امریکہ میں 'نظام کہنہ' کی موت اٹل ہونے کا امکان

Nusrat-Javed

ہاتھی کے پاﺅں میں سب کے پاﺅں آجاتے ہیں اور امریکہ آج کی دُنیا کا سب سے بڑا ہاتھی ہے۔ جغرافیائی طورپر ایک نہیں دو سمندروں نے اس ملک کو وہ دُنیا جسے کولمبس کے امریکہ تک پہنچ کر اسے ”دریافت“ کرنے سے پہلے ”پرانی دُنیا“ کہا جاتا تھا، قطعی طورپر کاٹ رکھا ہے۔ فضائی سفر، ذرائع ابلاغ اور اب انٹرنیٹ کے توسط سے ملی نت نئی Appsکی بدولت مگر تمام دُنیا سکڑ کر ایک Global Villageبن چکی ہے۔ امریکہ کئی حوالوں سے اس گاﺅں کا چودھری ہے۔

امریکہ کی چودھراہٹ کی اصل وجہ مگر اس کی اقتصادی، فوجی اور سیاسی طاقت اور اثر ہی نہیں بلکہ وہ بے تحاشہ ٹرینڈز ہیں جو اس کے معاشرے سے جنم لے کر پوری دُنیا کو پیروی یا نقالی پر مجبور کردیتے ہیں۔ چیونگم، جینز اور برگر وغیرہ اب روزمرہّ استعمال کی اشیاءنہیں رہیں بلکہ مخصوص سماجی رویوں اور نفسیاتی ساخت کی ٹھوس علامتیں بن چکی ہیں۔
فی الوقت میری توجہ مگر امریکہ میں جاری صدارتی مہم پر مرکوز ہے۔ میرا اصرار ہے کہ اس مہم کے ذریعے 2016ءکے نومبر تک جو سیاسی عمل امریکہ میں جاری رہے گا، اس سے کشید کردہ تصورات اور رویے آئندہ کئی دہائیوں تک ہمیں دُنیا کے دیگر ممالک میں بھی بھرپور انداز میں نمایاں ہوتے نظر آئیں گے۔
ایک حوالے سے دیکھیں تو امریکہ میں ان دنوں جاری صدارتی مہم سے کئی سال پہلے پاکستان میں بھی یہ حقیقت بڑی قوت کے ساتھ نمودار ہوکر سامنے آگئی تھی کہ ”پرانی سیاست گری“ اب خوار ہوکر تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بننے جارہی ہے۔ عمران خان کا اکتوبر 2011ءمیں لاہور میں ہوا جلسہ اس امر کا واضح اظہار تھا کہ ہماری نوجوان نسل ”موروثی“ حوالوں سے اقتدار کے کھیل میں ”باریاں“ لینے والوں سے اُکتا چکی ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کی بدقسمتی کہ وہ لوگوں کے دلوں میں کئی برسوں سے اُبلتے غصے کو ٹھوس سیاسی قوت میں بدلنے کے بعد کسی نئے نظام کو متعارف کروانے میں ناکام رہے۔
ہمارے ہمسائے بھارت میں بھی ان ہی دنوں کیجروال اور اس کی بنائی عام آدمی پارٹی نمودار ہوئی۔ ترکی میں استنبول کے چند تاریخی پارکوں کے نام پر چلائی تحریک نے بھی اردوان کی حکومت کو کئی دنوں تک پریشان کئے رکھا۔ پاکستان، بھارت اور ترکی میں البتہ Status-Quoکی حامی قوتوں نے بالآخر متحد ہوکر نظام کہنہ کو کسی نہ کسی صورت بچالیا۔ امریکی سیاست کا ”نظام کہنہ“ مگر کئی مہینوں تک پھیلی صدارتی مہم کی طوالت اور شدت کی وجہ سے شاید خود کو مکمل طورپر محفوظ نہ رکھ پائے گا۔ اس کی توڑ پھوڑ کے اثرات سے باقی دُنیا کا بچے رہنا ممکن نہیں۔
اس صدارتی مہم کی ابتداءہی سے یہ بات کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئی کہ امریکی معاشرہ دو انتہاﺅں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ اب تک کے سیاستدان انتہاﺅں میں بٹے معاشرے میں ”درمیانی راہ“ کے راستے نکال کر وائٹ ہاﺅس پہنچا کرتے تھے۔ ”درمیانی راہ“ اب مگر منافقت کا ایک متبادل لفظ بن چکی ہے۔
امریکہ کی ایک انتہا پر بیٹھا گروہ اصرار کرتا ہے کہ کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ امریکہ بنیادی طورپر سفید فام لوگوں کا ملک ہے جو عیسائی ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے علاوہ کسی اور حوالے سے دیکھنے کو تیار نہیں اور اس بات پر قطعی ناخوش کہ لاطینی امریکہ اور دُنیا کے دوسرے ممالک سے بے روزگار افراد منہ اٹھاکر وہاں اپنے مستقبل سنوارنے کیوں چلے آتے ہیں۔ پراپرٹی کے دھندے سے دھڑا دھڑ اربوں کمانے والے ڈونلڈٹرمپ نے امریکی سفید فام اکثریت کے دلوں میں بیٹھی اس جبلی نفرت کو خوب سمجھا۔
Political Correctnessکے پردے میں چھپائی اس نفرت کو اس نے بہت شدت سے بیان کرنا شروع کردیا۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے اس وحشی مگر ”ہیرو“ دکھتے مرد والا رویہ بھی اپنایا جو عورتوں کو ایک کمزور جنس شمار کرتا ہے اور انہیں دُنیاوی اور ریاستی امور کے بارے میں فیصلہ سازی کا اختیار دینے کو ہرگز تیار نہیں۔
ڈونلڈٹرمپ سے جڑی انتہاءکے مقابلے پر جو امریکی ایک73سالہ بوڑھے سینیٹر کے گرد جمع ہوکر دوسری انتہاءکو تشکیل دئیے ہوئے ہیں، وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں امریکہ کا سیاسی نظام مالدار لوگوں نے یکجا ہوکر اپنا یرغمال بنالیا ہے۔ اس نظام کو برسوں تک پھیلی چالاکیوں کی بدولت اس انداز میں RIGکردیا گیا ہے کہ عام آدمی کے لئے مناسب تعلیم، اچھی صحت اور محض صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ اس نظام سے نجات کا واحد طریقہ یہ رہ گیا ہے کہ ریاست بھاری ٹیکسوں کے ذریعے مالدرار لوگوں سے ایک حوالے سے ”خراج“ وصول کرے اور بھاری ٹیکسوں کی مدد سے اکٹھی ہوئی اس رقم کو رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولتوں پر فیاضانہ انداز میں خرچ کرتے ہوئے نادار اور کم وسیلہ افراد کو دُنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے مساوی مواقع فراہم کرے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکی سیاست پر ان دنوں حاوی انتہاﺅں کی ترجمانی وہاں کی دو بڑی جماعتوں کے روایتی ترجمان ہرگز نہیں کر پائے۔ کئی ماہ قبل تک یہ فرض کرلیا گیا تھا کہ بالآخر وائٹ ہاﺅس تک پہنچنے کے لئے حتمی مقابلہ ایک صدر کے بیٹے اور اس کے بعد دو مرتبہ امریکی صدر رہنے والے بش کے بھائی اور ایک اور صدر کی اہلیہ ہیلری کلنٹن کے مابین ہوگا۔ ”موروثی سیاست“ کے طفیل گویا نظام کہنہ خود کو برقرار رکھے گا۔
ڈونلڈٹرمپ اور سینیٹر سینڈرس مگر دھماکہ کی صورت اکھاڑے میں نمودار ہوگئے ہیں۔ ڈونلڈٹرمپ جس انتہاءکی علامت ہے اس کی ذرا ”بہتر انداز“ میں نمائندگی کے لئے Ted Cruzبھی اگرچہ میدان میں ہے۔ اس کے علاوہ ری پبلکن جماعت کے جو لوگ ڈونلڈٹرمپ کے متبادل کے طورپر سامنے آرہے ہیں ابھی تک کسی نہ کسی صورت خود کو طاقت ور امیدواروں کی صورت ریس میںبرقرار رکھے ہوئے ہیں۔
کٹھن مرحلہ مگر ہیلری کلنٹن کا مقدر بن گیا ہے جو تاریخی طورپر کم وسیلہ لوگوں اور تارکین وطن کے لئے تھوڑے بہت خیر خواہی کے جذبات رکھتی ڈیموکریٹ پارٹی کی اب تک حتمی نمائندہ سمجھی جارہی تھی۔ اس کے انتخاب کے ذریعے امریکہ پہلی بار کسی خاتون کو وائٹ ہاﺅس بھیجنے والی ”تاریخ“ بھی بناسکتا ہے۔ ہو مگر یہ رہا ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے حامی نوجوانوں کی بے تحاشہ اکثریت ہیلری کلنٹن کو Establishmentیا نظام کہنہ کی حامی قرار دیتے ہوئے رد کررہی ہے۔ خواتین بھی ”تاریخ“ بنانے میں کوئی اتنی دلچسپی نہیں لے رہیں۔ سینڈرس کو نہ صرف سیاسی حمایت بلکہ ڈالروں کی صورت گرانقدر سرمایہ بھی ملنا شروع ہوگیا ہے تاکہ وہ محض وسائل کی وجہ سے ہمت نہ ہار بیٹھے۔
نومبر 2016ءکو ہونے والا صدارتی معرکہ اگر ٹرمپ اور سینڈرس کے درمیان ہونا ٹھہرگیا تو امریکہ ہی نہیں دُنیا بھر میں ”نظام کہنہ“ کی موت اٹل ہوجائے گی۔ دوسری صورتوں میں بھی اسے محض کچھ عرصے کے لئے ٹالا ہی جاسکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *