پاکستان پر غریبوں کے ظلم

gul

میں روز آفس جانے کے لیے گھر سے نکلتا ہوں تو مظہر شاہ صاحب اپنی ڈرائی کلیننگ کی دوکان کھول چکے ہوتے ہیں‘ مجھ پر نظر پڑتے ہی مسکراتے ہوئے بلند آواز السلام علیکم کہتے ہیں‘ میں بھی اُسی انداز میں وعلیکم السلام کہتا ہوا آگے بڑھ جاتاہوں۔لیکن ایک ہفتہ پہلے وہ سلام لینے کی بجائے دوکان سے باہر نکل آئے‘ خاصے پریشان نظر آرہے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ جس یتیم لڑکے کوترس کھا کر دوکان پر ملازم رکھا تھا وہ اُن کا ایک لاکھ روپیہ لے کر رفوچکر ہوگیا ہے۔میں حیرت سے بت بنا رہ گیا‘ وہ لڑکا تونوکری کے لیے بہت منت ترلے کر رہا تھا‘ اپنی غربت کا رونا رورہا تھا‘ اللہ نبی کے واسطے دے رہا تھا۔۔۔پھر یہ اچانک اُس نے کیا حرکت کی؟ میں نے شاہ صاحب سے پوچھا کہ آپ کی طرف سے اُسے کوئی پریشانی یا دباؤ کا سامنا تو نہیں تھا؟ شاہ صاحب بے بسی سے بولے’’میں اُسے وقت پر تنخواہ دیتا تھا‘ کھانا پینا بھی میرے ذمے تھا‘ اُس کی رہائش کا مسئلہ تھا لہذا دوکان پر ہی اسے رہائش کی جگہ بھی دی ہوئی تھی اور وقتاً فوقتاً کچھ پیسے تنخواہ کے علاوہ بھی دیتا رہتا تھا۔‘‘ میں نے شاہ صاحب کا بیان سنا تو میرا یقین اور پختہ ہوگیا۔۔۔!!!
آپ نے ہمیشہ یہی سنا ہوگا کہ غریب مظلوم ہوتاہے‘ غریب بیچارہ ہوتاہے‘ غریب بے بس ہوتاہے‘غریب ایماندار ہوتاہے‘غریب سچا ہوتاہے۔۔۔لیکن اپنے ایمان سے بتائیے کتنے غریب اس تعریف پر پورے اترتے ہیں؟کبھی حساب لگائیے گا‘ پاکستان کی بربادی میں اچھا خاصا حصہ غریبوں کا بھی ہے‘ فراڈ بازی میں یہ امیروں کے بھی باپ ثابت ہوتے ہیں‘ آپ اِن پر لاکھ احسانات کرتے جائیں‘ یہ اُسے اپنا حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں اورآپ کو جوتے کی نوک پر لکھتے ہیں۔میرے ایک دوست کے ملازم کی بیوی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا‘ دوست نے ذاتی خرچ پر اُس کی بیوی کو پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرا یا ‘ دوائیوں کا خرچہ بھی خود اٹھایا ‘ ملازم کو بیوی کی صحت یابی تک چھٹی بھی دے دی اور دیگر ضروریات کے لیے بیس ہزاربھی تھما دیے۔ اِس دوران میرا دوست دن میں دو تین دفعہ فون کرکے بھی ملازم سے اس کی بیوی کی حالت پوچھتا رہتا۔ اتفاق سے دوست کو کسی ضروری میٹنگ کے سلسلے میں دو دن کے لیے دوبئی جانا پڑ گیا ‘ واپسی پر اُس نے ملازم کو فون کیا تو آگے سے ملازم مریل سی آواز میں بولا’’صاحب جی! آپ کا فون ہی نہیں مل رہا تھا‘ یہاں تو ہم برباد ہوگئے ہیں‘ اتنی مہنگی مہنگی دوائیاں خریدنی پڑ رہی ہیں اور آپ کو کچھ خیال ہی نہیں‘‘۔ میرے دوست کو حیرانی بھی ہوئی اور ندامت بھی‘ وہ بیچارہ بھاگم بھاگ ہاسپٹل پہنچا اور ڈاکٹرز پر برسنے لگا کہ آپ نے دوائیوں کے لیے ملازم سے پیسے کیوں لیے؟ ؟؟ پتا چلا کہ ساری دوائیاں ہاسپٹل والوں نے فراہم کی تھیں البتہ تین سو روپے کی ایک دوائی ہاسپٹل کے میڈیکل سٹور میں موجود نہیں تھی جو مجبوراً ملازم کو باہر سے خریدنی پڑ گئی۔‘‘
ہمارے ہاں غریب ہونا ہر چیز کا بہترین جواز ہے۔تعلیم حاصل نہیں کی کیونکہ غریب ہوں۔۔۔ بھیک کیوں مانگتے ہو؟ کیونکہ ماں بیمار ہے اور دوائی کے پیسے نہیں۔۔۔ڈکیتی کیو ں کی؟ کیونکہ غریب ہوں اور چار بہنو ں کی شادی کرنی ہے۔۔۔نشہ کیوں کرتے ہو؟کیونکہ غریب ہوں اور گھر کے حالات دیکھے نہیں جاتے۔۔۔نوکری کیوں نہیں کرتے؟ کیونکہ غریب ہوں اس لیے کوئی نوکری ہی نہیں دیتا۔۔۔تمہاری ٹانگ کیوں خراب ہے؟ کیونکہ غریب ہوں اس لیے گاڑی والے نے ٹکر ماردی تھی۔۔۔اتنے چھوٹے سے کام کی اتنی زیادہ مزدوری کیوں مانگ رہے ہو؟ کیونکہ غریب ہوں گذارہ نہیں ہوتا۔۔۔تمہارے بارہ بچے کیوں ہیں؟ کیونکہ غریب ہوں اورفارغ بھی۔۔۔تم کرایہ وقت پر کیوں نہیں دیتے؟ کیونکہ غریب ہوں۔۔۔تم نے اپنے بچوں کو کیوں قتل کر دیا؟کیونکہ غریب ہوں۔۔۔تم جیل میں کیوں ہو؟ کیونکہ غریب ہوں۔۔۔تم گلے سڑے پھل کیوں بیچتے ہو؟ کیونکہ غریب ہوں۔۔۔تم دھلے ہوئے کپڑے کیوں نہیں پہنتے؟ کیونکہ غریب ہوں۔۔۔تم اتنی گالیاں کیوں نکالتے ہو؟ کیونکہ غریب ہوں۔۔۔!!!
غریب کو اس ملک میں جتنی ہمدردیاں ملتی ہیں شائد ہی کسی کو ملتی ہوں‘دنیا میں سب سے زیادہ خیرات پاکستان میں دی جاتی ہے اور ظاہری بات ہے امیروں کو تو نہیں دی جاتی‘آپ بے شمار امیرترین لوگوں سے پوچھ لیں‘ وہ غریبوں کے بارے میں بڑا ہمدردانہ رویہ رکھتے ہوں گے‘ لیکن کسی غریب سے کبھی سڑک پر جاتی گاڑی والے کے بارے میں پوچھیں‘ وہ نفرت سے بھرپور جواب دے گا اور ایک جملہ لازمی کہے گا’’سب حرام کا مال ہے‘‘۔غریب کا سڑک پر ایکسیڈنٹ ہوجائے تو بیسیوں گاڑیاں رُک جاتی ہیں‘ لوگ اُسے اٹھانے کے لیے بھاگتے ہیں‘ لیکن کسی گاڑی والے کی گاڑی بیچ سڑک خراب ہوجائے تو غریب کی خوشی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ گھروں میں کام کرنے والی غریب ماسیوں کو ہی دیکھ لیں‘ یہ اپنے دو دن کے پیسے بھی نہیں چھوڑتیں لیکن اِن کی چھٹیوں کے پیسے کاٹے جائیں تو واویلا مچا دیتی ہیں۔یہ عیدی بھی لیتی ہیں اور کرسمس بھی۔۔۔اس کے باوجود کبھی خوش نہیں ہوتیں۔ یہ درست ہے کہ دولت کی غیر مساوی تقسیم نے غریبوں کو امیروں سے متنفر کردیا ہے لیکن خود غریب دوسرے غریب سے جو سلوک کرتا ہے وہ بھی حقیقت ہے۔غریب کی کمیٹی غریب ہی ڈکارجاتاہے‘غریب کا سائیکل غریب ہی چوری کرتاہے‘ غریب کی جڑ بھی غریب ہی کاٹتا ہے۔۔۔!!!تاہم ہر غریب‘ امیر کی قربت کا خواہشمند ہے!!
تاریخ کھنگال کر دیکھئے۔۔۔آج کے سارے امیرماضی کے غریب تھے‘ یہ ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھتے تھے‘ فاقے کرتے تھے‘ لالٹینوں کی روشنی میں پڑھتے تھے‘ بوسیدہ کپڑوں میں سکول جاتے تھے‘ پھٹے ہوئے جوتے پہنتے تھے۔۔۔لیکن پھر یہ امیر ہوگئے‘ کوئی نہیں جانتا کیسے؟؟؟ پھر آہستہ آہستہ اِن کے طور اطورا بھی امیروں جیسے ہونے لگے‘ اِنہیں انگریزی بھی بولنی آگئی‘ کوٹ پینٹ بھی پہننی آگئی‘ہاتھوں میں قیمتی سگریٹ اور سگار بھی آگئے اور ہائی سوسائٹی میں Move کرنے کے طریقے بھی۔اِن میں سے کسی کا باپ لوہار تھا‘ کوئی سینما میں ٹکٹیں بلیک کرتا تھا‘کوئی نائی تھا‘ کوئی کراچی میں رکشہ چلاتا تھا‘ کوئی پی آئی اے میں لوڈر تھا‘کوئی پنڈی کی سڑکوں پر چھ چھ میل پیدل سفر کرتا تھا‘کوئی سائیکل پر اخبار بیچا کرتا تھااور کسی کا لال حویلی کے قریب پان سگریٹوں کا کھوکھا تھا۔لیکن جب یہ امیر ہوئے ۔۔۔توپورے ملک کو غریب کر دیا۔غریبوں کی یہ اولادیں ہی آج ہر طرف سے پاکستان کی بوٹیاں بھنبھوڑ رہی ہیں۔ یہ خود تو منہ میں چوسنی لے کر پیدا ہوئے تھے لیکن اِن کی اولادیں سونے کے کڑچھے لے کر پیدا ہوئیں۔غربت کے بطن سے جنم لینے والے اِن سارے غریبوں نے اپنی مالی حالت تو بدل لی ہے لیکن ذہن ابھی تک غریب ہے۔ اِن کو بھی دوائیوں کے بل میں سے تین سو روپے پلے سے دینے پڑ جائیں تو موت پڑ جاتی ہے‘ یہ آج بھی ’’سائیکل‘‘ چوری کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے‘ یہ آج بھی اپنے سے امیرکی قربت کے لیے بچھے چلے جاتے ہیں۔ غربت معاشی نہیں ذہنی مسئلہ ہے‘ ذہن غریب ہوجائے تو کروڑ پتی بھی بھوکا نظر آتاہے‘ کیا فائدہ ایسی دولت کا کہ بینکوں میں اربوں ڈالر زبھرے ہوں اور دنیا کتا کہہ کر بلائے۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *