پھولن دیوی کے بارے میں جانئے

2325

 اترپردیش میں 1963 میں نچلی ذات میں پیدا ھونے والی پھولن کی زندگی جبر،سامراج اور وڈیروں کے خلاف بغاوت کی داستان ھے - پھولن دیوی ہندوستان کی چمبل وادی کی مشہور ڈاکو اور سیاستدان رہی ہیں۔اترپردیش میں پیدا ہوئیں۔پھولن دیوی کا شمار انیس سو اسّی کی دہائی میں سب سے خطرناک ڈاکوؤں میں ہوتا ہے۔ پھولن دیوی کا باپ ملاح تھا جس کی ایک ایکڑ اراضی پر اس کے بھتیجے نے قبضہ کیا ہو اتھا۔ پھولن دیوی کا باپ تو اپنے بھتیجے کا کچھ نہیں بگاڑ سکا لیکن پھولن دیوی اسے ہر جگہ چور اور ڈاکو کہہ کر مشہور کرتی رہی۔ پھولن دیوی کی عمر ابھی گیارہ برس تھی کہ اس کی شادی تیس سالہ شخص لال پتی سے کر دی گئی۔ وہ اپنی بیوی پر اتنا ظلم کرتا تھا کہ ایک دفعہ پھولن دیوی کو کئی دن ہسپتال میں رہنا پڑا۔ کچھ عرصے بعد اس کے خاوند لال پتی نے پھولن دیوی کو چھوڑ دیا ۔ پھولن دیوی نے اپنے والدین کے گھر واپس آنے کے بعد دوبارہ اپنے تایا زاد مایا دین کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ وہ تھوڑآ با اثر تھا ، اس نے چوری کے الزام پر پھولن دیوی کو جیل بھیج دیا جہاں اس پر تشدد کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ جیل میں پھولن دیوی کے ساتھ بدسلوکی ہوئی۔ 1979 میں جب اسے جیل سے رہائی ملی تو اسے ڈاکو اغوا کرکے لے گئے۔ ڈاکوئوں کے نرخے میں آنے کے بعد جب ڈاکوئوں کے سردار بابو ٹھاکر نے اس سے زیادتی کی کوشش کی تو اس سے پہلے ہی اس کے دست راست وکرم نے اسے قتل کر دیا اور خود گینگ کا سردار بن گیا۔ پھولن دیوی نے وکرم کی اپنے ساتھ ہمدردی دیکھ کر اس سے شادی کر لی۔ ۔ پھولن دیوی ایک ڈاکو گینگ کی رکن بن چکی تھی اس نے سب سے پہلے اپنے سابقہ شوہر سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لیا۔ وہ اپنے شوہر وکرم اور ساتھی ڈاکئوں کے ساتھ اپنے سابقہ شوہر کے گائوں گئی وہاں اسے چوراہے پر کھڑا کرکے اسے اتنا زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ وہیں مر گیا۔ اس کے قتل کے بعد پھولن دیوی نے گائوں والوں کو پیغام دیا کہ اسے کم عمر کی لڑکی سے شادی کرکے اس پر تشدد کرنے کی سزا دی ہے۔ اس دوران پھولن دیوی نے وکرم سے بندوق چلانی سیکھ لی تھی اور گینگ کی کاروائیوں میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کر دیا۔ اب پھولن دیوی کا کام صرف اونچی ثات کے ہندوئعں سے بدلہ لینا تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتیوں کا بدلہ لینے کے لیے مبینہ طور پر اعلی ذات کے 22 ہندو افراد کا قتل کیا ۔ پھولن دیوی نے 1983میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا اور 1994 تک وہ جیل میں رہیں۔ 1994میں پھولن دیوی نے لوک سبھا کی رکنیت حاصل کی۔ 1998 میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد اگلے سال ایک بار پھر وہ رکن پارلیمان بنی ۔ مشہور ہدایت کار شیکھر کپور نے پھولن دیوی کی زندگی پر مبنی فلم ’بینڈ یٹ کوین‘ بنا کر انہیں ایک لافانی کردار بنا دیا تھا۔ پھولن دیوی کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہی تھیں، تین نقاب پوشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ پھولن دیوی اس وقت بھارتی پارلیمان کی رکن تھیں۔ شمشیر سنگھ رانا کو دہلی میں پھولن دیوی کے قتل کے کچھ ہی روز بعدگرفتار کر لیا گیا اور پولیس کے مطابق اس نے اقرارِ جرم بھی کر لیا۔شمشیر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس نے پھولن دیوی کے ہاتھوں 1981 کے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اعلیٰ ذات کے بائیس افراد کی ہلاکت کا بدلہ لیاہے۔پھولن دیوی نے اس قتل عام کے متعلق کہا تھا کہ کہ انہوں نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کا بدلہ لیا ۔پھولن دیوی کے بارے میں ایک نئی کتاب برطانیہ میں چھپی ہے۔ یہ کتاب روئے موزیم نے لکھی ہے۔انیس سو بانوے میں روئے نے پھولن دیوی کی حراست کی خبر سن کر ان کو خط لکھا تھا۔ جب پھولن دیوی نے ان کے خط کا جواب دیا تو روئے بھارت گئے اور پھولن دیوی اور ان کے خاندان سے متعرف ہوئے۔پھولن دیوی نے جرائم کا راستہ چھوڑ کر سیاست میں حصہ لیا اور وہ بھارت کی سب سے زیادہ جانے جانی والی سیاست دان بن گئیں۔ وہ اڑتیس سال کی تھیں جب ان کو جولائی دو ہزار ایک میں ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔روئے کی کتاب ’آؤٹ لا‘ جون میں شائع ہوئی ہو-روئے نے  بتایا ’زندگی میں بہت سختیاں جھیلنے کے باوجود پھولن دیوی نہایت خوش مزاج خاتون تھیں۔ وہ ہمیشہ مسکراتی اور مذاق کرتی رہتی تھیں۔ اور میرے خیال میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی اور جس کی وجہ سے ان کو نو سال جیل کاٹنی پڑی۔‘روئے کا کہنا ہے ’اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ قتل و غارت میں ملوث تھیں جبکہ پھولن دیوی نے ہمیشہ اس سے انکار کیا۔ اور اس فلم کے بعد بھی ان پر یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ ان کا ہمیشہ کہنا تھا کہ ان ہلاکتوں میں ان کا ہاتھ نہیں تھا اور مجھے ان پر یقین ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’پھولن دیوی غریبوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی تھیں۔ جب وہ جیل میں تھیں تو وہ خوراک کو اپنے خاندان والوں کے لیے جیل سے باہر سمگل کرواتیں جو نہایت مفلسی کی زندگی جی رہے تھے۔‘جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ ’مجھے یاد ہے کہ وہ نوکر نہیں رکھتی تھیں اور فلیٹ کی خود صفائی کرتی تھیں۔ وہ ایسی شخصیت کی حامل تھیں کہ جب وہ کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو ان کو طرف تمام لوگ متوجہ ہو جاتے تھے۔‘واضح رہے کہ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی پھولن دیوی کو ایک دور میں پورا بھارت جاننے لگا جب 1981 میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی جنسی زیادتی کا بدلہ لینے کے لیے ویلنٹائن ڈے پر اونچی ذات کے بائیس افراد کو مبینہ طور پر قتل کردیا۔انہوں نے اپنے آپ کو 1983 میں حکام کے حوالے کر دیا اور فروری 1994 تک جیل میں رہیں  :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *