علامہ مشرقی:نوبل پرائز کے لئے نامزد ، جسے ہٹلر نے اپنی کار دی !

naeem-baloch1
آئیے آج آپ کو ایک ایسی شخصیت سے ملواتے ہیں جو اپنے دور کانابغہُ روزگار بھی تھااور اس سے وابستہ ایسے واقعات بھی ہیں جو انتہائی افسوس ناک ، باعث شرم اور مجرمانہ غفلت کا مظہر ہیں ۔ ہماری مراد علامہ عنایت اللہ مشرقی سے ہے۔ پہلے ان کے ایک قدر دان کا اقتباس ملاحظہ کریں:
’’لاہور کے اچھرہ کی تنگ گلیوں سے گزر کر جب آپ ذیلدار روڈ پر پہنچیں گے تو ایک الگ تھلگ سیمنٹ کے پلاسٹر والا پرانا مکان نظر آئے گا۔ زنگ آلود گیٹ کھول کر اندر جائیں تو اب بھی لکڑی کے بوسیدہ شوکیس میں آپ کو 1942 کی رینالٹ بینز کا ڈھانچانظر آئے گا۔ اس زنگ آلود گلتی سڑتی کار کے بالکل ساتھ ہی دو قبریں بھی ہیں ایک علامہ عنایت اللہ مشرقی کی اور دوسری ان کی شریک حیات کی۔ یہ کار ایڈولف ہٹلر نے علامہ صاحب کو بطور تحفہ پیش کی تھی۔ 1942 ماڈل کی رینالٹ بینز کے بارے میں بتاتا چلوں کہ جب نازی فوجوں نے فرانس پر قبضہ کیا تھا تو انہوں نے بہت محدود تعداد میں مرسیڈیز بینز کا اسپیشل ایڈیشن تیار کیا تھا۔ کیونکہ اس کو رینالٹ کی فیکٹری میں تیار کیا گیا تھا اس لئے اس کو رینالٹ بینز کا نام دیا گیا۔یوں اس کار کی تاریخی اہمیت اور قدرو قیمت کا اندازہ لگا لیجئے جس کی ہماری کسی حکومت نے قدر نہیں کی اور نہ اس نایاب ورثے کی حفاظت کا کوئی انتظام کیا گیا۔ تصاویر میں آپ نئی رینالٹ اور اس کی موجودہ حالت زار دیکھ سکتے ہیں۔ علامہ مشرقی ایک ایسا جینئس تھا کہ جس کے نام اور کام کو ہماری درسی کتب میں ہونا چاہئے لیکن ہمارے اصل ہیروز کو کوئی نہیں جانتا۔untitled (13)

خود ہٹلر کے پاس چھ رینالٹ بینز موجود تھیں جبکہ اس نے جنرل رومیل سمیت ڈیڑھ سو افراد کو یہ کاریں بطور تحفہ پیش کی تھیں جن میں سے ایک علامہ مشرقی بھی تھے۔ علامہ کی سائنسی سوجھ بوجھ اور ماہر ریاضیات کی حیثیت سے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ کار پیش کی گئی۔ ان کو انڈیا کے بہترین دماغ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ 1970 میں بینز کمپنی نے علامہ کی فیملی کو اس کار کے بدلے پانچ لاکھ ڈالر کی پیشکش کی تھی جو علامہ صاحب کی فیملی نے رد کردی۔ اب نئی نسل کو اس بیش قیمت ورثہ کے بارے میں کچھ خبر نہیں کہ یہ کیا حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کار آج بھی اپنی اور اپنے مالک کی بے توقیری پر نوحہ کناں ہے۔ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کا فرض بنتا ہے کہ اس کار کو قومی و تاریخی ورثہ قرار دے کر اس کی مرمت و رنگ و روغن کروا کر اس کو کسی میوزیم میں محفوظ کیا جائے ورنہ کچھ عرصہ بعد یہ صرف ایک کاٹھ کباڑ کا ڈھیر رہ جائے گی۔ صحافی حضرات اس کی طرف توجہ دیں اور حکومت کی توجہ اس کی جانب مبذول کروائیں۔‘‘
یہ بات ایک حقیقت ہے کہ علامہ مشرقی وہ شخص ہے جس کے بارے میں آئن سٹائن نے کہا کہ یہ ایک جینئس ہے۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ مشرقی نے حساب کا ایک سوال جو آئن سٹائن کو بھی پریشان کرتا تھا، ایک ڈبیہ پر حل کر دیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ مشکل سوال جو علامہ مشرقی نے حل کیا وہ یہ ہے کہ انھوں نے حسابی فارمولے کی مدد سے یہ پیشن گوئی کر دی کہ مشرقی پاکستان ، کب مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو گا۔ علامہ مشرقی نے 1956ء میں منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک )میں پیش گوئی کی تھی کہ اگر مشرقی پاکستان کے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو یہ علیحدہ ہو جائے اور انھوں نے قوموں کی شدت پسندی کے بعد ابتری اور نفرت کو ایک فامولے کے تحت ماپا اور 1971کی تاریخ دی اور حیرت انگیز طور پر ان کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔
برسوں پہلے 1924ء میں علامہ عنایت اللہ مشرقی صاحب کو 36سال کی عمر میں اپنی کتاب’’ تذکرہ‘‘ پر نوبل پرائز کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن نوبل کمیٹی نے شرط یہ رکھی تھی کہ علامہ صاحب اس کتاب کا کسی یورپی زبان میں ترجمہ کرائیں کیونکہ اردو کسی ملک کی سرکاری زبان نہ تھی ور نہ ہی اسے بین الاقوامی حیثیت حاصل تھی۔ علامہ مشرقی نے اس شرط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس طرح وہ نوبل پرائز حاصل نہ کر سکے۔ اس تفسیری کتاب میں علامہ صاحب نے قران اور قدرت کے قوانین کا سائنسی تجزیہ کیا ہے۔ علامہ مشرقی صرف 25سال کی عمر میں پشاورکالج کے پرنسپل بن گئے تھے اور29 سال کی عمر میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انڈر سیکریٹری ۔ بعد میں انہیں کئی بڑے عہدے آفر ہوے جیسے افغانستان کی سفارت مگر انہوں نے اسے رد کر دیا بلکہ سرکاری ملازمت چھوڑ کر 1930ء میں خاکسار تحریک کی داغ بیل ڈالی۔ یہی ان کی زندگی کا انتہائی اہم موڑ ثابت ہوا۔ اصل میں اس کے بعد انھوں نے قرآن وحدیث کا اپنے طور پر مطالعہ شروع کیا۔ اسلاف کو بھلا کر، فہم قرآن کے بنیادی اصولوں کو پس پشت ڈال کر اور بغیر کسی رہنمائی کے کی جانے والی یہ تحقیق انہیں غیر مناسب اور گمراہ کن نتائج کی طرف لے گئی ۔ انھوں نے پیغمبروں کو بھی ایک عام لیڈر کی طرح سمجھا اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص بشارتوں اور حقوق کو عام لیڈروں کے لیے عام سمجھا ۔ یعنی وہ اصطلاحی معنوں میں خاص اور عام کا فرق نہ جان سکے۔اس کی سب سے بھیانک مثال اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے 313مجاہدین تیار کیے اور ان کے ہاتھ میں بیلچے تھما کر انھیں کہا کہ اگر بدر کے میدان میں اللہ کے رسول ہزار کافروں کو شکست دے سکتے تھے تو آج ہم ’’بدر کی فضا ‘‘ پیدا کیوں نہیں کر سکتے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم و بیش سب ’’ مجاہد ‘‘ شہید ہو گئے۔ اسی طرح انھوں پاکستان بننے کے بعد 1957میں کشمیر کو فتح کرنے کی غرض سے تین لاکھ مجاہدین اکٹھے کیے اور بارڈر پر پہنچ گئے۔ حکومت پاکستان نے بڑی منت سماجت سے انھیں واپس بلایا ۔بے پناہ مقرر تھے، اسی لیے ان کی تقریر سے متاثر ہو کر ایک شخص نے قائداعظم پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔مسلم لیگ اور قائد اعظم کے سخت ناقد تھے۔ اس لیے گرفتار بھی ہوئے لیکن پھر بے گناہ ثابت ہو گئے کہ یہ حملہ اس شخص نے خود کیا تھا۔ وہ انڈیا کی تقسیم کے حق میں نہیں تھے اور اسے انگریزوں کی سازش قرار دیتے تھے ۔ اس لیے ان پر غداری کے مقدمات بھی قائم ہوئے ۔اپنی ایسی ہی غیر متوازن سوچ کے باعث وہ قوم وملت کی کوئی قابل ذکرخدمت نہ کر سکے۔

images20MUKO38

 ان کی وصیت بھی بڑی دلچسپ تھی ۔اس کے مطابق ان کی تدفین، ان کی اپنی زمین پر ذیلدار روڈ، اچھرہ لاہور میں کی جائے اور اس پر گھنٹہ گھر تعمیر کر کے تحریر کیا جائے کہ "جو قوم وقت کی قدر نہیں کرتی وہ تباہ ہو جاتی ہے ۔‘‘ان کی نماز جنازہ میں دس لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی ۔
اس سب کچھ کے باوجود علامہ مشرقی ہمارے قومی ہیروز کی لسٹ میں شامل نہیں ۔ اس کی وجہ ہم آپ کو بتاتے چلیں۔ دراصل ہم اپنے ہیروز کو یا فرشتہ سمجھتے ہیں یا شیطان ، انسان کبھی نہیں !

علامہ مشرقی:نوبل پرائز کے لئے نامزد ، جسے ہٹلر نے اپنی کار دی !” پر ایک تبصرہ

  • فروری 14, 2016 at 12:10 PM
    Permalink

    " اسلاف کو بھلا کر، فہم قرآن کے بنیادی اصولوں کو پس پشت ڈال کر اور بغیر کسی رہنمائی کے کی جانے والی یہ تحقیق انہیں غیر مناسب اور گمراہ کن نتائج کی طرف لے گئی ۔"

    ویسے تو یہ بات یقینی لگتی ہے کہ آپ مشرقی کی کسی تصنیف کے پاس سے بھی نہ گزرے ہوں گے لیک اگر میرا یقین غلط ہے تو آپ بے شک ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ میں نے تذکرہ جان بوجھ کر مشکل انداز میں لکھی ہے تا کہ کوئی کم علم اور تنگ نظر اس کو پڑھ ہی نہ سکے ۔ تذکرہ کو سمجھنے کے لئےاس قدر بلندی نگاہ اور وسعت نظر کی ضرورت کی وجہ سے مصنف نے اسے میٹھا زہر بھی کہا تھا-

    بہتر ہے کہ بندہ کسی شخص کے بارے مں لکھنے سے پہلے اس سے کم از م اپنا قد کاٹھ ناپ لے ۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *