کیا آپ نے ویلنٹائن ڈے منایا تھا؟

(امر جلیل کے قلم سے)

Amar-Jalil

امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے، آپ کے ہاتھ پاؤں سلامت ہوں گے، آپ کی آنکھ پھوٹی نہیں ہو گی، آپ کا سر پھٹا نہیں ہوگا، آپ کے ساتھ وہ سب کچھ نہیں ہوا ہو گا جو میرے لنگوٹیے یار عاشق بھونچال کے ساتھ ہوا تھا۔ آئے دن اس کی زندگی میں بھونچال آتے رہتے ہیں۔ دوستوں کا کہنا ہے کہ عاشق بھونچال کی زندگی میں آئے دن بھونچال اس لئے آتے رہتے ہیں کیونکہ عاشق بھونچال کا چال چلن اچھا نہیں ہے۔ میں دوستوں کی رائے سے متفق نہیں۔ وہ میرا لنگوٹیا یار ہے۔ حالانکہ اب عاشق اور میں لنگوٹ نہیں باندھتے بلکہ انڈر ویئر پہنتے ہیں، اس کے باوجود ہم لنگوٹیے یار کہلاتے ہیں۔ محاورے نہیں بدلتے۔ ہم بدل جاتے ہیں۔ عاشق بھونچال کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ شاعر ہے، رومانوی شاعری کرتا ہے، بھونچال اس کا تخلص ہے۔ اس کا چال چلن اچھوں سے اچھا ہے۔ سب گڑ بڑ اس کے نام میں ہے۔ ایک تو نام اس کا ہے عاشق، اوپر سے اس کا تخلص ہے بھونچال ۔ پھر تو اس کی زندگی میں بھونچال آنے ہی ہیں۔ آئے دن اس کی زندگی میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اس کی رومانوی شاعری کا نمونہ ملاحظہ کیجئے:۔
جب سے تونے مجھے چھوڑ دیا ہے
میں نے دنیا کو چھوڑ دیاہے
تیری طرف جو راستہ جاتا تھا
اس راستے کو اغیار نے توڑ دیا ہے
کل کا دن بیچارے عاشق بھونچال کے لئے بڑا ہی بھاری دن تھا۔ یاد ہے نا آپ کو؟ کل فروری کی چودہ تاریخ تھی۔ یورپ اور امریکہ والے ویلنٹائن کے حوالے سے چودہ فروری کا دن بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔
کرسمس کے بعد ویلنٹائن ڈے کرسچنز کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ اس دن اربوں ڈالرز کے تحائف، پھول اور چاکلیٹوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ پاکستانیوں سے ویلنٹائن کا بھرپور تعارف پرویز مشرف کے تخت پر بیٹھنے کے بعد ہوا۔ پاکستانی مسلمان کرسمس نہیں مناتے مگر ویلنٹائن کا دن کرسچنز سے زیادہ جوش و خروش سے مناتے ہیں، تحفے تحائف کے علاوہ گاتے پھرتے ہیں:۔
چل چلئے دنیا دی اس نکرے
جتھے بندا نہ بندے دی ذات ہووے
چودہ فروری کا دن پاکستانی نوجوان دیوانہ وار مناتے ہیں۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا، اسپین، سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ اور جاپان کے نوجوان اتنی بڑی تعداد میں ایک دوسرے کو SMS نہیں بھیجتے جتنے ایس ایم ایس پاکستانی نوجوان ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ دو چاردن پرانی بات ہے عاشق بھونچال نے مجھے چونکاتے ہوئے کہا تھا ”اس مرتبہ میں بھی ویلنٹائن ڈے مناؤں گا“۔
عاشق بھونچال میرا ہم عصر ہے، مجھے تعجب ہوا۔ میں نے کہا ”شرم کر عاشق۔ ویلنٹائن ڈے تیرے جیسے بڈھے کھوسٹ نہیں مناتے“۔عاشق بھونچال نے مسکراتے ہوئے کہا ”عشق نہ ہووے بڈھا۔ پاویں چٹی ہووے داڑھی“۔ عاشق بھونچال دیسی قسم کا عاشق ہے وہ تمام مشہور اور نامور عاشقوں کا حسب نسب اور تاریخ جغرافیہ جانتا ہے۔ ان سب کے پیدا ہونے اور خاص طور پر مرنے کی تاریخ یاد رکھتا ہے۔ اسی لحاظ سے وہ ان کی برسی مناتا ہے۔ جس روز مجنوں کی برسی ہوتی ہے اس روز عاشق بھونچال گریباں چاک کر دیتا ہے، سر میں خاک ڈال کر صحراؤں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتا ہے۔ جس روز مہینوال کی برسی ہوتی ہے اس روز وہ گائے بیل چرانے نکل جاتا ہے۔ جس روز فرہاد کی برسی ہوتی ہے اس روز وہ پھاوڑا لیکر منگھوپیر کے پہاڑوں سے دودھ کی نہر نکالنے جاتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ عاشق بھونچال کسی نامور عاشق کی برسی کا دن خالی جانے نہیں دیتا۔ لیکن نہ جانے کیوں اور کیسے عاشق بھونچال کو ویلنٹائن کا دن منانے کا شوق جاگا۔ کہنے لگا ”کچھ بھی ہو جائے میں ویلنٹائن ڈے منا کر دم لوں گا، ورنہ دم لینا چھوڑ دوں گا“۔میں نے عاشق کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ بھونچال ، ویلنٹائن عاشق وغیرہ نہیں تھا۔ اس نے کسی لیلیٰ، سوہنی یا شیرین سے محبت نہیں کی تھی وہ عاشق مزاج لوگوں کو خاص طور پر نوجوانوں کو چھپ چھپ کر ملنے جلنے اور تنہائی میں وقت گزارنے کے مواقع فراہم کرتا تھا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تیری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے۔”کیوں نہیں ہے؟“ عاشق بھونچال نے کہا تھا ”نتاشا ہے نا میری گرل فرینڈ“۔
مجھے تعجب ہوا۔ یہ پچاس برس ادھر کی بات ہے۔ تب ہم کراچی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ نتاشا ہماری کلاس میٹ تھی۔ عاشق اور نتاشا ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ ان کی شادی اس لئے نہ ہو سکی کہ عاشق بھونچال کنگلا تھا، ایک ترخان کا بیٹا تھا، اس کی ماں ماسی تھی، دو چار گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی تھی۔ نتاشا کے کھاتے پیتے گھرانے نے عاشق کو مسترد کر دیا۔ عاشق بھونچال نے نتاشا کو بھگا کر عدالتی شادی کرنے اور اس کے خاندان کوبدنام کرنے پر فراق کوگلے لگایا۔ نتاشا کی توکسی بڑے بیوروکریٹ سے شادی ہوگئی لیکن عاشق بھونچال نے شادی نہیں کی۔ ”ابے دیوانے“ میں نے کہا تھا ”نتاشا تو اب بڈھی ہو گئی ہو گی“۔عاشق بھونچال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”میں بھی تو بڈھا کھوسٹ ہو گیا ہوں“۔
کل یعنی ویلنٹائن ڈے پر عاشق بھونچال پھول اور چاکلیٹ لیکر نتاشا کے گھر گیا تھا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا، دروازہ ایک کبڑے بوڑھے نے کھولا تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے عاشق بھونچال نے کہا تھا”میں نتاشا کیلئے یہ پھول اور چاکلیٹ لے آیا ہوں،کیا میں اس سے مل سکتا ہوں؟“

کبڑے بوڑھے نے پلٹ کر آواز دی۔ ”بیٹے جبار، قہار، وقار ایک سڑیل بوڑھا تمہاری ماں کو پھول اور چاکلیٹ دینے آیا ہے“۔عاشق بھونچال ایک اسپتال میں پڑا ہوا ہے۔ مجھے اس کے ٹوٹے ہوئے ہاتھ پیروں کی فکر نہیں ہے۔ مجھے فکر ہے اس کے ناک کی۔ وہ اس کے چہرے پر موجود نہیں ہے۔

کیا آپ نے ویلنٹائن ڈے منایا تھا؟” پر ایک تبصرہ

  • فروری 14, 2016 at 9:29 AM
    Permalink

    امر جلیل کی تحریر ......ہمیشہ کی طرح دلپسند

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *