صحافت کے نئے ٹرینڈ

amir khakwani
پچھلے چند برسوں کے دوران صحافت میں جو نئے رجحانات (ٹرینڈز) داخل ہوئے ان میں سے ایک رپورٹروں کا غیر ضروری حد تک پہنچ جانے والا جارحانہ رویہ ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے رپورٹر یہ طے کر چکے ہیں کہ بدتمیزی کی حد تک پہنچے تیز اور تیکھے سوال پوچھنا حقیقی رپورٹنگ ہے۔ ہر بات میں کیڑے نکالنے اور ہر چیز پر تنقید کرنے کو جدید صحافت نے اپنا لازمی جز بنا لیا ہے۔ اس کی وجہ شاید الیکٹرانک میڈیا ہے، جو ہر معاملے میں اختلاف اور جھگڑے کو ایکسپلائٹ کرنا اور نان ایشو کو گرما گرم ایشو بنا کر زیادہ سے زیادہ دیر تک ناظرین کو اپنے ساتھ چپکائے ضروری سمجھتا ہے۔ ٹی وی کے لئے روٹین کی پریس کانفرنس کوئی خبر نہیں؛ البتہ صحافیوں سے گفتگو کرنے والا سیاستدان، فن کار، کھلاڑی یا کسی اور شعبے کا شخص اگر کسی بات پر مشتعل ہو گیا، اس نے تند و تیز جملہ کہہ ڈالا تو مزے دار چٹ پٹی خبر بن جاتی ہے‘ جسے بار بار نیوز بلیٹن میں دکھایا جاتا ہے۔ مقام شکر ہے کہ اخبارات میں ابھی کسی حد تک سنجیدگی اور پختگی موجود ہے۔ رات کو چینلز کی ماردھاڑ دیکھنے کے بعد صبح کا اخبار دیکھ کر کچھ تسلی ہو جاتی ہے، جہاں وہ خبریں اپنے حقیقی میرٹ پر جگہ لیتی ہیں۔ رات کے بلیٹن میں جو چیختی چنگھاڑتی خبر لیڈ تھی، صبح وہ ڈبل یا سنگل کالم کی صورت میں شائع ہوئی ہوتی ہے۔ ویسے منفی رپورٹنگ اور تجزیہ نگاری نے اخبارات میں بھی اپنے پیر جمانا شروع کر دیے ہیں۔ تجزیہ نما خبروں نے ایک الگ مصیبت کھڑی کر دی ہے۔ قاری کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ تجزیہ ہے یا خبر؟ یعنی یہ امر واقعہ ہے یا پھر صحافی کی ذاتی رائے؟

سپورٹس سے گہری دلچسپی کی وجہ سے اخبارت کے سپورٹس صفحات میری توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ہماری سپورٹس رپورٹنگ پر اس منفی انداز صحافت کا گہرا اثر ہوا ہے۔ سپورٹس صفحات کے انچارج صاحبان بھی ہر خبر یا معاملے کا منفی پہلو دیکھنا ہی زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی مثبت خبر اگر چھپ گئی تو ان کی صلاحیتوں پر شک نہ ہونے لگے۔ اس لئے چن چن کر کرکٹ بورڈ یا ہاکی ایسوسی ایشن کے ہر کام میں کیڑے نکالے جاتے ہیں۔ میرا یہ قطعی مقصد نہیں کہ کرکٹ بورڈ پر تنقید نہ کی جائے۔ ضرور ہونی چاہیے۔ بورڈ حکام اور ٹیم انتظامیہ کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اہل صحافت کا کام ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں جو درست ہو رہا ہو، اس کی ستائش بھی ہونی چاہیے۔ صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ جو جہاں جتنا ہو رہا ہے، اتنا ہی دکھایا جائے، کچھ کم نہ کچھ زیادہ۔ جو غلطی ہو، اس کی نشاندہی کی جائے، جو کچھ ٹھیک ہوا ہے، وہ بھی بتایا جائے۔ کسی کمزوری کا اگر منطقی جواز موجود ہے تو پھر وہ پہلو بھی سامنے لایا جائے۔

ہمارے بیشتر سپورٹس صحافیوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اپنے فیورٹ کھلاڑی کی باقاعدہ لابنگ کرنا اور ناپسندیدہ کھلاڑی کے خلاف محاذ کھول دینا عام دستور بن گیا ہے۔ مصباح الحق جب ون ڈے ٹیم کے کپتان تھے تو وہ ایک بڑے شہر سے تعلق رکھنے والی طاقتور سپورٹس لابی کا پسندیدہ ہدف تھے۔ یہ لابی شا ہد آفریدی کی حامی تھی اور ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ مصباح کو دھکے دے کر ٹیم سے نکال دیا جائے اور آفریدی کو کپتان بنا دیا جائے۔ مصباح کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس شدید مخالفت اور تند و تیز حملوں سے گھبرا کر مستعفی ہو جاتا۔ یہ تو اس کا ٹمپرامنٹ اور استقامت تھی کہ ڈٹا رہا اور اپنے بلے سے رنز بن کر ناقدین کو جواب دیتا رہا۔ 

آج کل قومی ٹیم کے کوچ وقار یونس ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں۔ وقار یونس غیرمعمولی کوچ نہیں۔ ان پر تنقید کی گنجائش موجود ہے، لیکن صاف محسوس ہو رہا ہے کہ ایک لابی باقاعدہ مہم چلا کر وقار کو ہدف بنا رہی ہے۔ آسٹریلیا میں ورلڈ کپ کے موقع پر وقار یونس نے سرفراز احمد کو اوپنر نہیں کھلایا تو ہر کوئی ان کے پیچھے پڑ گیا تھا، حالانکہ سرفراز اپنی بیٹنگ تکنیک کے حساب سے اوپننگ کے لئے مناسب آپشن نہیں۔ اس وقت مگر کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اب یہ حال ہے کہ ورلڈ کپ کو ایک سال ہونے کو ہے، پاکستان نے اس کے بعد متعدد ون ڈے میچ کھیلے، سرفراز نے ان میں سے کتنے میچ بطور اوپنر کھیلے؟ ٹی ٹوئنٹی میں تو کپتان شاہد آفریدی ہیں، انہوں نے کتنی بار سرفراز کو اوپنر کھلایا؟ وقار یونس پر زہریلے تیر چلانے والوں نے کبھی اس حوالے سے لب کشائی نہیں کی۔ دورہ نیوزی لینڈ میں شکست ہوئی تو ایک معروف سپورٹس جرنلسٹ نے تین چار کالم جڑ دیے کہ وقار کو کوچنگ سے ہٹایا جائے۔ مزے کی بات ہے کہ ٹیسٹ ٹیم جیت رہی ہے تو اس کا کریڈٹ کوچ کو نہیں دیا جا رہا۔ محدود اوورز میں شکست ہو رہی ہے تو یہ مطالبہ کہ اس فارمیٹ کے لئے الگ کوچ بنایا جائے۔ آخر کیوں؟ جو ٹیم ٹیسٹ میں جیت رہی ہے، وہ ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی میںکیوں ہار رہی ہے؟ اس کی وجوہ پر غور کریں، وہ بنیادی کمزوریاں دور کر دیں تو 

یہاں بھی فتوحات شروع ہو جائیں گی، مگر اس طرح یار لوگوں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو گا۔ مجھے اس وقت ہنسی آتی ہے ، جب سپورٹس اینکر حضرات تنازع کھڑا کرنے کے لئے مخصوص لوگوں کو بطور ماہر بلاتے ہیں۔ ہمارے ایک بڑبولے سابق فاسٹ بائولر ایسے معاملات میں پہلی ترجیح ہوتے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ موصوف دنیا جہاں سے بیزار ہیں اور ہر ایک پر میچ فکسنگ کا الزام دھر دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سابق اوپننگ بلے باز قومی کوچ بھی رہے۔ انہیں جب بھی بلایا جائے گا، وہ ہمیشہ ٹیم پر تنقید کریں گے۔ وجہ صرف یہی ہے کہ انہیں قومی کوچ کیوں نہیں بنایا گیا۔ ایک سابق بلے باز کا کلیجہ تنقید کے سینکڑوں زہریلے تیر برسانے کے بعد بھی ٹھنڈا نہیں پڑ رہا۔ ویسے قصور ان لوگوں کا نہیں، انہیں بلوانے والوں کا ہے، جو دانستہ طور پر چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔

آج کل متحدہ عرب امارات میں پاکستان سپر لیگ چل رہی ہے۔ پچھلے ایک دو ماہ کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں، ہر سپورٹس جرنلسٹ نے پی ایس ایل پر تنقید کی اور کرکٹ بورڈ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ کسی کے خیال میں یہ لیگ پاکستان میں ہونی چاہیے تھی۔ کوئی یہ منحوس خبر سنا رہا تھا کہ غیر ملکی کھلاڑی نہیں آئیں گے اور لیگ ناکام ہو جائے گی۔ کسی کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ یونس خان کو شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ ایسے لوگوں نے یونس خان کے شاہانہ رویے پر غور نہیں کیا کہ موصوف اپنے بیٹنگ سٹائل کی وجہ سے کسی بھی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتے، مگر یہاں انہوں نے یہ شرط بھی عائد کر دی کہ مجھے کپتان لازمی بنایا جائے۔ بہت خوب۔ خیر اب جبکہ پاکستان سپر لیگ اچھے طریقے سے جاری ہے، دلچسپ اور کانٹے دار میچز ہو رہے ہیں تو ایک دو صحافی دوستوں سے پوچھا کہ صرف چند ہفتے پہلے تک تو آپ کرکٹ بورڈ کو سپر لیگ کے حوالے سے معمولی سی رعایت دینے کو تیار نہیں تھے، آج وہی پی ایس ایل اچھی کیسے ہو گئی؟ ان کے پاس کھسیانی ہنسی کے سوا کوئی جواب نہیں تھا۔ سپر لیگ کے پہلے چند دنوں میں جتنے بھی میچ ہوئے، ان میں زیادہ بڑے سکور نہیں ہو سکے، پچز بائولرز کو کچھ نہ کچھ مدد دے رہی تھیں، اس پر تنقید بھی ہوتی رہی کہ آج کل ٹی ٹوئنٹی میں بیٹنگ وکٹیں بنا کرتی ہیں، ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوا؟ پیر کی شام لاہور قلندر اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا میچ بہت اچھی بیٹنگ پچ پر ہوا، جہاں قلندرز نے رنز کے انبار لگا دیے۔ رات کو ایک سپورٹس جرنلسٹ دوست سے ملاقات ہوئی، ملتے ہی اس نے شکوہ کیا کہ آج والے میچ کی پچ آپ نے دیکھی، کتنی سلو بیٹنگ پچ تھی، اتنے رنز بن گئے۔ میں یہ سن کر بھونچکا رہ گیا۔ سوچتا رہا کہ یارو پچھلے پانچ دنوں سے آپ لوگوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا کہ بیٹنگ پچ نہیں بنائی گئی، اب بن گئی ہے تو اس پر بھی ناخوش ہیں۔ پی ایس ایل میں کئی چیزیں ٹھیک ہونے والی ہیں۔ اگلے سال انشااللہ یہ زیادہ بہتر طریقے سے منعقد ہو سکتی ہے۔ ایک نئی ٹیم بھی آ جائے گی۔ اصل بات یہ دیکھنے والی ہے کہ اس سے پاکستانی کرکٹ کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہماری مردہ ڈومیسٹک کرکٹ کے برعکس یہاں کاٹنے دار کوالٹی میچز ہو رہے ہیں، کئی نامور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ مل رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نیا ٹیلنٹ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ محمد نواز، محمد اصغر، رومان رئیس جیسے بائولروں کو دیکھنے کے بعد ہر کوئی انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے کا کہہ رہا ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم نے آئی پی ایل کے ثمرات وصول کئے ہیں، پاکستان کو بھی پی ایس ایل کا یقیناً فائدہ پہنچے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *