مشرف محض جمہوریت کا مجرم نہیں

imad

کرہ ارض پر شاید ہی کوئی ایسا ملک واقع ہو جہاں لاتعداد جرائم میں ملوث ایک بد ترین آمر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونے کے بجائے آرام سے اپنے محل میں رہتا ہو اور کمال ڈھٹائی سے ٹی وی چینلز پر آ کر حکومت اور سیاسی جماعتوں کو اخلاقیات اور گورننس کے لیکچر دیتا ہو. ایسا شخص جو ملک کے آئین کو ہی روند کر رکھ دے منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹ کر اسے جیل بھیج دے .ملک کی اعلی عدلیہ کے ججز کو نظر بند کر دے .ملک میں بسنے والے افراد کو امریکہ کے ہاتھوں چند ڈالرز کے عوض فروخت کر دے. ملک کو ایک نا ختم ہونے والی جنگ میں صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے جھونک دے. بلوچستان کے سیاسی رہنماوں اکبر بگتی اور بالاچ مری کو دن دیہاڑے قتل کر دے. ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنا کر مسنگ پرسن بنا دے. اسلام آباد میں ایک مسجد پر لشکر سمیت چڑھ دوڑے اور برین واش کیئے ہوئے یتیم بچوں پر فاسفورس بم گرائے. کراچی میں وکلا کو زندہ جلانے کے واقعے کے بعد ہوا میں مکہ لہراتے ہوئے بولے کہ یہ ہے میری طاقت.بینظیر بھٹو جیسی رہنما کو دھمکیاں دے اور اس کے قتل میں بھی ایک مشتبہ اور مشکوک ملزم ٹھہرایا جائے جب وہ کسی جمہوری حکومت یا وزیر اعظم کو محب وطنی پر لیکچر دے یا پھر سے اپنے ادارے کی پشت پر سیاست کے میدان میں اترنا چاہے تو یقینا حیرت کے ساتھ دکھ بھی ہوتا ہے. مشرف نے جس بھونڈے انداز میں گزشتہ دنوں ٹی وی چینلز پر انٹرویو میں جمہوری رہنماوں کو غدار قرار دینے کی کوشش کی اور پھر اس کے چمچوں نے جس طوفان بد تمیزی سے ایک منظم میڈیا کمپین سیاستدانوں کے خلاف چلانے کی کوشش کی وہ انتہائی قابل مزمت ہے. وہ نام نہاد بہادر کمانڈو جس کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں اور وہ کبھی فوج کے ہسپتال میں چھپ کر پناہ لیتا ہے تو کبھی جھوٹے میڈیکل سرٹیفیکیٹ عدالت میں پیش کرتا نظر آتا ہے ایسے بزدل شخص کے منہ سے یقینا بہادری کے قصے سننا شیخ چلی سے بے پرکیاں سننے کے مترادف ہے. جب مشرف جیسا آمر عوام کے حقوق کی بات کرے اور غداری و محب وطنی کے سرٹیفیکٹ دیتا نظر آئے تو نجی ٹی وی چینلز کے پاس تحقیقی اور تخلیقی مواد کی کمی اور خبروں کے نہ ہونے کا واضح ثبوت ملتا ہے.ساتھ ہی مارشل لا کا خواب دیکھتے چند بوٹ پالشیے تجزیہ نگار بھی خوب عریاں ہوتے ہیں. مشرف کا دور غالبا پاکستان کے سیاہ ترین آمریت کے باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.جارج بش کے ایک فون کال پر ڈھیر ہو کر ملک کو افغان جنگ میں دھکیلنے والا شخص کس منہ سے ایک منتخب وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے سمجھ سے بالاتر ہے. ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ججز کو قید کرنے والا آمر اگر میرٹ اور انصاف کی بات کرے تو یقینا عجیب و غریب لگتا ہے.چند ڈالرز کے عوض قوم کی بیٹیوں اور بیٹوں کو غیر ملکی مممالک کو بیچنے والا اگر جمہوری حکومت کی کرپشن کا تزکرہ کرے تو یقینا انتہائی بھونڈا لگتا ہے. یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ اس جیسا بد ترین آمر بھی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اپنے سیاہ جرائم کو چھپاتے ہوئے حکومت پر تنقید کر سکتا ہے. مشرف عرصہ دراز سے اپنے سابقہ ادارے کے پیچھے چھپ کر جمہوریت کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں لگا ہوا ہے لیکن ہر قدم پر اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے. اقتدار کی ہوس بھی کم بخت بہت ظالم شے ہے آنکھوں اور عقل پر ایسی پٹی باندھتی ہے کہ انسان کو اپنے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا. گیارہ سال تن تنہا حکومت کرنے والے آمر کو اب یہ کون سمجھائے کہ گیا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آیا کرتا. جس کرسی کے لیئے اس آمر نے ملکی مفادات کا سودا کیا وہ نہ تو پہلے کبھی کسی کی ہو کر رہی اور نہ اب.لیکن سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کو اب مشرف کے بارے میں حتمی فیصلہ کر لینا چاہیے. بلوچستان سے لیکر فاٹا تک ہر کونے میں اس شخص کے خلاف ایک ایف آئی آر درج ہے ایسے میں اسے سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کا پروٹوکول دینا نہ صرف قانون کے ساتھ ایک مزاق ہے بلکہ غریب عوام کی ٹیکس کی کمائی کا غلط استعمال بھی کونکہ اس کی سیکیورٹی پر معمور جوانوں کو بہرحال تنخواہیں تو عوام کے ہی دیئے گئے ٹیکسوں سے جاتی ہیں.اگر مشرف کو سزا دینے میں اس کا سابقہ ادارہ رکاوٹ ہے یا کوئی بین الاقوامی ملک پس پشت ہے تو جمہوری طاقتوں کو کھل کے اس کا اظہار کرنا چاہیے. جب تک مشرف جیسے آمر کو اس کے سیاہ اور بھیانک جرائم کی سزا نہیں دی جاتی اس وقت تک پاکستان سے آمریت کا مکمل خاتمہ ایک خواب ہی رہے گا.ویسے قدرت کی جانب سے تو اسے سزا ملنے کا عمل بہت سال پہلے شروع ہو گیا تھا جب اسے اس سیاسی رہنما جسے اس نے جلا وطن کیا تھا اور جس کے بارے میں رعونت سے کہتا تھا کہ اسے کبھی بھی پاکستان نہیں آنے دے گا اپنے سامنے تیسری بار وزیر اعظم بنتے دیکھا. اور اپنے سابقہ ادارے کی پشت پناہی کے باوجود آج بھی مشرف آزادی سے گھوم نہیں پاتا.وطن عزیز سے جانے کے لیئے بھی اسے نواز شریف کے اجازت نامے کی ضرورت ہے. لیکن بہت سے مسننگ پرسن کے عزیز و اقارب بلوچ رہنماوں کے ورثا یقینا مشرف کو عدالت کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں.وہی عدالت جسے کبھی مشرف نے تالہ لگا دیا تھا اور منصف کو قید بھی کر دیا تھا. مشرف کے بارے میں حال میں ہی سینئر صحافی حامد میر نے بھی جو انکشافات کیئےہیں کہ یہ بزدل شخص ٹاک شوز تک میں بھی اپنی مرضی کے سوالات اینکرز کو کرنے لی جازت دیتا ہے اور حامد میر صاحب کو اس ضمن میں پندرہ کڑوڑ روپے کی رشوت کی بھی پیشکش کر چکا ہے ان کی تحقیقات ضرور ہونی چائیں. اگر یہ بزدل آمر انصاف اور قانون کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہوئے بیماری کا عزر پیش کرتا ہے تو سرکاری وکلا کو عدالت عظمی کو اس کے ٹی وی انٹرویوز کی ریکارڈنگ پیش کرنا چاہیے جس میں مشرف ہشاش بشاش اپنے من پسند صحافیوں کو اپنی مرضی کے سوالات کے جوابات دے رہا ہوتا ہے. مشرف کے دور میں ان گناہ گار آنکھوں نے خود دیکھا کہ فوج کے ادارے کے افسران کو وردیاں پہن کر باہر نکلنا مشکل ہو گیا تھا. خود کش بم دھماکوں کا ہم نے نام ضرور سن رکھا تھا لیکن ہمیں علم نہیں تھا کہ یہ کیا ہوتے ہیں مشرف کے دور کے اختتام تک ہمارے ملک کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ خود کش حملے کیا ہیں. جس قدر حبس اور گھٹن مشرف نے معاشرے میں پیدا کیا اس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے. مشرف کو معاف کرنے یا اس پر مقدمہ نہ چلانے کا اختیار خود نواز شریف کے پاس بھی نہیں کیونکہ مشرف محض جمہوریت کا مجرم نہیں بلکہ پورے وطن کا مجرم ہے. دہشت گردی انتہاپسندی کے ناسور کو معاشرے میں انتہا تک لے جانے والا بھی یہی شخص ہے. بلوچستان میں لگی آگ کی شدت میں اضافے کا باعث بھی اسی شخص کا غرور و تکبر ہے .جرائم کی ایک نہ ختم ہونے والی طویل فہرست کے ہوتے ہوئے بھی مشرف جیسے آمر کا سلاخوں کے پیچھے نہ ہونا اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ قانون سویلین کیلئے تو فورا گردش میں آتا ہے اور ایک منتخب وزیر اعظم کو پھانسی کے گھاٹ بھی اتار دیتا ہے اور دوسرے کو ہتھکڑیاں لگا کر دہشت گرد قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا بھی دے دیتا ہے اور پھر اسے جلا وطن بھی کر دیتا ہے لیکن ہزارہا افراد کے قاتل کو محض اس کے ادارے کی وجہ سے کچھ نہیں کہا جاتا. یہ منافقانہ پن اور ڈبل سٹینڈرڈ اب ختم ہونے چاہیے اگر مشرف جیسا مجرم آزادانہ رہ سکتا ہے تو پھر جیل یں موجود ہزارہا قتل کے مجرموں کو بھی قید کرنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں بچتا. مشرف کے جرائم کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلیں بھی ان جرائم کا عزاب بھگتیں گی . مشرف کی پشت پر موجود قوتوں اور اداروں کو طے کر لینا چاہیے کہ کیا انصاف کے کٹہرے میں محض سویلین ہی پیش ہوتے رہیں گے اور کیا محض سیاسی رہنما ہی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے رہیں گے یا پھر قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہو گا. مشرف کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کم سے کم آئندہ کے لیئے طالع آزماؤں اور اقتدار کے ہوس میں اندھے لوگوں کا راستہ ضرور روکا جا سکتا ہے. باقی سیاسی میدان میں مشرف ایک چلا ہوا کارتوس ہے جو بیساکھیوں کی امید میں زندگی کے شب و روز گزار رہا ہے.اور شاید خود پس پشت طاقتوں کے لیئے ایک ناقابل برداشت بوجھ بنتا جا رہا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *