میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے

asad muftiاسد مفتی

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد پانچ کروڑ ہو گئی ہے اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کا زیادہ تر تعلق ایشیا اور مشرقی یورپ ہے، اقوام متحدہ کی جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق ایڈز کا موذی وائرس دو دھائی قبل دریافت ہوا جبکہ ان بیس برسوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 5کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ موذی مرض ایشیا اور مشرقی یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ایک طرف ایڈز کو گلوبل ایشو تصور کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب بہت سے ممالک بالخصوص مغربی ملکوں نے ایڈز کو اپنے ایجنڈے سے نکال دیا ہے۔ 2010کے دوران دنیا بھر میں مزید 80لاکھ افراد ایڈز کے وائرس کا شکار ہو گئے اور 1981کے بعد اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی یہ سب بڑی تعدادہے۔گزشتہ برس اس مرض سے45لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ اقوام متحدہ نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ اس مرض کو پھیلائو سے روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کریں ورنہ دوسری صورت میں ایڈز کا مرض تیزی کے ساتھ براعظم ایشیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ چونکہ اس مرض پر دنیا کے مختلف خطوں میں بالخصوص ایشیا میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایشیا فرنٹ لائن پر ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایشیائی ممالک میں زیادہ تر مسلمان بستے ہیں اور ان مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے بیشتر علمائے کرام کا یہ فتویٰ ہے کہ ’’ایڈز یقیناً ایک مہلک مرض ہے جس کیلئے اخلاقی تعلیم کی ضرورت ہے نہ کہ جنسی تعلیم کی ‘‘ملت یا امہ یا جو بھی ہے کی پسماندگی کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔2012ء میں 50لاکھ افراد ایڈز کے وائرس کا شکار بن گئے۔ ان میں12لاکھ سے زائد مسلمان تھے اس کے باوجود ہمارے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ جہاں تک ایڈز سے بیداری کا معاملہ ہے ہم اس کے قطعی خلاف نہیں ہیں لیکن ہمارے بچوں کیلئے جنسی تعلیم بہرحال قابل قبول نہیں۔ انسانی تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ۔ایچ آئی وی ایڈز ایک ایسا مرض ہے جو کہ فی الحال لاعلاج ہے اس کے لئے تحقیق کے میدان میں بھی زور و شور سے کام جاری ہے حال ہی میں امریکہ نے ایڈز کی ویکسین تیار کرنے کے بعد اسے دنیا بھر میں تجربات کیلئے بھجوا دیا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال ایڈز کے لئے مختص کردہ رقم یعنی تین ارب ڈالر کے بجٹ کا 22فیصد حصہ صرف ویکسین کی تیاری پر خرچ کر ڈالا جبکہ دس سال قبل امریکہ میں ویکسین کی تیاری پر بجٹ کا صرف آٹھ فیصد حصہ خرچ کیا گیا تھا۔ حال ہی میں ایڈز ویکسین کے انسانوں پر تجربات کیلئے تھائی لینڈ میں ایک کیمپ منعقد کیا گیا۔ بدھ مت کے ایک مندر کے باہر لگائے گئے اس کیمپ کا انعقاد ایک گیم شو کی طرح ہوا جس میں میزبان وہاں موجود لوگوں کو لائوڈ اسپیکروں پر کیمپ کی طرف آنے اور رضا کارانہ طور پر ایچ آئی ویکسین کو ٹیسٹ کرنے کی دعوت دے رہا تھا تھوڑی ہی دیر کے بعد کئی لوگ اس ویکسین کو ٹیسٹ کرنے کیلئے کیمپ کے سامنے بنے اسٹینڈ جن پر ’’حصہ لیں‘‘ ،’’حصہ نہ لیں‘‘ اور غیر یقینی ہیں‘‘ جیسے نشانات بنے ہوئے تھے پہنچنا شروع ہو گئے۔ گزشتہ چار برس سے تھائی لینڈ میں اس طرح کے کیمپوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے شروع کردہ اس مہم میں ایک اندازے کے مطابق16ہزار نوجوان ویکسین کا تجربہ کر کے انسانیت کی خدمت کریں گے۔ اس مہم میں امریکہ اس وقت تک کئی ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ جبکہ صرف تھائی لینڈ میں اس مہم پر120 ملین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی جسم کے دفاع کو اتنا کمزور کردیتی ہے کہ معمولی بیماری بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے اس کا کوئی مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔ یہ بیماری ایک وائرس ایچ آئی وی کے ذریعے پھیلتی ہے۔یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو غیر محفوظ جنسی تعلق، سوئی یا بلیڈ (استعمال شدہ) یا انفیکشن والے خون سے منتقل ہوتا ہے یاد رہے کہ ایڈز کی علامات وائرس داخل ہونے کے کافی عرصہ بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں جو کہ چار سے سات سال کے عرصہ پر محیط ہو سکتے ہیں۔
سائنس دانوں اور محققین کا خیال ہے کہ تھائی لینڈ میں ٹیسٹ کی جانے والی ویکسین اس بیماری سے بچائو کا حقیقی طریقہ نہیںبلکہ دنیاوی طور پر ایک ’’چال‘‘ ہے۔
(یاد رہے کہ انسانی جسم کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے) اس طریقہ کے مطابق وائرس یا اس کا ایک حصہ لے کر اسے ناکارہ بنا دیا جائے یا اس کے اسٹرکچر میں اس طرح کی تبدیلی کی جائے کہ وہ انسانی جسم کو محسوس نہ ہو اور اسے نقصان نہ پہنچا سکے بعد میں اس تبدیل شدہ وائرس کو انسانی جسم میں داخل کردیا جائے۔ انسانی مدافعتی نظام یہ سمجھے گا کہ کسی بیرونی وائرس نے حملہ کردیا ہے اور وہ ایک ’’امیون‘‘ خارج کرے گا جو حقیقی طور پر وائرس کے حملہ آور ہونے کی صورت میں جسم کا دفاع کرے گا اور یوں ہم اپنے جسم کا دفاع کر سکیں گے۔ امیر ممالک میں لوگ اس وائرس پر مختلف ادویات اور حفاظتی تدبیر کے ذریعے نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ اس کی ادویات اور ویکسین کی غریب ممالک میںجہاں ان کی اشد ضرورت ہے ناپید ہیں تو کیا ایسی صورتحال میں اس مرض کے سدباب کیلئے علاج سے احتیاط بہتر نہیں ہے ؟ اور کیا اس موذی مرض سے بچنے کے لئے احتیاطی تدبیر اور بیداری نہیں اپنانی چاہئے ؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے…

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *