محبت کا تماشہ

khawaja mazhar nawaz

 فروری اپنے جوبن پر ہے. موسم بدلنے کے اشارے مل رہے ہیں. بہار آنے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں. خزاں کے سہمے، بہار کے منتظر ہیں. چہروں کی شکنیں اور دلوں کی بے ترتیب دھڑکنیں شاید بہار کے آنے سے ترتیب پا لیں. ہمارا کہنا ہے کہ موسم بدلنے سے دل ، ذہن ، سوچ اور رویے بھی بدل جاتے ہیں. بدلنے کا ارادہ اس کی شرط ہے. موسم بدل جانے پر اوقات کار بھی بدل جاتے ہیں. بہار کے برستے پھولوں کی خوشبو سے خزاں رسیدہ روحیں ، زخم خوردہ جسم اور خوابیدہ ذہن بھی انگڑائی لے کر جی اٹھتے ہیں. گلشن میں جب بہار آتی ہے، تو تمام نظارے قابل دید ہوتے ہیں. رنگ برنگے پھول ماحول کو معطر کرتے ہیں، جس سے چہرے ہی نہیں دل بھی کھل اٹھتے ہیں. فروری کا وسط آن پہنچا. فروری کے وسط میں ہی ہر سال 14 فروری کو بڑے اہتمام و انصرام سے ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے. اس روز سرخ پھولوں سے جہان سج جاتا ہے.بیش قیمت اشیاء اور پھولوں سے سجے گلدستے محبت کے اظہار کے لئے تحفے میں دیئے جاتے ہیں. سرخ ملبوسات، سرخ کارڈز، سرخ پھول اور سرخ رنگ کے تحائف پورے ماحول کو سرخا بنا دیتے ہیں. ویلنٹائن کے دن ریستوران، پارک، شاپنگ سنٹرز، تفریحی پارک اورنائٹ کلبز سرخ نظروں سے سج جاتے ہیں. یوم محبت منانے والوں کو وہاں خوش آمدید کہا جاتا ہے. اس روز محبت کے عہد ہوتے ہیں. محبت کی تجدید کی جاتی ہے. اور سب سے بڑھ کر محبت کی تشہیر ہوتی ہے. یوم محبت کے متوالے اور عیش و عشرت کے رسیا بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہاں آج بھی کثیر آبادی کے بچے بھوک سے بلبلاتے اور ادویات کو ترستے ہیں. یہاں آج بھی بچے خوف کے سائے میں سکول جاتے ہیں. یہاں آج بھی مائیں اپنے جگر گوشوں کی بخیریت سکول سے واپسی تک دعا گو رہتی ہیں. یہاں آج بھی تھرپارکر کے بچے اور چولستان کے بچے بوڑھے پانی، غذا اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں. اگر ان علاقوں میں اموات کی ماہانہ شرح کو بیان کروں تو سب کے ہوش اڑ جائیں گے. یہاں آج بھی کروڑوں معصوم فرشتے و پھول بچے محنت ،مزدوری اور مشقت پر مجبور ہیں. ویلنٹائن کے دن خوشی و مسرت کا لبادہ اوڑھے پیارے و مسرور ہم وطنو سنو! یہاں آج بھی کروڑوں افراد رات کو بھوکے پیٹ سوتے ہیں. اور سوتے میں بھی ڈرتے ہیں. یہاں آج بھی والدین بھوک کی خاطر، مکان کا کرایہ دینے کی غرض سے اور بجلی کا بل بھرنے کی خاطر بچے فروخت کرتے اور اپنے گردے بیچ ڈالتے ہیں. ویلنٹائن کے اسیر ذہنوں کے پاس سوچنے،سمجھنے اور غور کرنے کی اتنی فرصت کہاں؟ ایک لمحے کو وہ اپنی سوچ کے کینوس کو ذرا سا وسیع کر کے دیکھیں. کہ جن قوموں کی تہذیب و ثقافت کو ہم لے رہے ہیں. جن کی آزاد معاشرت کو ہم آج اپنا رہے ہیں. وہ اس آزادی سے بےزار ہو چکے ہیں. اس نام نہاد آزادی نے انہیں کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے. وہ مدہوش اب ہوش میں آنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں. جس آزادی کے ہار ہم اپنے گلے میں ڈال رہے ہیں. وہ انہوں نے اتار پھینکنے کا عزم کیا ہوا ہے. ان کے پاس آدھی روشنی ہے. وہ دین خداوندی سے محروم ہیں. ان کے پاس صرف سائنسی ترقی ہے. تمہارے پاس زندگی کی بہترین ہدایت ہے. پوری روشنی تم لے سکتے ہو. وہ اپنا پیسہ اور اپنی توانائیاں خرچ کر کے ہمیں بے راہ روی کے راستے پر بھٹکنے کے لئے دھکیل رہے ہیں. ان کی تہذیبی یلغار کے سامنے ڈھال ہم سب کو بننا چاہئے. وہ طاقتور اقوام ہی عراق، شام، فلسطین، مصر، افغانستان، لبنان اور کیوبا کا امن برباد کر چکی ہیں. ظلم و ستم کا بازار انہی ممالک کا گرم کیا ہوا ہے. آگ و بارود کا کاروبار کرنے والے یہ چند ممالک ہمیں بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں. سرخ پھولوں سے دنیا کو سجانے والے دراصل سرخ لہو کا کاروبار کرتے ہیں. محبت کا تماشہ سجانے والے دنیا کے امن کو تہس نہس کر رہے ہیں. یہ ان کی دو رنگی، دوغلا پن اور بھیانک روپ ہے. ان کے زرخرید ایجنٹ خون بہانے کا بیوپار کرتے ہیں. انسانی جانوں کے چیتھڑے ان کا رزق ہے. ہمارے سکولوں، کالجوں، مدرسوں، بازاروں اور مساجد میں ہونے والی خوں ریزیوں کے ذمے دار بھی یہی ممالک ہیں. جو ذہن سازی کے ذریعے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلنے پر تیار کرتے ہیں. ویلنٹائن ڈے منانے والوں نے کبھی سوچا کہ اس پاک سرزمین کو امن کا گلشن بننے کی ضرورت ہے. انصاف کی ضرورت ہے. احتساب کی ضرورت ہے. عدل و مساوات کی ضرورت ہے. روزگار اور خوش حالی کی ضرورت ہے. کبھی ہم نے ان بنیادی معاشرتی و سماجی ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی . کسی ایک دن متحد ہو کر امن،خوش حالی،انصاف،عدل اور مساوات کی آواز بلند کریں. کسی ایک دن کو اس منصوبہ بندی کے ساتھ منائیں کہ گلی محلوں،کالونیوں اور سڑکوں پر خجل خوار ہو کر کوڑا کرکٹ اکھٹا کر کے گھر کا خرچ چلانے والے کم سن بچوں کو سکول داخل کروائیں. اور ان بچوں کے گھر کا خرچ رضائے الہی کی خاطر اٹھائیں... مگر کہاں..ابھی تو ہمیں سرخ رنگ کی مستی نے گھیرا ہے. ہم شرم و حیا سے دور ہیں. سرخ پھولوں کہ مہک سے معطر ہیں .ہماتے ذہن اور دماغ ویلنٹائن ڈے منا رہے ہیں. اپنے گرد و پیش سے بے خبر...اپنے انجام سے بے نیاز... خواجہ مظہر نواز صدیقی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *