جی ! بسم اللہ !!

Dr.Azhar waheed

درویشوں کے تکیوں پر جانے والے بخوبی جانتے ہیں ‘ درویشوں کا تکیہ کلام ہوتا ہے ۔۔۔ جی ! بسم اللہ!! وہ اپنے ہرکام اور کلام کا آغاز اپنے سچے رب کے نام سے کرتے ہیں۔ وہ خود میں سے خود کو نکال لیتے ہیں اور باقی جو بچتا ہے ‘ وہ اللہ ہے ۔۔۔اللہ ہی اللہ ! اسم اللہ جس کی تکیہ گاہ ہے‘ وہ ایک چلتی پھرتی خانقاہ ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ فرمایا کرتے ’’ جو لوگ اللہ کی تلاش میں نکلتے ہیں ‘ وہ انسان تک ہی پہنچتے ہیں، اللہ والے انسان ہی تو ہوتے ہیں‘‘۔ مراد یہ کہ اللہ کا متلاشی کسی اللہ والے تک پہنچتا ہے۔
زندگی میں انسان بہت سے لوگوں کے درمیان رہتاہے‘ بسر کرتاہے لیکن چند انسان ہی ایسے ہوتے ہیں ‘ جن سے وہ ہم کلام ہوتا ہے اور اپنے وقت اور وسائل کا حصہ اُن کیلئے وقف کرتا ہے۔ اس طرح کتابوں میں بسر کرنے والا بھی بہت سی کتابوں میں گھرا رہتا ہے لیکن چند ایک ہی اسے اپنی جانب متوجہ کرپاتی ہیں۔ ہم ہرملنے والے کا تذکرہ نہیں کرتے لیکن کچھ لوگ ایسے ضرور ملتے ہیں جن کا تذکرہ ہم اپنے دوستوں کے درمیان ضرور کرتے ہیں۔ یہی حال کتابوں کا ہے۔ کچھ کتابیں بھی ہم سے اس طرح ہم کلام ہو جاتی ہیں کہ ہم اُن کاتذکرہ اپنے حلقے میں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انسان بھی ایک کھلی کتاب ہے ‘ پڑھنے والے لوگ کم ہیں۔ کتابِ زیست میں ہر انسان ایک آیت کی طرح ہے۔ وہ ایک نشانی ہے ۔۔۔ اور نشانیاں دیکھ کرلوگ اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ انسان ایسی مقدس کتاب کی تلاوت کرنے کیلئے پہلے باوضو ہونا ہوتا ہے۔ وضو ایک آسمانی راز ہے ۔ اپنے شعور اور تفکر کے ہیولے کو کہنیوں سمیت اپنے مزاج اور مفاد کی میل سے پاک کرنے والا باوضو ہوتا ہے ۔۔۔ اور ایک باوضو انسان ہی کتابِ ہستی کی تلاوت کا اِذن حاصل کرپاتا ہے۔
اس وقت میرے سامنے ڈاکٹر اختر شمار کی کتاب ’’جی ! بسم اللہ ‘‘ کھلی ہوئی ہے ، مجھے اس میں اخترشمار کو پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ پہلی ملاقات تھی لیکن ایسے معلوم ہوا‘ جیسے ہم بچپن کے ہمجولی ہیں۔ تکلف اور تصنع نام کی کوئی شئے درمیان میں حائل نہ تھی۔ پہلے فیس بک پر ملاقات رہتی ، اب فیس ٹو فیس ہوئی۔ اُن کا نام تو کافی عرصے سے ادبی حلقوں میں سنتے چلے آئے تھے لیکن کام سے پہلی بار تعارف ہوا۔ درویشوں کے ساتھ ملاقات پر مبنی چند مضامین پر مشتمل اِس کتاب کی تاثیر ایک خوشبو کی طرح ہم دوشِ خیال ہوگئی ۔ دراصل صوفیوں ، درویشوں اور پاک طینت راہِ حق کے مسافروں کی تلاش اسے ہی لاحق ہوتی جو خود ایک مسافر ہو۔ لوگ مسافر اور مقیم کے درمیان فرق پوچھتے ہیں۔ مسافر کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ بے ضرر ہوتا ہے، ظاہر ہے‘ جسے ایک لامتناہی سفر درپیش ہو ‘ وہ پلیٹ فارم پر جھگڑا کرنا افورڈ نہیں کر سکتا۔ جھگڑا مفادات کا گھوڑا آگے بڑھانے پر ہوتا ہے۔ اسلئے جھگڑالوآدمی قدم قدم پردوسروں کیلئے ضرور رساں ثابت ہوتا ہے۔ ایک سچا اور سُچا مسافر راستے میں اپنے مفادات کا چھابا نہیں لگاتا ۔ وہ اپنے رب کے نام کا لگایا ہوا رنگا رنگ میلہ دیکھنے نکلا ہے، وہ میلے میں اپنے نام کا ٹھیلہ نہیں لگاتا۔میلہ دیکھنے کیلئے میلے کا حصہ بننے سے احتراز ہی نہیں‘ انکار بھی لازم ہے۔میلہ وہی دیکھ پائے گا جو میلے کا حصہ نہ بنے۔ میلہ دیکھنے والا ’’بازار سے گزرا ہوں ‘ خریدار نہیں ہوں‘‘ کا مدھرراگ الاپتا ہوا دنیا کے جھمیلوں سے نکل جاتا ہے۔دراصل مسافر کو دوسروں سے زیادہ اپنی اصلاح کی فکردامن گیر ہوتی ہے۔ وہ ہر لمحہ اپنے علم اور عمل کے درمیان بُعد کو دیکھ دیکھ کر لرزتا رہتا ہے ‘ اسے ہر لحظہ ایک دھڑکا سالگا رہتا ہے ‘کہیں اسے مخلصین کی فہرست سے خارج ہی نہ کر دیا جائے۔ اسے اپنی نگہداری ہی سے فرصت نہیں ملتی کہ وہ مخلوق پر خدائی فوجدار بنے۔ یہ نہیں کہ وہ اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اَمر کا منکر ہوتاہے ۔۔۔ بلکہ وہ جانتا ہے کہ ’’ہر شخص ایک راعی ہے اور اُس سے اُس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا‘‘۔۔۔ اِس لیے وہ اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر کو اپنی رعیت کے دائرے میں نافذکرتا ہے۔ اپنے اختیار اور احتساب کے دائرے سے باہر نکل کر تحریکوں اور جماعتوں کا بے نام حصہ بن کر وہ تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ نہیں بنتا۔ بے وضو آدمی اصلاحی اور دینی تحریکوں کو سیاسی جلسے جلوس کی شکل دے کر ہر شام لوٹ کے گھر آجائے گا۔ جب تک سماعت ہمہ تن گوش نہ ہو ‘ اصلاحی مہم کی فصیح البیانیاں کیا کام کریں گی۔درویش ہمارے تن من اور دھن کو پاک اور پوتر کرتا ہے ۔۔۔ تاکہ ہماری سماعتیں کلامِ حق سننے کی اہل ہو جائیں۔ درویش ہماری تنہائیوں کو آباد کرتا ہے۔۔۔ تاکہ ہماری محفلیں برباد ہونے سے بچ جائیں۔ ہمارے ایک دوست خواجہ محمدیوسف (مرحوم) نور والوں کے ڈیرے جایا کرتے ‘ وہ بتاتے کہ سائیں فضل شاہؒ ؒ فرماتے ’’زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے ، اِس کامطلب یہ ہے کہ زکٰوۃ دینے کے بعد مال پاک ہوگیا ہے ، اب اللہ کی راہ میں خرچ ہونے کے قابل ہوگیا ہے‘‘۔ ظاہر ہے’’ قُلِ العَفو‘‘ کا مفہوم قانون متعین نہیں کرسکتا‘ صرف ایک تزکیہ شدہ نفس ہی اس کے معانی پراِس طورعمل پیرا ہوسکتا ہے کہ واَقرضو اللّٰہ قرضاً حسناًکی ندائے آسمانی پر لبیک کہنے کی سعادت کو پہنچے۔
ڈاکٹر اختر شمار سے ملاقات کے دوران میں مجھے اپنا ایک تھیسز یادآیا ، بلکہ اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔واقعہ یوں ہے کہ ہر ذی فہم نوجوان جب تفکرو تدبر کے زینے پرپہلاقدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے سائینس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، وہ اَسباب و نتائج کی کڑیاں جوڑتاہوا بے سند روایات کی اندھی تقلید کے جبر سے آزادی حاصل کرلیتا ہے۔ اگر اُس کے غور و فکر کا سفر جاری رہے تو بہت جلد وہ سائینس کی تنگنائے سے تنگ آجاتا ہے اور فلسفے کی وادئ کشادہ کی راہ لیتا ہے۔ اسباب و نتائج کا کھیل اسے صرف مادّے تک محصور رکھتا ہے اور انسانی شعور کی جولانگاہ مادّہ ہر گز نہیں۔ فلسفے میں کھل کھیلنے کے بعد اسے فلسفے کی کم مائیگی بھی مالش کرنے لگتی ہے، یہاں سے وہ شعر واَدب میں پناہ لیتا ہے۔ ظاہر ہے ایک شعر اور مقولہ بہت سے طویل اور بھاری بھر کم فلسفیانہ عنوانات کوایک سانس میں نگل لیتا ہے۔ ادب میں لطف و انبساط اور داد لینے کے بعد بھی مسافرکو سفر کی لٹک چین نہیں لینے دیتی ۔ یہاں سے وہ بالعموم تصوف کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ صوفی کاطرزِ فکر سائینسی ہے ، اس کا زاویۂ نگاہ فلسفیانہ ہے ، اس کا طرزِ کلام ادیبانہ ہے اور اس کے شعور کاسفر۔۔۔جسم سے روح کی طرف ، ظلمت سے نور کی طرف اور۔۔۔مخلوق سے خالق کی طرف بحکم فَفِرو اِلی اللّٰہ رواں دواں ہے۔ یہاں پر وہ کسی بابے کے ہاں ڈیرے ڈال لیتا ہے۔ زمان�ۂ طالبعلمی کے دوران ۱۹۸۷ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے تھرڈ ائر میں شائع ہونے والی میری کتاب ’’پہلی کرن ‘‘میں ایک جملہ لکھا تھا’’ فلسفہ حقیقت کی تلاش کا نام ہے اور تصوف رابطے کا نام‘‘۔ آپ متعجب نہ ہوں ، اورنہ معترف ۔۔۔درا صل یہ کتاب اس طالب علم نے طالبِ واصف ؒ ہونے کے بعد لکھی تھی۔اس کتاب کا شرف یہی کہ حضرت واصف علی واصفؒ کی اصلاح اور اِذن کے بعد منظرِ عام پر آئی تھی۔ اب کتابوں کی بات چل نکلی ہے تو ایسے میں مصنف بھی شاعر کی طرح تعلی پر مجبور ہوجاتا ہے۔بشری تقاضا سمجھ کر درگزر کیجیے گا۔’’پہلی کرن‘‘کا ایک نمائندہ جملہ سنائے بغیر رخصت نہ لوں گاکہ اس جملے نے بڑے دقیق فلسفیانہ بلکہ دہریانہ معرکوں میں بہت دُور تک ساتھ دیا، جملہ یوں تھا: ’’یہ کائنات ایک حادثہ نہیں ہے ۔ حادثے میں اس قدر حسن نہیں ہوسکتا۔۔۔ کیونکہ حسن ‘ حسنِ ترتیب کا نام ہے اور حادثہ کسی ترتیب کے بکھر جانے کا نام!!‘‘۔ اُس زمانے میں ہم سائینس ، فلسفہ اور اَدب کی وادیوں کی سیرکرتے ہوئے بابا جی واصف علی واصفؒ تک پہنچے تھے اور پھر وہیں کے ہورہے۔ ڈاکٹر اختر شمار نے بتایا کہ وہ اَسّی کی دہائی میں شام نگر میں مقیم تھے اور وہاں سے ۲۲ فردوس کالونی گلشنِ راوی چند کلومیٹر کے فاصلے پرتھا،لیکن قبلہ واصف صاحب ؒ سے ملاقات نہ ہوسکی۔ کہنے لگے ‘ دراصل میں اُن دنوں ملتان کے ایک بابا جی کی زلف کا اَسیر ہوچکا تھااوراِس اَسیری میں سیری ہی اس قدر تھی کہ مزید کسی طلب سے بے نیاز سا ہوگیا ۔ اختر شمار کا یہ اعتراف اُس کی بابا شناسی کی ایک سند ہے۔ ادبی حلقوں میں متحرک رہنے والا نوجوان آخر کس شاعراور ادیب سے بے نیازرہا ہوگا۔ اگر وہ جغرافیائی قربت کے باوجود بھی ملاقات سے دُور رہا تو اَس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شمار نے واصف علی واصف ؒ کو شاعروں ادیبوں اور کالم نگاروں میں شمار نہ کیا بلکہ وہ انہیں ایک بابا جی کے پیڈسٹل پر دیکھ رہا تھا۔ممکن ہے‘ رعبِ ولایت نے اسے ملاقات سے مانع رکھا۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے واصف صاحب قبلہ ؒ نے شاید اُس کی طرف اذنِ ملاقات کی کمند اِس لئے نہ پھینکی ہو کہ طالب علم آوارگی سے نکل کر ایک درس گاہ میں داخل ہو چکا ہے، وگرنہ لاہور میں کون سا طالبِ علم و اَدب تھا جوفیضانِ واصف ؒ سے سیراب نہ ہوا۔ مدعا یہ کہ مدعائے ملاقات واضح ہو تو ملاقات کی چنداں حاجت نہیں رہتی۔
وہ لوگ جو کہتے ہیں‘ اشفاق احمد کے بعد اَدب میں بابوں کا تذکرہ نہیں ملتا ‘ ’’جی بسم اللہ‘‘ پڑھ لیں۔ اُردو اَدب کو لوک دانش سے مزین کرنے کی روایت جاری ہے۔ دراصل کوئی ورثہ ختم نہیں ہوتا۔قافلے محوِ سفر رہتے ہیں۔ حُدی خوان بدل جاتے ہیں‘ سفر جاری رہتا ہے۔ مرحوم اشفاق احمد خود کو تصوف کا جرنلسٹ کہا کرتے ، اختر شمار طالب ہے۔ یہ خود نہیں کہہ رہا ‘ اس لیے ہم کہہ رہے ہیں۔ہمارے واصف علی واصف ؒ فرمایا کرتے ’’ راستہ جاننے اور راستہ طے کرنے میں فرق
ہوتا ہے‘‘۔ اختر شمار اِس فرق کو ختم کرنے کی مہم پر گامزن ہے ۔ڈاکٹر اختر شمار صاحب ! جی ! بسم اللہ !!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *