داعش کے خلاف عراق میں لڑنے والی ڈنمارک کی لڑکی کا انٹرویو

dd

بائیس سالہ جوآن پالانی کرد نژاد، ڈنمارک کی شہری ہیں جو اپنی یونیورسٹی کی تعلیم اور کنبے کو خیر باد کہہ کر اپنے طورپرعراق چلی گئی تھیں تاکہ داعش کے خلاف لڑنے والے رضاکار کرد دستوں میں شامل ہو سکیں۔ جب پالانی اپنے کنبے سے ملنے کی خاطر ڈنمارک لوٹیں تو ڈنمارک کی پولیس نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور انہیں ملک سے نکلنے سے منع کر دیا۔ان کا میڈیا کو دیا گیا انٹرویو پیش خدمت ہے -

آپ نے یونیورسٹی کی تعلیم کو خیر باد کہہ کر عراق جا کر کرد رضاکارو دستوں میں شامل ہو کر لڑنے کا فیصلہ کیونکر کیا؟ آپ کو کس چیز نے اس جانب راغب کیا؟

جواب: میں نے تب جانے کا فیصلہ کیا تھا جب کوبانی اور شینگل پر داعش نے قبضہ کر لیا اور حملے کرکے عام شہریوں کو قتل کرنے لگے۔

کیا آپ کے گھر والے اور دوست آپ کے فیصلے سے آگاہ تھے؟ جب انہیں پہلی بار اس بارے میں معلوم ہوا تو ان کا ردعمل کیا تھا؟

جواب: کچھ میرے فیصلے سے آگاہ تھے، کچھ نہیں تھے۔ جب ان کو معلوم ہوا تو انہوں نے میرا ساتھ دیا۔ میرے گھر والے اکثر مجھے کہتے تھے کہ تمہیں کبھی بندوق نہیں اٹھانی چاہیے بلکہ اپنے قلم اور کاغذ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرو، ایسا کہنے سے ان کا مطلب یہ تھا کہ مجھے سیاسی لڑائی لڑنی چاہیے۔ پر میں سمجھتی تھی کہ جب آپ کے دشمن مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتے اور صرف اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میری ماں کے لیے تب بہت کڑا وقت تھا جب میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ میں زندہ بھی ہوں یا نہیں۔

ڈنمارک میں آپ کے حالات اور زندگی کیسے تھے؟ کیا سب کچھ ایک طرف رکھ چھوڑنا دشوار تھا؟

جواب: جب میرے لوگوں کو ہر جانب سے مارا جا رہا ہو اور کوئی بھی کچھ نہ کر رہا ہو تو میرے لیے ڈنمارک میں ٹحہرے رہنا مشکل تھا۔ میں اب اپنی زندگی پر دھیان نہیں دے سکتی تھی۔ میں نے لڑنے کی خاطر اپنی تعلیم، اپنے دوستوں اور اپنے مشاغل کو ایک طرف رکھ چھوڑا تھا۔

آپ عراق کیسے پہنچیں؟ کیا آپ کو مسائل اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب: میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی مجھے کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 عراق میں اپنے پہلے روز کے بارے میں بتائیں؟ کیسا لگتا ہے جب آپ ایک نئی زندگی میں قدم دھرتی ہیں؟

جواب: میرا پہلا دن میرے لیے خاصا کڑا تھا۔ مجھے کئی میٹنگوں میں جانا پڑا تھا۔ مجھے کرد تصادم سے متعلق اپنا علم اور وفاداری اور یہ کہ بطور سپاہی کے میں کیسے لڑوں کی، ثابت کرنا پڑے تھے۔

کیا آپ کبھی داعش کے دہشت گردوں سے دوبدو ہوئیں؟ 

جواب: ہاں بہت بار سامنا ہوا تھا۔ چند مرتبہ تو میرے پاس کوئی گولی تک باقی نہیں بچی تھی۔ میں سمجھی تھی کہ میں ماری جاؤں گی۔ ایک داعش جنگجو تو میرے کمرے میں گھس آیا تھا۔ اس کے پاس اپنا ہتھیار نہیں تھا، شاید وہ اسے کھو چکا تھا یا کچھ اور۔ میرے پاس اپنی اے کے-47 رائفل تھی لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس میں گولیاں نہیں تھیں۔ اس نے میری طرف دیکھا اپنے ہاتھ ہوا میں بلندکیے اور بھاگ کھڑا ہوا۔ اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ میری رائفل میں گولیاں نہیں ہیں تو وہ متشددانہ رویہ اختیار کرتا اور شاید میں زندہ نہ رہ سکتی۔

ایک عام دن کیسا ہوتا تھا؟ آپ کے معمولات کیا تھے؟

جواب: صبح کے وقت میں لڑکیوں کی ٹریننگ کی انچارج ہوتی تھی۔ میں صرف سارجنٹ ہی نہیں بلکہ ڈرل سارجنٹ بھی ہوں۔ سہ پہر کو میں رات تک محاذ کی اگلی صفوں میں چلی جاتی تھی۔ لڑکیوں کا کیمپ محاذ کی اگلی صف سے ایک کلومیٹر پیچھے تھا، میں تقریبا" ایک سال کردستان میں رہی ہوں۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ کرد دستوں کو داعش سے لڑنے کی خاطر ہتھیاروں یا سازوسامان کی شکل میں کسی حمایت کی ضرورت ہے؟

جواب: ہاں بالکل ہے۔ جب بھی ہم داعش یا القاعدہ سے مبارزہ آراء ہوتے تھے تو ہمارے پاس کوئی اچھے ہتھیار نہیں ہوتے تھے۔ داعش والوں کے پاس اکثر ہتھیار امریکی ہیں اور نئے بھی، 2003 کے۔ عراقی فوجی اس ڈر سے کہ کہیں مارے نہ جائیں یا داعش والے انہیں قیدی نہ بنا لیں بھاگ گئے تھے۔ داعش والے اتنے طاقت ور نہیں رہے جتنے ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ سب معاملہ ہمت کا ہے۔

جب آپ لوٹین تو کیا پولیس یا خفیہ شعبے نے آپ سے تفتیش کی؟

جواب: میں اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتی تھی۔ میں اپنی ڈیوٹی سے چھٹی پر آئی تھی اور مجھے 15 روز کے بعد لوٹ جانا تھا۔ پولیس اور ایجنسی نے مجھے خط لکھا کہ آپ کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا اور آپ ڈنمارک سے باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ آپ ڈنمارک کی ریاست کے لیے خطرہ ہیں۔ اس کی کوئی تک نہیں ہے کیونکہ ڈنمارک خود بھی داعش کے خلاف لڑائی کا حصہ ہے۔ اب میرے ساتھ ایک وکیل ہیں جو میری مدد کر رہے ہیں۔ ہم اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جا رہے ہیں۔

اگر داعش کو روک لیا گیا تو آپ کے مستقبل کے کیا منصوبے ہیں؟ جنگختم ہو جانے کے بعد آپ اپنی زندگی کے بارے میں کیا ارادہ رکھتی ہیں؟

جواب: میں اپنے یونٹ میں واپس جانا چاہتی ہوں اور اپنے فرائض جاری رکھنا چاہتی ہوں۔ اگر داعش کے ساتھ جنگ تمام ہو گئی تو میں اپنی تعلیم کی جانب لوٹ جاؤں گی ۔ ۔ ۔ اگر تب تک میں ماری نہ گئی تو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *