انسانی صحت پرناشتے کےاثرات، نئی تحقیق

Breakfast

اگر آپ کو ناشتہ کرنا پسند نہیں یا وہ صحت بخش نہیں ہوتا تو بری خبر یہ ہے کہ موٹاپے کے ساتھ ساتھ مجموعی صحت بھی اس عادت کے نتیجے میں متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ باتھ یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ناشتے کو ترک کرنا جسمانی وزن میں کمی کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے مگر یہ تصور غلط ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی طبی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ صبح کی پہلی غذا ہوسکتا ہے پورے دن کے دوران جسم میں کم کیلوریز پہنچانے کا باعث ہو مگر توانائی کی کمی اور جسمانی سرگرمیوں سے دوری منفی اثرات کا باعث بن جاتے ہیں۔ اس نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ناشتہ کرنا صبح کے وقت جسم میں توانائی بھر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں آپ زیادہ متحرک اور ممکنہ طور پر صحت مند ہوجاتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 21 سے 60 سال کی عمر کے افراد کے 2 گروپس بنائے گئے جن میں سے ایک کو ناشتہ کرایا جاتا جبکہ دوسرا ڈائیٹنگ کرتا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ناشتہ کرتے تھے وہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور دن کے باقی حصے میں کم خوراک کا استعمال کرنے کے عادی ہوسکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ناشتہ چھوڑ کر ہوسکتا ہے جسمانی وزن میں کمی آجائے مگر صحت مند طرز زندگی کے دیگر عناصر جیسے زیادہ متحرک ہونا یا بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناشتہ کرنا زیادہ مددگار عمل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ناشتے میں بہت زیادہ میٹھی اشیاءکی بجائے پروٹین سے بھرپور غذا کو ترجیح دینے سے ہی یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *