" یہ سب میرے باپ کی دعا ہے "

razia syyed

امریکا میں بیسویں صدی کے اوائل میں ماؤں کے عالمی دن کی کامیابی کے بعد والد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے دن کو منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ تاہم اس کو عالمی سطح پر مقبولیت 1966ء میں اس وقت ملی جب امریکی صدر لنڈن جونسن نے جون کے تیسرے اتوار کو فاردرز ڈے قرارد یا اور 1972ء میں اسے امریکی قومی تعطیل قراردے دیا گیا ۔یہاں موضو ع بحث فادرز ڈے تو نہیں ہے ہاں البتہ یہ ہے کہ آج کل بہت سی گاڑیوں کے پیچھے والے شیشوں پر ایک عبارت لکھی دکھائی دیتی ہے کہ "یہ سب میری ماں کی دعا ہے " یہ جملہ کتنا عجیب سا ہے ناں ۔یعنی دنیا میں جتنی بھی دولت ، عزت اور شہرت ملی وہ سب ماں کی وجہ سے ہے ، اسی کی مرہون منت ہے ۔میرا سوال صرف اتنا ہے کہ کیا بچوں کی شخصیت اور انکے کردار کی تکمیل میں باپ کا کوئی کردار نہیں ؟
اس ایک عبارت نے کتنے ہی محبت کرنے والے حساس والد حضرات کو دکھ میں مبتلا کر دیا ۔ دیکھا جائے تو ہمارے خاندانی نظام کی کمزوری کی بنیادی وجہ ہی یہی ہوتی ہے کہ ہم خاندان کے صرف ایک ہی حصے یعنی ماں کو اہمیت دئیے جا رہے ہیں ۔ مانا کہ ماں کا رتبہ بہت بلند ہے وہ بچوں کی پیدائش سے لیکر ان کی موت تک ان کی پرورش اور اعلی تربیت کی ضامن ہوتی ہے ۔ خاندان میں اچھی صفات کو لے کر چلنے کی امین ہوتی ہے لیکن باپ کے تعاون کے بغیر بچوں کی اچھی تربیت بھی ممکن نہیں ۔ جدید نفسیات کا بھی یہی ماننا ہے کہ والد کی کمی یا عدم موجودگی بچے میں بہت سی محرومیوں کو جنم دیتی ہے ۔ جارجیا سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک سٹڈی کے مطابق مل جل کر اپنے بچوں کی پرورش کرنے والے ازداواجی جوڑوں کے نہ صرف خود تعلقات بہتر ہوتے ہیں بلکہ ان کے بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ پر اعتماد اور ذہین ہوتے ہیں ۔
آج کل کے والد کو ہم اگر دیکھیں تو ان کی اپنے بچوں کے ساتھ بہت فرینکس ہے جس کا تصور ہم لوگ کبھی اپنے بچپن میں نہیں کر سکتے تھے ، آج کے دور کے والد نہ صرف بچوں کے سکول میں یوم والدین پر بھی جاتے ہیں بلکہ ٹیوشن پر بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں ، بچوں کے دوستوں سے ملتے اور ان کی صحت مندانہ سرگرمیوں کے بارے میں بھی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ کیا ایک باپ کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ اس ایک جملے میں اپنا نام ہی شامل کروا سکے ۔ والد سار ا سارا دن اپنی اولاد کی پرورش کے لئے روزگار کی جگہ پر جاتا ہے ، ان کی بہتر تعلیم کے لئے سرگرداں رہتا ہے ۔ یہ چیز ان ماؤں سے پوچھنی چاہیے جنہوں نے اپنے شوہروں کے بغیر اپنی اولاد کو پالنے کی مشقت کی ۔ ان کے لئے روزی کمائی ، معاشرے کی ہوس زدہ نظروں کا سامنا کیا ۔کتنے ہی والدین کو میں نے دیکھا ہے کہ جو اپنی اولاد کے لئے ڈبل نوکریاں کر رہے ہیں ، وہ خود محدود وسائل میں گذارا کر کے سفید پوشی کا بھرم قائم رکھتے ہوئے بھی اپنے بچوں کی شاہانہ زندگی کے لئے دن رات ایک کر رہے ہیں ۔ ان میں گرمی ، سردی ، برسات اور ہر طرح کے ناموافق حالات میں کام کر نے والے دفتر میں کام کرنے والے والد بھی شامل ہیں اور انیٹیں اٹھانے والے والد بھی ، گلی محلے میں سبزی بیچنے والے بھی اور ہر طرح کی مزدوری کرنے والے بھی ، ہم سب آخر یہ کب سوچیں گے کہ والد کی ناراضگی میں خالق کی ناراضگی بھی ہے ۔۔
کیا ان بے لوث والد حضرات کا یہ حق نہیں کہ کوئی اپنی گاڑی پر ان کے لئے یہ جملہ ہی لکھ دے کہ "یہ سب میرے باپ کی دعا ہے "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *