسطینی شہریوں کی کئی درجن کمیونٹیز کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کمیونٹیز کی بستیوں یا گاؤں کو اسرائیلی حکومت(UNROCOGNISED VILLAGES) غیر تسلیم شدہ گاؤں کہتی ہے۔ ان بستیوں میں فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہے۔چونکہ اسرائیل نے ان لوگوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اس لئے ان کو بجلی ، پانی ، ٹیلی فون ، تعلیم اور کسی دوسری سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان بستیوں کے تام گھروں کو ناجائز سمجھا جاتا ہے اور ان کو کسی وقت بھی بغیر نوٹس کے گرایا جاسکتا ہے۔ یہ انسانی حقوق کی پامالی اور آدمیت کے خلاف تذلیل کی بد ترین مثال ہے۔ اسرائیل کی مغرب نے مدد کی اور آج تک کررہے ہیں۔ 1948 ء میں معرض وجود میں آنے والا ملک مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ طاقت ور اور جدید ترین اسلحہ سے مسلح ملک اسرائیل ہی ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی قرار داد یو این میں پاس ہونے نہیں دی۔ وقفے وقفے کے بعد اسرائیل نہتے فلسطینیوں کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنے ظلم کو دہراتا ہے۔ DISATION JUاسرائیل کی بہت پرانی پالیسی ہے۔ اس پالیسی کے مطابق جہاں کہیں بھی اسرائیلی یہودی عرب فلسطینیوں کی تعداد سے کم ہیں وہاں یہودی آبادی کو بڑھایا جائے۔باہر کے ممالک سے یہودیوں کو اسرائیل لانے کیلئے ایک (ZIONIST) تنظیم 1929ء میں قائم ہوئی تھی۔ یہ تنظیم اس کام کے لئے عبرانی (HEQREW) زبان کا لفظ (ALIYA) استعمال کرتے ہیں۔ یہ لفظ مذہبی جذبات کا حامل ہے۔ اس لئے یہ تنظیم اس کو مذہبی رنگ دے کر یہودی کو ترغیب دیتی ہے کہ توریت کے مطابق فلسطین کی زمین کو یہودی نسل کے لئے مختص کردیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت یہ ایجنسی اب تک بیرونی ممالک سے تین بلین یہودیوں کو اسرائیل لاچکی ہے۔
  اسرائیل کے معرض وجود میں آنے کے حرکات اور اسباب پر راقم الحروف نے گزشتہ تین تحریروں میں روشنی ڈالنے کی سعی کی ہے۔ اسرائیل کی کہانی پر مکمل آگاہی حاصل کرنے کے لئے کچھ اور بھی پیچیدہ پراسرار اور خفیہ کارروائیوں کاا دراک بھی ضروری ہے۔” سار تیتھن“ ایک برطانوی یہودی ہے وہ برطانیہ میں پیدا ہوئی اور یہاں سے تعلیم حاصل کی۔ اسرائیل کے قانون لاء آف ریٹرن کے تحت وہ اب اسرائیل میں رہتی ہے۔ وہ روشن خیال اور بیدار مغز سوشلسٹ یہودی ہے۔ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اسرائیلی حکومت سے لڑتی ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ 1918ء میں برطانیہ کی حکومت نے جنوبی افریقہ کے کٹر یہودی ”ذائے نیسٹ“ وزیر اعظم جان سمٹس کو فلسطین روانہ کیا تاکہ وہ تفتیش کرکے یہ انفارمیشن معلوم کرے کہ کس طرح فلسطین کے اندر ایک نیا ملک”اسرائیل“ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اس خطے میں صدیوں سے فلسطینی آباد ہیں پھر اس ”پاک سر زمین“ میں یہودیوں کے لئے نیا ملک کیسے بنایا جائے جان سیمٹس وزیراعظم جنوبی افریقہ اس مشن پر فلسطین روانہ ہوگئے اور پھر واپس جہائش برگ آکر ایک یہودیوں کے نمائندہ گروپ سے فلسطین پر یہودی ریاست بنانے کی مشکلات پر بات چیت کرتے ہوئے ان مشکلات کے وجوہات پر تذکرہ کیا جان سیمٹس نے کہا کہ فلسطین میں یہودیوں کا (home land ) بنانے کے راستے میں ایک بڑا نازک مسئلہ یہ ہے کہ وہاں فلسطینیوں کی ایک بڑی آبادی رہتی ہے اور یہودی وہاں بہت ہی قلیل اقلیت میں ہیں۔ اس لئے آئندہ کے لئے پالیسی یہ ہونی چاہئے کہ فلسطین کے اندر زیادہ سے زیادہ یہودی لاکربسائے جائیں یہ سمجھنا آسان ہے کہ اس پالیسی سے جھگڑا پیدا ہوگا۔ نئی یہودی آبادی اور پرانے فلسطینیوں کے درمیان کشمکش اور غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے اس ساری صورت حال کو بہت نزاکت اور چابکدستی سے سر انجام دینا ہوگا۔ جان سمیٹس کی پالیسی پیشن گوئی اور مشاورت پر اعتبار سے شرمندہ تعبیر ہوئی اور آہستہ آہستہ فلسطین کے اندر غیر ملکی یہودی آکر آباد ہوگئے۔ جب مغربی طاقتوں نے باہر سے ایک بھاری تعداد میں یہودیوں کو فلسطین کے اندر داخل کراکر مسلح کردیا تو ”بن گورین“ کو حکم دیا کہ وہ اسرائیل کا اعلان کردے۔ سادہ فلسطینیوں، آرام طلب عرب حکمرانوں اور لاپرواہ اسلامی بلاک کے ناک کے نیچے یہ سب کچھ روکتا ہوا۔ لیکن وہ اپنی آواز نہ اٹھاسکے وہ اپنی مدافعت نہ کرسکے اور فلسطین کے اندر یوں دیدہ دلیری سے نسلی اور مذہبی بنیادوں پر باہر سے آنے والے غیر فلسطینیوں کے لئے ایک نیا ملک بن گیا اور اصلی باشندے بے گھر ہوگئے۔ جنوبی افریقہ میں جو ذلت آمیز نسلی تعصب اور انسان سوز علیحدگی کا دور گزرا اس کی با ضمیر انصاف پسند اور نسل انسانیت کو سمجھنے والے لوگ ببانگ دہل مذمت کرتے رہے۔ آخر کار جنوبی افریقہ میں (Apartheid ) کا خاتمہ ہوا۔ آج وہی تعصب وہی نفرت وہی علیحدگی وہی ذلت آمیز سلوک وہی مفادات وہی نا انصافی اور وہی (Ghettoism ) اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کررہا ہے کچھ چند با ضمیر حلقوں اور افراد کے سوا باقی سب قوتیں دیدہ دانستہ مصلحت کے طور پر خاموش ہیں لیکن اس اندھیر نگری میں تھوڑی سی روشنی کی کرن اسرائیل کے اندر با ضمیر انسان دوست اور روشن خیال یہودیوں سے ظاہر ہورہی ہے جو اب اسرائیل کی عرب دشمن پالیسیوں کے خلاف کھل کر بول رہے ہیں اور اپنا احتجاج کھلے عام ریکارڈ کراتے ہیں مثلاً ایک شخص ڈاکٹر اورسی ڈیوس“ جو اسرائیل میں پیدا ہوا ہے اور کئی سال فلسطینوں کے شہر سخینن میں رہائش پزیر رہا ہے ڈاکٹر اوری ڈیوس کو اسرائیل حکومت نے فلسطینیوں کی حمایت کرنے اور اسرائیل حکومت کی مذمت کرنے کی سزا دینے کے لئے ملک بدر کرکے برطانیہ بھیج دیا تھا۔ ڈاکٹر ڈیوس کو 1980ء میں ملک بدر کیا گیا تھا وہ آج تک اسرائیل کی ”ذائے نیسٹ“ نسلی بنیادوں پر قائم حکومت کے خلاف ہے لیکن جب اسرائیل اور پی۔ ایل۔ او کے درمیان اوسلو ایکارڈ پر دستخط ہوگئے تو اسرائیل نے اس کو معاف کرکے واپس اسرائیل میں داخل ہونے کی دعوت دے دی۔ وہ پھر فلسطینیوں کے شہر سخنین میں چلا گیا اور فلسطینیوں کے حق میں مہم شروع کر دی۔ اسرائیلی اس وجہ سے اس سے نفرت کرتے ہیں اور اس کو نوکری سے فارغ رکھا جارہا ہے۔ اس یہودی ڈاکٹر نے کئی سال اسرائیلی قوانین کی ریسرچ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیل نسل پرست (Apartheid) ریاست ہے۔ کیونکہ اسرائیلی ریاست کے قوانین اور رولز نسل پرستانہ اور (Xenophobic) قوانین لاگو کرتے ہیں اس طرح ایک اور یہودی سوزن نیتھن اسرائیل کی عرب دشمن پالسیوں کی اتنی مخالف ہے کہ اس نے یہودیوں کی آبادی ترک کر کے عربوں کے ایک گاؤں”تیسمارہ“ میں رہائش اختیار کرلی اور عربوں کے خلاف ذلت آمیز سلوک کی نشان دہی کرنا اپنافرض اولین بنالیا۔ سوزن نیتھن کہتی ہے کہ اسرائیل عربوں کوگھٹیا سمجھتے ہیں ان کی زمین زبرستی چھینتے ہیں ان کو بجلی، پانی، تعلیم، صحت کی ضروریات سے محروم رکھتے ہیں ان کو ”گھٹوز“ میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے باغات کو جڑوں سے اکھیڑ کر تباہ کرتے ہیں۔ ان پر کرفیو لگاتے ہیں ان کو چک پوائنٹس پر لمبی لمبی قطاروں میں انتظار کراتے ہیں سترہ، انیس سال کے سولجرز عربوں کو غلیظ گالیاں دیتے ہیں دکانیں لوٹتے ہیں نفرت کرتے ہیں گولی مارتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل کے نوجوان خود پریشان ہیں اور سوزن نیتھن کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں عربوں پر گولی چلانے سے انکار اور خودکشیاں کررہے ہیں یا فوج میں بھرتی ہونے سے بھاگ رہے ہیں۔
اوسلو ریکارڈ کیا تھا؟ اوسلو ریکارڈ 1993 میں اسرائیل حکومت اور فلسطینیوں کی تنظیم پی۔ ایل۔ او کے درمیان خفیہ بات چیت کے بعد وائٹ ہاوئس امریکہ میں (13 ستمبر 1993 ) میں ایک معاہدے کو کہتے ہیں اس معاہدے میں ایسے اصول وضع کیے گئے تھے جن کے مطابق فلسطینیوں کو غزہ کے ایک بڑے حصے پر اور ویسٹ بنک کے شہر”جہری کو“ پر خود حکومت چلانے کا اختیار دیا گیا تھا اس کے ساتھ اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کی آبادی کے اہم مراکز سے واپس بلانے کا وعدہ بھی شامل تھا۔ 1999ء تک فلسطینیوں کو ویسٹ بنک کے چالیس فی صدی علاقے پر اپنا عارضی کنٹرول مل گیا تھا اور غزہ کے ستر فی صدی علاقے پر بھی یہ حق مل گیا تھا لیکن اسرائیل نے اس عرصے میں انتہائی بربریت کے ساتھ ویسٹ بنک کے علاقے میں دو لاکھ یہودیوں کو لاکر بسادیا تھا۔ اس وجہ سے فلسطینوں کا ویسٹ بنک پر کنٹرول کا معاملہ غیر موثر ہوگیا۔ اوسلو ایکارڈ کے ذریعے جو فلسطینیوں کو تھوڑا سا ریلیف ملا تھا وہ کیمپ ڈیوڈ میں مزید کامیابی نہ ہونے کی وجہ سے فیل ہوگیا۔ اس بات چیت میں فلسطینیوں کے(Final status) کا فیصلہ طے ہوتا تھا 2000 ء میں فلسطینیوں نے انتفادہ شروع کردیا۔ اسرائیل نے اس بہانے سے فلسطین کے ویسٹ بنک کے ایک بڑھے حصے پر پھر قبضہ کرلیا۔ ”انتفادہ“ عربی کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے چھٹکاراحاصل کرانا۔ قارئین یہ نہ ختم ہونے والی جنگ روزاوال کی طرح جاری ہے بڑی قوتوں نے جانتے ہوئے آنکھیں پھیر لی ہیں فلسطینیوں کے حقوق مفاد پرستوں نے ہڑپ کر رکھے ہیں۔ مسلمانوں میں نہ وحدت عمل ہے اور نہ وحدت فکر ہے نہ تدبیر ہے کہ وہ کیا تھے اور کیا ہوسکتے ہیں۔
-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *