عرفیت میں کیا رکھاہے؟

Irfan Hussainعرفان حسین

کہا جاتا ہے کہ عرفیت میں کیا رکھا ہے، اہمیت تو نام ہی کو حاصل ہوتی ہے، تاہم جب عرفیت ’’طالبان خان‘‘ ہو تو پھر نام میں کیا رکھا ہے؟جس ستم ظریف نے خان صاحب کو اس عرفیت سے نوازا، اس کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ یہ تیرِ نیم کش کس قدر درست نشانے پر بیٹھے گا اور جو بات وہ شاید طنزیہ طور پر کہہ رہا ہے، ایک دن الہامی حقیقت بن جائے گی۔
تحریکِ طالبان پاکستان کی طرف سے پی ٹی آئی کے سربراہ کو اپنی مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان دراصل خاں صاحب کی اپنے مقاصد کی حمایت کے لیے پوری تندہی سے انجام دی جانے والی طویل خدمات کا ادنیٰ سا اعتراف ہے، تاہم ان کے انکار پر طالبان کے دل ٹوٹ گئے ہوں گے۔ طالبان کے ایک ترجمان نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ان کے اچھے کاموں کی وجہ سے نامزد کیا گیا ۔ یہ اچھے کام کیا ہیں؟سب سے پہلا کام، جس نے طالبان کے دل جیت لیے، وہ یہ ہے کہ ان کی طرف سے کیے گئے خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں پاکستان کے عام شہریوں اور سیکورٹی فورسزکے جوانوں کا اندھا دھند خون بہایا گیا لیکن خا ں صاحب نے کبھی آدھی زبان سے بھی ان کی مذمت نہیں کی، بلکہ کسی بھی دھشت گردی کی کاروائی کے فوراً بعد وہ پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے امریکی ڈرون حملوں(وہ واحد ہتھیار جس سے طالبان ڈرتے ہیں) کی مذمت کا راگ آلاپنے لگتے ہیں۔ بھلائی کا دوسرا کام ان کی جماعت کی طرف سے خیبر پختونخواہ ، جہاں ان کی حکومت ہے، میں نیٹو کنٹینرز کو روکتے اور پاکستان کے معاشی مفاد کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے طالبان کو مشکور کرنا ہے۔
عمران خان طالبان کی حمایت میں یک سو ہوں تو ہوں، دیگر معاملات میں ان کی کنفیوژن دیدنی ہوتی ہے۔ چند دن پہلے جب خیبر پختونخواہ میں ان کی حکومت نے پشاور یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کی کتابِ کی رونمائی کی تقریب کو روک دیا تو عمران خان نے اس پر حیرت اور افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا اس تقریب کو اجازت نہ دینے کی وجہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ تاہم اُنھوں نے اپنے وزرا کو تقریب کے انعقاد کا حکم دینے کی بجائے صرف ٹوئٹر پیغام کو ہی کافی سمجھا۔ ذرا تصور کریں کہ پی ٹی آئی ایک قومی سطح کی جماعت ... ایک قوم جس میں اقلیتیں اور خواتین بھی موجود ہیں... ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس کا طالبان کے حوالے سے موقف اس کے اپنے قومی اور سیاسی منشور کی نفی کرتا ہے۔ جب یہ جہادی تنظیمیں خواتین کو گھروں میں قید رکھنا، مخالف فرقے والوں کو قتل کرنا اور اقلیتوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کرنا روا سمجھتی ہیں اور اس کے باوجود طالبان کو خاں صاحب کی غیر مشروط حمایت حاصل رہتی ہے تو پھر یہ ستم رسیدہ لوگ پی ٹی آئی کی حمایت میں ووٹ کیسے ڈال سکتے ہیں؟
کئی سالوں سے پی ٹی آئی کے سربراہ کا تقاضا رہا کہ طالبان سے بات چیت کی جائے، تاہم اس ضمن میں وہ اکیلے نہیں بلکہ دائیں بازو کی تمام جماعتوں کے پاس ’’سارے مسائل کا ایک ہی حل‘‘ یہی رہا ہے۔ اس دوران تحریکِ طالبان پاکستان نے ہمیشہ مذاکراتی میز پر بیٹھنے سے انکار کیا۔ ہاں، یہ اور ہے بات کہ گاہے بگاہے وہ بات چیت کرنے کے بہانے جنگ بندی کرکے سیاسی اور عسکری طور پر اپنے قدم جمانے کے لیے کچھ وقت نکال کر خود کو مضبوط کرلیتے ہیں اور فی الحال ان کی یہ جنگی حکمتِ عملی کا فی کامیاب رہی ہے۔ اس کے بعد وہ خود ہی نام نہاد معاہدے کو توڑ تے ہوئے خود کش حملے کرکے پاکستانیوں کا خون بہاتے ہیں... اور مذاکرات کا مذاق اپنی جگہ لیکن چالیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے خون سے لکھی ہوئی اس سفاک سچائی کو کون طالبان یا ان کا کوئی خان جھٹلا سکتا ہے؟اس مرتبہ طالبان کے دھشت گردوں نے پشاور میں دو دھماکے اُس وقت کیے اور بہت سے افراد کو ہلاک اور زخمی کیا جب دونوں ٹیمیں پرامن مذاکرات کے لیے اسی شہر میں موجود تھیں۔
طالبان کی ٹیم کے دو ممبران، مولانا سمیع الحق (جنہیں بابائے طالبان کہا جاتا ہے) اور مولانا عبدالعزیز(لال مسجد اور کالے برقعے والے)نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ طالبان شریعت کے نافذ کے سوا کسی معاملے پر راضی نہیں ہوں گے... اور ایسا ملک کے آئینی ڈھانچے کو ختم کیے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اگر طالبان کی یہ شرط بغیر کسی ابہام کے سب کے سامنے ہے تو پھر مذاکرات کس بات پر ہورہے ہیں؟ اگرچہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم کو ’’مکمل اختیار‘‘ حاصل ہو گا لیکن میرا نہیں خیال کہ اس ٹیم (یا کسی بھی ٹیم ) کے پاس ایسا کوئی اختیار ہے کہ وہ ریاست کو طالبان کے حوالے کردے۔ اگر حکمران جماعت ایسا کرنا بھی چاہے تو آئین کو تبدیل تو کجا، اس میں ترمیم کرنے کے لیے بھی اس کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ۔ طالبان کا دوسرا مطالبہ ان کے قیدیوں کی رہائی اور قبائلی علاقوں سے فوجی دستوں کی واپسی ہے۔ ان دونوں مطالبات کو، یا ان میں سے کسی ایک کو،تسلیم کرنا پاک فوج جو اس جنگ میں بہت سا خون دے چکی ہے، کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ اگرچہ اس وقت حکومت نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں، لیکن جب ان کے قاتل کھلے عام گلیوں اور بازاروں میں گشت کرتے ہوئے ان کے زخموں پر نمک چھڑکیں گے یہ بے عزتی ناقابلِ برداشت ہوگی۔ فاٹا سے افواج کی واپسی کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ ریاست نے ان قدامت پسند قاتلوں اور مجرموں کے گروہ، جو ہمیں قدیم دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں، کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اگرچہ عوام کی یادداشت قابلِ رشک نہیں ہوتی لیکن یہ زیادہ دیر کی بات نہیں جب افغان طالبان نے افغانستان میں اسلامی امارت قائم کررکھی تھی تو اس میں اُن خواتین جو طبی علاج کے لیے کسی مرد ڈاکٹر کے پاس جاتیں( خواتین ڈاکٹر تو طالبان کے ہاں ہو نہیں سکتیں کیونکہ وہ خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں) یا جن کے چہرے کا ایک انچ بھی ننگا ہوتا، کو لٹا لٹا کر کوڑے مارے جاتے تھے اور لڑکوں کو تعلیم کے نام پر صرف مذہبی کتب کو رٹایا جاتا تھا... لڑکیوں کو اس ’’تعلیم ‘‘ کے لیے بھی سکول جانے کی اجازت نہ تھی۔
کیا ہم اس قسم کا پاکستان چاہتے ہیں؟کسی سالوں سے تحریکِ طالبان پاکستان ایک طے شدہ منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں ، خاص طور پر وہ جہاں لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں، کو تباہ کررہی ہے۔ وہ ویڈیو کی دکانوں اور وہ سیلون جو مردوں کی شیو کرنے کی جسارت کریں، کو بموں سے اُڑا دیتے ہیں۔ چناچہ اس میں کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ جب وہ ریاست کا اختیار سنبھالیں گے تو پاکستانیوں کے ساتھ کیا ہوگا۔ اور پھر ہمارے پاس تو وادیِ سوات کی مثال بھی موجود ہے کہ جب طالبان نے مختصر مدت کے لیے اقتدار سنبھالا تو وہاں کیا ہوا۔ وہاں مخالفین کو عوامی مقامات پر ذبع کیا جاتا تھا اور ان کی سربریدہ لاشیں درختوں سے لٹکا دی جاتی تھیں۔ اس وقت سوات مولانا فضل اﷲ ، عرف ملا ریڈیو، کے قبضے میں تھا اور وہی ملا اب ترقی پاتے ہوئے طالبان کی امارت کے عہدے پر فائز ہے۔ یہ ہیں وہ لوگ جن کے ساتھ عمران خان، نواز شریف اور ان کے ہم خیال مذاکرات کرنا چاہتے ہیں!فی الحال مذاکرات کی دھائی دینے والے ٹولے نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس معاملے پر طالبان سے بات کریں گے، لیکن میرا خیال ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ، کیونکہ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟‘‘اگر ہمارے سیاسی رہنماؤں نے جلد ہی اس خطرے کا احساس نہ کیا تو خدشہ ہے کہ بہت دیر ہوجائے گی اور اندھیرے کی طاقتیں اس ر یاست کو ہڑپ کرلیں گی۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *