ویلنٹائن ڈے کا ’’تحفہ‘‘

ali
ہمارے شہر کے ایک ڈاکٹر اپنی سادہ لوحی مگر پیشہ ورانہ مہارت میں خاصے آگے ہیں اور شاید ایم بی بی ایس کی ایک’’ سادہ‘‘ سی ڈگری ان کے پاس ہے۔خود دیہاتی ہیں اور دیہاتی مریضوں کی ایک کثیر تعداد ہر وقت ان کے پاس موجود رہتی ہے۔کئی خود ساختہ بیمار صرف اس وجہ سے ان کے پاس آتے ہیں کہ انہیں ایک ہی فیس میں شہر کے کئی ’’بیماریوں‘‘ مثلا تھانہ ، کچہری اور دیگر سرکاری محکموں میں ڈاکٹر صاحب کی واقفیت سے خاطر خواہ فائدہ بھی اٹھانا ہوتا ہے۔رنگ سیاہ ہونے کی وجہ سے ہائی پوٹینسی کالے بھی انہیں ڈاکٹر کالا کہہ کر پکارتے ہیں اوپر سے منہ بھی ذرا بڑا ہے اور اسی حساب سے اس کے اندر بتیسی ہے اگر وہ اسے باہر نکال کر میز پر رکھ دیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی میڈیکل کالج کے طلبا کے لئے تجرباتی طور پر ایک ڈمی رکھی ہو...حسب عادت بوٹ اتارتے ساتھ ہی اپنی اوپر والی منزل کی بتیسی بھی اتارلیتے ہیں اور جرابوں کے ساتھ ہی نیچے والی... پھر جرابوں سے انہیں ڈھانپ دیتے ہیں تاکہ مکھیاں حفظان صحت کے اصولوں کو پائمال نہ کریں دانتوں کی کتھا سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ بچپن میں انہیں ٹا ئفائیڈ ہو گیا تھا اور تکلیف سے کراہتے ہوئے دانتوں کو ہوا لگ گئی اور دانت آہستہ آہتہ راہیء ملک عدم ہوئے ۔جوانی کی کچھ ہوا بھی اپنے وقت انہیں لگ گئی تھی جس کی وجہ سے ایک دو ڈھیٹ قسم کے دانت بھی جانبر نہ ہو سکے اوروہ لوگوں نے نکال دیے۔ کچھ ہوا دماغ کو بھی جا لگی مگر وہ تو نہ نکل سکا مگر اپنے ساتھ عقل داڑھ سمیت فرار ی ہو گئی....اب انہوں نے اپنا عقلی شوق بتیسی میں سونے کا دانت لگا کر پورا کر لیا ہے اور انہیں کافی ’’فرق‘‘ ہے ۔جس مثال یہ ہے کہ مریض کے منہ میں تھرمامیٹر دے کر پوچھتے ہیں ماما سارا شہر چھوڑ کر صرف تجھے بخار کیوں چڑھا۔گھٹنے پر سٹیتھ رکھ کر کہہ رہے ہوتے ہیں ’’ یہاں سے کوئی درد آواز سنائی نہیں دے رہی‘‘مگر ایک اچھی بات ... ڈاکٹر صاحب نے دل میں ’’guilty‘‘ محسوس کرتے ہوئے اپنی آمدنی کا آپریشن بھی کیا ہے اور پورا ٹیکس ادا کیا ہے لہذا ان کی یہ اداء ضرور بھلی ہے۔۔۔
ایک دن میں ان کے پاس بیٹھا تھا گاؤں سے ان کے ایک شناسا مرض کی حالت میں اپنی ٹریکٹر ٹرالی میں پیٹ پر ہاتھ رکھے، ان کے پاس آئے انہوں نے کھڑکی سے ہی انہیں دیکھ لیا اور کہا دیکھو چوہدری نمبر دار صاحب آئے ہیں انہیں پیٹ کی پرانی تکلیف ہے اور اس وجہ سے حکومت نے انہیں میانی صاحب میں چھ فٹ اراضی دینے کا وعدہ بھی کر لیا ہے انگریز بھی انہیں دس نمبر ی نمبر دار کہا کرتا تھا۔مری میں برف کا ذاتی کارخانہ رکھا۔۔۔اتنے میں چوہدری صاحب کلینک کے اندر’’ داخل ‘‘ہوئے ڈاکٹر صاحب نے خیرمقدمی کلمات سے ان کااستقبال کیااور فوری استفسار کیا کہ چائے استعمال کریں گے یا ٹھنڈا؟انہوں عقل استعمال کرتے ہوئے کہا کہ چائے تومیں کھانے کے بعد پیتا ہوں پہلے ٹھنڈا منگوا لیں...ڈاکٹر نے فوری انڈوں کی یخنی، مچھلی کے پائے اور گرم گرم آئیس کریم سے ان کی تواضع کی ...یہ ساری خدمت چوہدری کے بے تکلفانہ جملے کی وجہ سے ہوئی...یہ سب نوش فرمانے کے بعد چوہدری نے کہا کہ ان کا پیٹ کافی عرصہ سے خراب ہے ڈاکٹر نے دواء لکھ دی اور ساتھ ہدایت کی کہ اپنا سٹول یعنی پاخانی ٹیسٹ بھی ٹیسٹ ضرور کروا لیں...چوہدری کہنے لگا اچھا ضرور... اور ساتھ ہی ڈاکٹر سے فرمائش کی گاؤں سے آتے ہوئے دو تین کلو دیسی گھی بھی لیتے آئیں...چوہدری نے کہایہ کون سا کام ہے ڈاکٹر صاحب؟...ڈاکٹر گویا ہوئے کہ ہم پرانے لوگ دل کے کتنے اچھے ہوا کرتے تھے ہمارے زمانے میں پولیس نے اگر کسی پر انگلی رکھنا ہوتی تو سارا گاؤں نہایت تعاون کرتے ہوئے اسے خود پولیس کے حوالے کر دیتا...بلکہ کئی دفعہ اگرچور پکڑا بھی جاتا تو اس کی منت سماجت کرکے بھینس واپس لی جاتی تھی ...چوہدری نے کہا ہمارے دور کے چند لوگ رہ گئے ہیں جوقول فعل اور وعد ے کے پکے ہیں ورنہ آج کل کی نسل ؟ کل میرے بھتیجے نے ایک پانڈا مجھ لا کر دیا اور کہا کہ چاچا و یلنٹائن والے دن اگر آپ اسے دباؤ گے تو اس کے اندر سے چاکلیٹ نکلے گی میں نے کل ہی اسے چپکے سے دبا دیا تو اندر سے بغیرپیکنگ کھلی چاکلیٹ نکل آئی لیکن بدتمیزی کی انتہا یہ ہے کہ جہاں سے یہ نکلی میرا دل چاہتا ہے کہ وہیں اسے ڈنڈ ے رسید کروں ...اور مزید یہ کہ اب اس نے میرا نام بھی چوہدری چاکلیٹ رکھ دیا ہے ۔ اگلے دن چوہدری ایک سلور کا روائیتی سا ڈبہ ہاتھ میں لیے ٹرالی سے اترے ...ڈاکٹر نے کھڑکی سے ہی چوہدری کو دیکھ لیا ۔ڈاکٹر نے کرسی چھوڑ کر چوہدری کا استقبال کرتے ہوئے کہا دیکھا یہی ہمارے پرانے لوگوں کو وعدے ہیں ۔چوہدری نے ڈبہ ڈاکٹر کی میز پر دھرتے کہالیجئے ! یہ آ گیا ہے آپ مزید شرمندہ نہ کریں ایک مریض ہونے کے ناطے یہ میرا فرض تھا...ڈاکٹر نے شکریہ ادا کیا اور اپنے ڈسپنسر کے کان میں کہا کہ اسے فورا گھر چھوڑ آؤ...اور ساتھ کھانے کا کہا اور پہلے والی مینو دھرائی...دو تین گھنٹے گزرنے کے بعد چوہدری نے ڈاکٹر سے اجازت طلب کی اور جاتے ہوئے کہا کہ اپنی نرس کو کہیں کہ کل مجھے میرے پاخانے کی رپورٹ ضرور دے دے...ڈاکٹر کے ناک کے ساتھ کان بھی کھڑے ہوئے ...اتنے میں ڈاکٹر کے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ۔ڈاکٹر کی رنگت سے لگ رہا تھا کہ ان کی بیگم کا فون ہے جو یہ کہہ رہی تھی ’’ویلنٹائن ڈے پر یہ تحفہ ؟‘‘سارا گھر بدبو سے...ڈاکٹر نے چوہدری سے آنکھوں کے اشار ے سے پوچھا اؤئے !ڈبے میں کیا تھا ؟چوہدری نے پیٹ پر ہاتھ رکھتے کہا آپ کو گھی کی پڑی ہے میں تو ٹیسٹ کی غرض سے اپنا .....!!!

Back to Conversion Tool

ویلنٹائن ڈے کا ’’تحفہ‘‘” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *