اسلامی حکومت مطالبہ کرنے کی چیز نہیں ہے!

mqdefault
مولانا امین احسن اصلاحی جماعت اسلامی سے کیوں علیحدہ ہوئے، اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ نظری وجہ یہ تھی کہ وہ جماعت اسلامی کے طریقہ کار اور حکمت عملی سے بنیادی اختلاف رکھتے تھے۔ اسی پہلو کو واضح کرتی مولانا کی یہ تحریر آج بھی جماعت اسلامی کے سوچنے سمجھنے والے دماغوں پر دستک دیتی محسوس ہوتی ہے ۔ بس ذرا سننے والے کان چاہییں۔قارئین کے لیے اظہار رائے کی دعوت ہے ! (ایڈیٹر)

اسلام کے احکام و قوانین پر غور کیجیے گا تو معلوم ہو گا کہ وہ بہ اعتبار ادوار تین حصوں میں تقسیم ہیں اور تینوں اپنے مزاج کے لحاظ سے الگ الگ ہیں: ایک حصہ ان احکام و تعلیمات پر مشتمل ہے جو تشکیل معاشرۂ اسلامی سے متعلق ہیں۔ دوسرا حصہ عبوری دور کے احکام پر مشتمل ہے (یہی وہ حصہ ہے جس میں بعد میں حالات کی تبدیلی سے نسخ واقع ہوا)۔ تیسرا حصہ ان احکام پر مشتمل ہے جو براہ راست اسلامی حکومت سے متعلق ہیں۔ دور اول کے احکام کا مزاج قدرتی طور پر غیر سیاسی ہے۔ عبوری دور کے احکام میں آگے اور پیچھے کے دونوں دوروں کے تقاضے ملے جلے ہیں۔ تیسرے دور کے احکام اس اعتبار سے تمام تر سیاسی نوعیت کے ہیں کہ صرف ایک حکومت ہی ان کی حامل ہو سکتی ہے اور اسی کے ہاتھوں ان کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں۔
اسلام کے یہ احکام چونکہ اسی ترتیب کے ساتھ نازل ہوئے، اس وجہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صدر اول کے مسلمانوں کو کوئی گھپلا پیش نہیں آیا۔ احکام ٹھیک اپنی فطری ترتیب کے مطابق نازل ہوئے اور اسی ترتیب کے مطابق ان کی تبلیغ و اشاعت یا تنفیذ عمل میں آئی۔ اب اس زمانہ کے لوگوں کو یہ گھپلا پیش آ رہا ہے کہ پورا دین نازل شدہ ان کے سامنے موجود ہے اور اس کے مختلف النوع احکام کے درمیان ایسے فاصل خطوط نہیں ہیں جن کی مدد سے ایک عام آدمی ان کے درمیان امتیاز کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ غیرحکیم داعیوں نے یا تو معاشرے کے حالات کا لحاظ کیے بغیر محض اپنے پروگرام کو حاوی اور ہمہ گیر دکھانے کے شوق میں پورے دین کی دعوت کا نعرہ بلند کر دیا یا ابتدائی مراحل کو چھوڑ کر محض سیاسی قسمت آزمائی کے خبط میں آخری مرحلہ میں داخل ہو گئے۔ یہ صورت حال نہ صرف غیر حکیمانہ ہے، بلکہ بعض حالات میں نہایت خطرناک بھی ہے۔ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہاں تو ممکن ہے کہ اس بے تدبیری کا ضرر صرف اسی حد تک محدود رہے کہ اس قسم کی تمام مساعی بالکل عبث اور بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں، لیکن جہاں مسلمان خطرات میں گھری ہوئی ایک مظلوم اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں، وہاں تو یہ غلط طرزعمل نہ صرف اسلام کے خلاف ذہنوں میں (مسلموں اور غیر مسلموں، دونوں کے) شدید قسم کی الجھنیں پیدا کر دے گا، بلکہ اندیشہ اس بات کا بھی ہے کہ اس کا ردعمل ایسی صورت میں ظاہر ہو کہ وہاں اسلام اور مسلمانوں کو شدید قسم کا نقصان پہنچ جائے۔ سوچیے کہ اگر غیر مسلموں کے کسی ملک میں کچھ مسلمان اسلام کے داعی بن کر جائیں اور اپنی دعوت کا آغاز وہ اس نکتہ سے کریں کہ ہم یہاں اسلام کی حکومت قائم کرنے یا انقلاب قیادت کے لیے آئے ہیں، تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ اس میں تو شبہ نہیں کہ یہ کہنا حوصلہ کا کام ہے، لیکن کیا ساتھ ہی یہ ایک حماقت کی بات نہیں ہے؟ دنیا کے بے شمار ملکوں میں مسلمانوں نے اسلام کی دعوت دی جن میں سے بہتوں میں اسلام کی حکومتیں بھی بعد میں قائم ہو گئیں، لیکن بتائیے کہ کس جگہ انھوں نے حکومت الٰہیہ کی دعوت یا انقلاب قیادت کے نعرہ سے اپنے کام کا آغاز کیا؟ ان داعیوں کے متعلق اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان کی دعوت ادھوری تھی یا ان کو پورے دین کا شعور نہیں تھا تو میں ایسے شخص کو اسلامی نظام کے شعور سے بالکل محروم خیال کرتا ہوں۔
یہ نہ خیال فرمائیے کہ جس وقت ایک داعی ایک غیر اسلامی معاشرہ میں ایمان و اسلام کی بنیادی اور تعمیری دعوت شروع کرتا ہے تو وہ دین کے دوسرے اجتماعی و سیاسی مطالبات کو نظرانداز کرتا ہے یا اپنے آپ کو وہ ان کا مخاطب یا مکلف نہیں سمجھتا یا وہ ان کے نفاذ کے لیے حالات پیدا کرنے کی جدوجہد نہیں کرتا۔ وہ اپنے اسی تعمیری اور تمہیدی کام کے ساتھ یہ سارے کام کر رہا ہوتا ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ میں دین کے
ان مطالبات کا مخاطب و مکلف اپنی انفرادی حیثیت میں یا اس حالت میں نہیں ہوں، جبکہ میں اپنے گردو پیش صرف کچھ منتشر افراد رکھتا ہوں، بلکہ صرف اسی صورت میں ہوں جب اس دعوت سے ایک ایسا منظم اور بااختیار معاشرہ وجود میں آ جائے جو ان مطالبات کے اجرا و تنفیذ کے لیے مؤثر اقدام کر سکے۔ اس سے پہلے کی ساری جدوجہد اس کے اسی آخری منصوبہ کی تمہید ہوتی ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ اس آخری سرحد تک پہنچنا خدا کے فضل و رحمت پر منحصر ہے۔ اس وجہ سے وہ دین کے جس مرحلہ کا کام کر رہا ہوتا ہے، اسی کے لیے پکارتا ہے اور چونکہ ہر مرحلہ کی دعوت اپنے اندر دلوں اور روحوں کے لیے ایک فطری اپیل رکھتی ہے، اس وجہ سے اگر وہ اخلاص و استقلال کے ساتھ اپنے کام میں لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اگر چاہتا ہے تو اس کی جدوجہد کو آخری منزل تک بھی پہنچاتا ہے۔ اگر اس سے پہلے ہی اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو اس کی موت ایک مجاہد فی سبیل اللہ کی موت ہوتی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے وہ ایک کامیاب آدمی ہوتا ہے، اس کو ناکام نہیں قرار دیا جا سکتا۔
اور اگر وہ اپنی بے تدبیری سے یا محض سیاسی اقتدار کے حصول کے شوق میں وہ بوجھ اپنے سر پر اٹھانے یا دوسرے اپنے گرد و پیش کے پراگندہ افراد کے سروں پر لادنے کی کوشش کرے جو بوجھ ایک منظم اور بااختیار اسلامی معاشرہ ہی کے اٹھانے کا ہے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ بھی نہیں نکل سکتا کہ خود اس کی کمر بھی ٹوٹ کر رہ جائے اور دوسروں کی بھی، نیز سارے ماحول میں اسلام کی دعوت ایک خبط و جنون کا نعرہ یا ایک مذاق سمجھی جانے لگے۔
معاف کیجیے گا! آپ حضرات اگر ایک بات ٹھیک کہتے ہیں تو اس کے ساتھ اسی سانس میں دوسری بات بالکل غلط بھی کہتے ہیں۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ اسلام صرف مسجد کا دین نہیں ہے، بلکہ حکومت کا بھی دین ہے، لیکن یہ بات بالکل غلط ہے کہ اسلام کی دعوت ہر معاشرہ اور ہر ماحول میں حکومت الٰہیہ یا انقلاب قیادت کی دعوت سے شروع ہوتی ہے۔ یہ بڑی ہی شدید غلط فہمی، بلکہ شدید قسم کی جہالت ہے جس کی جس قدر جلدی اصلاح ہو جائے اچھا ہے۔ اسی غلط نظریہ کا نتیجہ ہے کہ آج اقامت دین کے علم برداروں کا واحد نصب العین صرف حکومتی اقتدار رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اقتدار ہمارے حوالہ کرو، ہم چشم زدن میں خلافت راشدہ قائم کیے دیتے ہیں۔ اب یہ بات ان کی سمجھ میں کسی طرح نہیں آتی کہ اسلامی حکومت مطالبہ کرنے کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قدرتی نتیجہ ہے ایک صحیح قسم کے اسلامی معاشرہ کے صحت مندانہ بلوغ کا۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ راستہ بڑے صبر و ریاض کا ہے، لیکن اس کو کیا کیجیے کہ راستہ ہے یہی۔ اس کے لیے جو لوگ انتخابات کے راستہ پر اعتقاد رکھتے ہیں، مجھے ان کی سادہ لوحی پر تعجب ہوتا ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے ہمیں حکومت بھی نہ دی تو پھر کیا دیا۔ اس جذبہ کے تحت وہ اسلام کی بات ہی حکومتی اقتدار سے شروع کرتے ہیں۔ میں اس بات کو ایک بالکل جذباتی چیز سمجھتا ہوں۔ اسلام نے حکومت کی نہیں، بلکہ ہدایت اور نجات کی ذمہ داری لی ہے، ہاں اگر صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں آ جائے تو اس کے اوپر وہ احکام آپ سے آپ فرض ہو جاتے ہیں جو حکومت سے متعلق ہیں اور اس وقت یہ بات بالکل صحیح ہو گی کہ آپ اس کو اس کی ذمہ داریاں بتائیں۔ ننھے بچوں کے سامنے جوانی کی ذمہ داریوں پر تقریر کرنا ایک بالکل بے ہنگام بات ہے۔

اسلامی حکومت مطالبہ کرنے کی چیز نہیں ہے!” پر بصرے

  • فروری 11, 2016 at 11:39 AM
    Permalink

    جناب ایڈیٹر یہ تحریر محترم اصلاحی صاحب نے جماعت اسلامی کے لے نھی کسی اور گروہ کے لیے لکھی تھی.....شکریہ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *