مدینہ منورہ میں " وادی جن" کی حقیقت

(بشکریہ: افتخار الحسن الرضوی)

wadi jin

 

 

 

اہلِ اسلام کا طریقہ  رہا ہے کہ وہ ہر کام اور عمل سے قبل فکر  کرتے ہیں، کسی بھی کام کو انجام دینے سے قبل  اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا، اس کے حقائق جاننا، ماخذ و ابتداء ، اس کی سند اور تصدیق وغیرہ کرنا۔ تاکہ کسی قسم کی ہزیمت گمراہی  یا تکلیف سے بچا جا سکے۔   اسی طرح اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام  کی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ  جب  کوئی خبر سنو،  یا کوئی عمل کرو تو پہلے اس کی سند دیکھو،  تصدیق کرو اور سنی سنائی باتوں پر یقین نہ رکھو۔   انتہائی افسوس ناک عمل یہ ہے کہ  برصغیر میں مسلم معاشروں کی اکثریت ایسی ہے جو رواج،  رسم ،  بدعات اور خود ساختہ عقائد  اور معاملات    پر یقین رکھتے ہیں ۔  کہیں کوئی پہاڑ مقدس سمجھ لیا جاتا ہے،  کہیں کسی درخت کو "بابا جی"  کا سایہ سمجھ کر ہار پہنائے جاتے ہیں۔   ایسی ذہنیت کے لوگ تحقیق و تفتیش اور ان اشیاء کی تاریخی حیثیت جاننا تو دور کی بات اس پر کوئی صحیح رائے سننے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے۔  بالکل یہی حالت کفارِ مکہ کی تھی جو رسولِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری،  واضح احکامات اور شریعت آجانے کے باوجود یہ کہہ کر رد کر دیتے تھے کہ ہم نے اپنے بڑوں سے یہی سیکھا ہے اس لیئے پیغامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ ہے۔  معاذ اللہ عزوجل۔

اس کے بر عکس عرب معاشرے جن میں شام، لبنان، اردن، فلسطین، مصر اور خلیجی ممالک شامل ہیں ، کے لوگوں میں حقائق جاننے کی جستجو ہے۔  وہ  کسی پتھر کو اتنا متبرک ہرگز نہیں جانتے کہ اس کو سجدہ گاہ ہی بنا لیں۔  اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت قبولِ اسلام سے قبل  ہندو مذہب سے متعلق تھی،  جہاں بتوں کی پوجا،  درختوں کو مقدس جاننا،  جانوروں اور چوپایوں کو  حصولِ برکت کا باعث سمجھنا،  محرم کا خیال کئیے بغیر مرد و عورت کا  اختلاط اور مذہبی معاملات میں حد درجہ توہمات و بدعات کا شدت سے پایا جانا۔۔۔

انہی وجوہات اور پس منظر  کی بنا پر  اس معاشرے کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بھی   شرک پر مبنی ہندو مذہب، ہندو قوم اور معاشرے کے اثرات سے خود کو رنگے رکھا۔ خصوصاً دیہاتی علاقوں میں اس کے واضح اثرات نظر آتے ہیں۔

مقصود و مطلوب ِ مضمون  "وادی جن"  جس کا تاریخی نام " وادی بیضا" (بعض جگہوں پر اس کا نام "بیداء" بھی لکھا گیا ہے)   جو کہ شہر رسول مدینہ منورہ سے باہر نکلتے ہوئے،   احد کے   بائیں  طرف  جاتے ہوئے قبلتین سے قبل  دائیں  طرف پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ویران علاقے میں واقع ہے، جہاں اس وقت تک کوئی انسانی آبادی نہیں ہے۔   یک طرفہ سڑک، کھجوروں اور دیگر زرعی اجناس کے باغات سے سڑک کی دونوں اطراف سبز بہاروں کا منظر پیش کرتی ہیں۔  اونچ نیچ  اور سطحی طور پر غیر ہموار اس راستے پر آپ کو اکثریت پاکستانی، ہندوستانی یا مشرقی معاشروں سے تعلق رکھنے والے زائرین کی ہی نظر آئے گی۔  یہ سڑک ایک ایسے مقام پر جا کر ختم ہو جاتی ہے جہاں ایک گول چکر بنا ہوا ہے ۔   اس چکر کی تین اطراف میں  دیوار نما پہاڑ جو قربِ قیامت کے مناظر کی عکاسی کرتے ہیں  اور طرفین میں وسیع کھلے میدان  جہاں سیاحتی  شوق رکھنے والے خیموں میں  کیمپنگ کرتے ہیں۔   نیم صحرائی شکل کی موافق الماحول  اس وادی میں   وقت گزارنا انسان کی قلبی  رومانویت اور ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔  تاہم وقت کے تنگ دامن نے مجھے آج تک یہاں  خیمہ زن ہونے کی اجازت نہیں ۔

اس وادی کے مشہور کرامت یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہاں گاڑی بغیر قوت کے  کئی کلو میٹر تک چلتی ہے،  پانی سڑک پر گرائیں تو وہ مخالف سمت میں اونچائی کی طرف جاتا ہے ،  مدینہ منورہ کی طرف گاڑی کا رخ کریں تو گاڑی خود بخود  تیز رفتار سے بھاگنا شروع کر دیتی ہے اور رفتار 130 کلو میٹر فی گھنٹہ تک چلی جاتی ہے، یہ تجربہ حال ہی میں میری گاڑی کے ساتھ بھی ہوا، بذاتِ خود میں نے اپنی گاڑی کو وہاں لے جا  کر تجربہ کیا جو یقیناً حیران کن اور خوشگوار تجربہ تھا۔ ۔۔ توہمات  پر یقین رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جنؔات کی طاقت ہے ، یا کوئی مرئی مخلوق ہے جو گاڑی کو یہاں سے واپس مدینہ منورہ کی طرف دھکیلتی ہے تاہم مجھ جیسے روحانی علوم کے طالب علم کو وہاں پر جنات کی کوئی  ایسی طاقت نظر نہیں آئی جس کو بنیاد بنا کر اس وادی کو جنّات کا مرکز قرار دیا جائے۔

لاعلمی اور جہالت پر مبنی اقوال و قصے یہ ہیں کہ  مدینہ منورہ پر دشمنانِ اسلام نے حملہ کیا تھا، اس حملے کو روکنے کے لئیے اللہ تعالٰی نے جنات کو حکم دیا اور کفار کا وہ لشکر جنات کی ہوائی طاقت کی وجہ سے واپس پلٹا دیا گیا تھا۔  کچھ لوگوں کو یہ افواہ پھیلاتے ہوئے سنا گیا کہ  کفار گھوڑوں پر سوار ہو کر حملہ آور ہوئے تھے، جس طرح آج گاڑی خود بخود وہاں چلتی ہے بالکل ویسے ہی  جنات نے ان گھوڑوں کو وہاں سے ہوائی طاقت کے ساتھ واپس بھگا دیا تھا۔ ان تمام باتوں کا تاریخ کی کسی کتاب میں کوئی ایک حوالہ بھی موجود نہیں!!! کم علمی اور علم دشمنی  کا یہ حال ہے کہ ہمارے لوگ  پوری ڈھٹائی سے اس بات کو پھیلاتے جا رہے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کے ان  غلط معلومات کا کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے۔  حق تعالٰی  ہم سب کو علمی تحقیق کی ہمت   و توفیق بخشے۔ آمین

اس  اہم مسئلہ کی تحقیق اور تفتیش کے لئیے میں نے  جیؔد علماء  سے رجوع کیا مگر  اس وادی اور مقام کے بارے مشہور تمام باتوں کو غیر مستند پایا۔    تاہم چند روایات جو کتبِ احادیث اور تاریخ میں موجود ہیں وہ موجودہ قیاس آرائیوں اور افواہوں سے بالکل مختلف و متضاد ہیں۔   اس وادی کے بارے ایک تاریخی واقعہ جو کہ بسند موجود ہے وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ہار کا  اس وادی میں گم ہونا ہے۔  اس کے علاوہ کوئی تاریخی واقعہ اب تک یہاں پیش نہیں آیا۔  سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گمشدہ  ہار کے بارے   مکمل بحث کتب ِ تاریخ  میں موجود ہے جس کا یہاں درج کیا جانا  غیرِ متعلقہ ہے تاہم اس ہار کی گمشدگی کا مقام یہی وادی ِ بیضا ہی ہے۔

اس وادی کے حوالے سے   ایک روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ

"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا، جب وہ مقام بیضاء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا   یا رسول اللہ  علیہ الصلاۃ والسلام ، وہ شروع سے آخر تک سارے کے سارے کیوں دھنسا دئیے جائیں گے حالانکہ وہاں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکر والوں میں سے نہیں ہوں گے؟  آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ہاں شروع سے آخر تک سارے کے سارے زمین میں دھنسا دئیے جائیں‌گے پھر اپنی اپنی نیت کے مطابق ہر کوئی اٹھایا جائے گا۔

(بحوالہ  ۔ بخاری کتاب البیوع: باب ما ذکر فی الاسواق)

اس سے ملتی جلتی روایات کچھ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ حضرت نافع بن جبیر ، ام المؤمنین سیدہ امِ سلمٰی اور حضرت   عبید اللہ بن قبطیہ  رضی اللہ عنہم  سے مروی ہیں، امام مسلم  رضی اللہ عنہ نے اسے    کتاب الفتن میں نقل فرمایا ہے۔

اب تک کی اس بحث  سے ایک بات تو قطعاً ثابت  اور محسوس ہو رہی ہے کہ  اس کا افواہوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں مشہور روایات کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے کیونکہ  کتب ِتاریخ و احادیث اس بارے کچھ نہیں کہتیں۔۔۔۔ تو پھر یہ کیا ہے؟؟؟

سائنس، طبیعیات اور ارضیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ  یہ کششِ ثقل کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔  کششِ ثقل وہ قوت ہے جس سے کمیؔت رکھنے والے اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، سادہ لفظوں میں یہ ایک ایسی قوت ہے جس سے زمین تمام اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔  اس سلسلے میں نیوٹن کا عالمی تجاذبی قانون اور  آئن سٹائن کا نظریہ اضافت قابلِ ذکر ہیں ۔  اس قانون کے تحت  زمین  کے اندر یہ قوت  اس شدت سے موجود ہے کہ یہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جوں جوں اجسام زمین سے دور ہوتے جائیں ان کا وزن کم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  ہزاروں ٹن کا وزن اٹھا کر ہوائی جہاز فضا میں بلند ہو کر تیز ترین رفتار سے اڑ سکتا ہے۔   جب ہم کسی چیز کو فضا یا خلا میں اچھالتے ہیں تو وہ چیز واپس زمین کی طرف انتہائی سرعت کے ساتھ واپس آتی ہے۔

وادی جن یا وادی بیضاء جو اس وقتِ موضوع بحث ہے اس میں جنات، ہوا  کسی مرئی طاقت کا اسلامی کتب میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔  اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کششِ ثقل کی وجہ سے ایسی حرکت وجود پاتی ہے؟؟؟

میرا اس سے بھی اختلاف ہے!!!  اگر یہ کششِ ثقل کی وجہ سے ہے تو پھر اس کشش کا اثر صرف گاڑی یا مائع مواد پر ہی کیوں؟  گاڑی کی رفتار 130 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے مگر اسی سرزمین پر کھڑے انسانوں پر اس کشش کا اثر کیوں نہیں ہوتا؟  کششِ ثقل، نیوٹن اور آئن سٹائن کے نظریات و قوانین کا اطلاق ہر جسم  بشمول انسان پر ہوتا ہے۔۔۔ زمین کے اس مخصوص حصے اور مدار میں  خود میں نے دیکھا کہ وہ صرف گاڑیوں اور مائع مواد کو حرکت دیتی ہے۔۔۔انسانی اجسام پر اس کا  بالکل کوئی اثر نہیں ہے۔

تحقیق و فن میں کوئی بھی چیز حرفِ آخر نہیں ہے۔۔۔ اگر سائنسی بنیادوں پر کام کیا جائے تو یہ سرزمین   کئی راز اگل سکتی ہے۔   اللہ کرے  البیرونی کے وارث   ثقافت و سلطنتِ اسلامیہ کے اس مقدس دارالحکومت  کے جوار میں واقع اس سائنسی و تاریخی مقام پر تحقیق کریں تاکہ  اس معمؔہ  کو حل کیا جا سکے!!!   علمی تشنگی رکھنے والوں کی طرح میں بھی منتظر ہوں کہ اگر تاریخی، اسلامی اور ارضیاتی علوم اس وادی کے بارے میں خاموش ہیں تو پھر حقائق کیا ہیں؟    اللہ تعالٰی ہماری مدد فرمائے اور ہم اس بارے کسی  نتیجہ پر پہنچ سکیں۔

اس کالم کی اشاعت کا بنیادی مقصد اس وادی کے بارے میں مشہور گمراہ کن خیالات اور روایات کا ردؔ کرنا تھا تاکہ عوام الناس حقائق سے آگاہ ہو جائیں کہ جھوٹ پر مبنی ان روایات کا اسلام اور تاریخ سے کئی تعلق نہیں ما سوائے وہ حدیث شریف  جو نقل کر دی گئی۔

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب ۔ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ واصحابہ وبارک وسلم

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *