ٹیلی پیتھی کے متعلق ایک مفید مضمون

tele

(بشکریہ:خواجہ شمس الدین عظیمی)

 روزمرہ کا مشاہدہ یہ ہے کہ ہم جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وہ چیز یا اس کے اندر معنویت ہمارے اوپر آشکار ہو جاتی ہے۔کوئی چیز ہمارے سامنے ہے۔ لیکن ذہنی طور پر ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو وہ چیز ہمارے لئے بسا اوقات کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اس کی مثال یہ ہے کہ ہم گھر سے دفتر جانے کے لئے ایک راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جب ہم گھر سے چلتے ہیں تو ہمارے ذہن کی مرکزیت صرف دفتر ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ ہمیں وقت مقررہ پر دفتر پہنچنا ہے اور وہاں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ اس راستہ میں بے شمار چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں اور انہیں ہم دیکھتے ہیں۔ لیکن دفتر پہنچنے کے بعد اگر کوئی صاحب ہم سے سوال کریں کہ راستہ میں آپ نے کیا کچھ دیکھا ہے تو اس بات کا ہمارے پاس ایک ہی جواب ہو گا کہ ہم نے دھیان نہیں کیا۔ حالانکہ چیزیں سب نظر کے سامنے سے گزریں۔ لیکن چونکہ کسی بھی چیز میں ذہنی مرکزیت قائم نہیں ہوتی۔ اس لئے حافظہ پر اس چیز کا نقش مرتب نہیں ہوا۔
قانون یہ بنا کہ جب ہم کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وہ چیز اور اس چیز کے اندر معنویت ہمارے اوپر منکشف ہوتی ہے۔ ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں جو بہت دلچسپ ہے۔ دلچسپی کی بناء پر کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم نے اس کتاب کا مطالعہ چار پانچ گھنٹے کیا ہے تو ہمیں یقین نہیں آتا۔ لیکن چونکہ گھڑی ہمارے سامنے ہوتی ہے۔ اس لئے ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے برعکس ایک ایسی کتاب آپ پڑھتے ہیں جس کا مضمون آپ کی دلچسپی کے برعکس ہے۔ تو پانچ دس منٹ کے بعد طبیعت پر بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے اور بالآخر ہم وہ کتاب چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مثال سے دوسرا قانون یہ بنا کہ ذہنی مرکزیت کے ساتھ ساتھ اگر دلچسپی بھی قائم ہو جائے۔ تو کام آسان ہو جاتا ہے جہاں تک دلچسپی کا تعلق ہے اس کی حدود اگر متعین کی جائیں تو وہ دو رخ پر قائم ہیں جن کو عرف عام میں ذوق اور شوق کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک طرف کسی چیز کی معنویت کو تلاش کرنے کی جستجو ہے۔ اور دوسری طرف اس جستجو کے نتیجہ میں کوئی چیز حاصل کرنے کا شوق ہے۔
ذوق اور شوق کے ساتھ جب کوئی بندہ کسی راستہ کو اختیار کرتا ہے وہ راستہ دین کا ہو یا دنیا کا اس کے نتائج مثبت مرتب ہوتے ہیں۔ ٹیلی پیتھی کی مشقوں میں تصور کا منشاء یہی ہے کہ آدمی ذوق و شوق کے ساتھ ذہنی مرکزیت کے ساتھ باطنی علم حاصل کرے چونکہ یہ علم کتابی علم نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس علم کو سیکھنے کے لئے ایسے طریقے اختیار کرنا لازم ہیں جو مروجہ طریقوں سے الگ ہوں۔
روح نور ہے، روشنی ہے، روحانی علوم بھی نور ہیں، روشنی ہیں۔ نور یا لہروں کا عالم ظاہر ہے کہ نور یا لہروں کے ذریعہ ہی منتقل ہو سکتا ہے۔ ہم جب نور کا تصور کرتے ہیں تو نور کی لہریں یعنی علم روحانیت کی روشنیاں ہمارے ذوق شوق کے مطابق ہمارے اندر منتقل ہونے لگتی ہیں۔
تصور کی مشقوں سے بھرپور فوائد حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صاحب مشق جب آنکھیں بند کر کے تصور کرنے بیٹھے تو وہ خود سے اور ماحول سے بے نیاز ہو جائے۔ اتنا بے نیاز کہ اس کے اوپر سے بتدریج ٹائم اور اسپیس کی گرفت ٹوٹ جائے۔ یعنی اس تصور میں اتنا انہماک ہو جائے کہ وقت گزرنے کا مطلق احساس نہ رہے کتاب کا دلچسپ مضمون پڑھنے کی مثال پیش کی جا چکی ہے۔
تصور کے ضمن میں اسباق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر آپ نور کا تصور کر رہے ہیں تو آنکھیں بند کر کے کسی خاص قسم کی روشنی کو دیکھنے کی کوشش نہ کریں بلکہ صرف نور کی طرف دھیان قائم کریں۔ نور جو کچھ بھی ہے اور جس طرح بھی ہے از خود آپ کے سامنے آئے گا۔ اصل مدعا کسی ایک طرف دھیان کر کے ذہنی یکسوئی حاصل کرنا اور منتشر خیالی سے نجات پانا ہے۔ جس کے بعد باطنی علم کڑی در کڑی ذہن پر منکشف ہونے لگتا ہے۔ تصور کا مطلب اس بات سے کافی حد تک پورا ہوتا ہے جس کو عرف عام میں بے خیال ہونا کہا جاتا ہے۔ ہم اگر کھلی یا بند آنکھوں سے کسی چیز کا تصور کرتے ہیں اور تصور میں خیالی تصویر بنا کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں یہ عمل ذہنی یکسوئی کے احاطہ میں نہیں آتا۔ ذہنی یکسوئی سے مراد یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر دیکھنےاور سننے کے عمل سے بے خبر ہو جائے۔
قانون یہ ہے کہ آدمی کسی لمحے بھی حواس سے ماوراء نہیں ہو سکتا۔ جب ہمارے اوپر شعوری حواس کا غلبہ نہیں رہتا تو میکانکی آٹو میٹک طور پر لاشعوری حواس متحرک ہو جاتے ہیں اور لاشعوری حواس سے متعارف ہونا ہی ماورائی علوم کا عرفان ہے۔
آدمی کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں۔ ایک دماغ ظاہری حواس بناتا ہے اور دوسرا دماغ ظاہری حواس کے پس پردہ کام کرنے والی اس ایجنسی کی تحریکات کو منظر عام پر لاتا ہے جو ظاہر حواس کے الٹ ہیں۔ جن حواس سے ہم کشش ثقل میں مقید چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اس کا نام شعور ہے اور جن حواس میں ہم کشش ثقل سے آزاد ہو جاتے ہیں اس کا نام لاشعور ہے۔ شعور اور لاشعور دونوں لہروں پر قیام پذیر ہیں۔ شعوری حواس میں کام کرنے والی لہریں مثبت (ٹرائی اینگل) ہوتی ہیں اور لاشعوری حواس میں کام کرنے والی لہریں (دائرہ) حصولی ہیں۔ سائنسدان یہ سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ زمین اور زمین کے اوپر موجود ہر شئے دراصل لہروں کا مجموعہ ہے۔
زمین کی حرکت دو رخ پر قائم ہے ایک رخ کا نام طولانی حرکت ہے اور دوسرے رخ کا نام محوری حرکت ہے یعنی زمین جب اپنے مدار پر سفر کرتی ہے تو طولانی گردش میں ترچھی ہو کر چلتی ہے اور محوری گردش میں لٹو کی طرح گھومتی ہے۔ ہر مظہر دو رخ پر قائم ہے۔ ایک رخ ہمیں گوشت کی آنکھ سے نظر آتا ہے اور دوسرا رخ ہم باطنی آنکھ سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ دو رخ دراصل دو حواس ہیں۔ حواس کے ایک رخ کا نام شعور اور دوسرے کا نام لاشعور ہے۔ شعوری حواس میں ہم ٹائم اسپیس میں قید ہیں اور لاشعوری حواس ہمیں ٹائم اسپیس سے آزاد کر دیتے ہیں۔ یہ دونوں حواس ایک ورق کی طرح ہیں۔ ورق کے دونوں صفحات پر ایک ہی تحریر لکھی ہوئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ورق کے ایک صفحہ پر عبارت ہمیں روشن اور واضح نظر آتی ہے اور دوسرے صفحہ پر تحریر دھندلی اور غیر واضح نظر آتی ہے۔
ہم جب کوئی ماورائی چیز دیکھتے ہیں تو دراصل یہ صفحہ کی دھندلی تحریر کا عکس ہوتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ وہ نظر جس کو تیسری آنکھ کہا جاتا ہے ،کھل جاتی ہے۔ چونکہ اس طرح دیکھنا ہماری روزمرہ دیکھنے کی عادت کے خلاف ہے اس لئے شعور پر چوٹ پڑتی ہے۔ اس عادت کو معمول پر لانے کے لئے ہمیں شعوری حواس کے ساتھ لاشعوری حواس کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ جیسے جیسے ہم شعوری حواس میں دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ شعور کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ زمین اپنے مدار پر طولانی(ٹرائی اینگل)اور محوری گردش میں چل رہی ہے۔ طولانی گردش (مثلث / ٹرائی اینگل) ہے اور محوری گردش دائرہ ہے۔ ہماری زمین پر تین مخلوق آباد ہیں انسان، جنات اور ملائکہ عنصری انسان کی تخلیق میں بحیثیت گوشت پوست مثلث غالب ہے۔ اس کے برعکس جنات میں دائرہ غالب ہے اور فرشتوں کی تخلیق میں جنات کے مقابلہ میں دائرہ زیادہ غالب ہے۔ انسان کے بھی دو رخ ہیں۔ غالب مثلث اور مغلوب رخ دائرہ جب کسی بندہ پر مثلث کا غلبہ کم ہو جاتا ہے اور دائرہ غالب آ جاتا ہے تو وہ جنات فرشتوں اور دوسرے سیاروں میں آباد مخلوق سے متعارف ہو جاتا ہے بلکہ ان سے گفتگو بھی کر سکتا ہے۔ ٹیلی پیتھی اور ماورائی علوم حاصل کرنے کے لئے شمال کی سمت اس لئے متعین کی جاتی ہے کہ شمال جنوب میں سفر کرنے والی تخلیقی لہروں کا وزن صاحب کے شعور پر کم سے کم پڑے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی دریا میں اپنے ارادہ سے اترتا ہے تو اس کے حواس معطل نہیں ہوتے لیکن اگر کسی آدمی کو بے خبری میں دریا میں دھکا دے دیا جائے تو اس کے حواس غیر متوازن ہو سکتے ہیں۔ خود اختیاری عمل سے انسان بڑی سے بڑی افتاد کا ہنستے کھیلتے مقابلہ کر لیتا ہے جبکہ ناگہانی طور پر کسی افتاد سے وہ پریشان ہو جاتا ہے۔
روحانی علم اس کا نام کچھ بھی ہو۔ ٹیلی پیتھی ہو۔ روحانیت ہو۔ آدمی کے اندر روحانی صلاحیتوں کا انکشاف ہے اور روحانی صلاحیتوں کا یہ انکشاف آدمی کو انسان بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔ یاد رہے کہ آدمی بھی ایک حیوان ہے۔ لیکن جب اس کے اندر انسانیت آ جاتی ہے تو یہ اشرف بن جاتا ہے۔ اور تمام مذاہب کی یہی کوشش رہی ہے کہ آدمی کو انسانیت کے درجہ پر فائز کر دیا جائے۔
‘‘دنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے۔ اسی مناسبت سے اولاد آدم نئی نئی مصیبتوں، پریشانیوں اور پیچیدہ بیماریوں کی ختم نہ ہونے والی دلدل میں گرفتار ہو رہا ہے۔ جدید یورپ اب تیزی کے ساتھ روحانی مسرت کے پرسکون لمحات کی تلاش میں سرگرداں ہے۔’’ (لائف)
ہم جب کسی سخت چیز کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس چیز کی سختی کا علم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے دماغ کے اندر وہ سخت چیز ٹکراتی نہیں ہے۔ سائنس کے نقطۂ نظر اور علوم کی روشنی میں ہر شئے دراصل شعاعوں یا لہروں کے مجموعہ کا نام ہے۔ جب ہم کسی سخت چیز کی طرف کسی بھی طریقہ سے متوجہ ہوتے ہیں تو اس سخت چیز کے اندر کام کرنے والی لہریں ہمارے دماغ کو اپنی حیثیت سے باخبر کر دیتی ہیں۔ باخبری کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ پتھر یا کسی دھات کو چھو کر ہی محسوس کیا جائے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ شعاع یا لہر اپنے اندر سختی رکھتی ہے اور نہ وزن پھر ہمیں یہ علم کیسے ہو جاتا ہے کہ یہ پتھر ہے یا لوہا ہے یا یہ دیوار ہے؟
حقائق یہ ہیں کہ ہر شئے الگ اور معین مقداروں کے ساتھ موجود ہے۔ لہروں یا شعاعوں کی یہ معین مقداریں ہی ہر شئے کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں اور ہر شئے کی لہریں یا شعاعیں ہمیں اپنے موجود ہونے کی اطلاع فراہم کرتی ہیں۔ زیادہ وضاحت کے لئے عرض ہے کہ ہر موجود شئے دراصل لہروں یا شعاعوں کا دوسرا نام ہے اور ہر شئے کی لہر یا شعاع ایک دوسرے سے الگ ہے۔ اگر کسی طریقہ سے ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ انسان، حیوانات، نباتات اور جمادات میں کس کس قسم کی لہریں کام کرتی ہیں اور ان لہروں پر کس طرح کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے تو ہم ان چیزوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ قانون قدرت کے مطابق لہر یا شعاع دراصل ایک جاری و ساری حرکت ہے اور ہر شئے کے اندر لہروں یا شعاعوں کی حرکت کا ایک فارمولا ہے۔
ہمارے ارد گرد بہت سی آوازیں پھیلی ہوتی ہیں۔ یہ آوازیں بھی لہروں کی شکل میں موجود ہیں۔ ان کے قَطر (ویو لینگتھ) بہت چھوٹے یا بہت بڑے ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ چار سو قطر سے نیچے کی آوازیں آدمی نہیں سن سکتا۔ اس طرح ایک ہزار چھ سو قطر سے زیادہ آوازیں بھی عام سماعت سے باہر ہوتی ہیں۔ چار سو قطر سے نیچے کی آوازیں برقی رو (لہر) کے ذریعے سنی جا سکتی ہیں۔ اور ایک ہزار چھ سو قطر سے اوپر کی آوازیں بھی برقی رو کے ذریعہ سننا ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
‘‘تم ہماری سماعت سے سنتے ہو۔ ہماری بصارت سے دیکھتے ہو۔’’
تفکر کا ایک مقام ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کی سماعت اور بصارت کو نور، روشنی، لہر کے علاوہ کوئی اور نام دیا جا سکتا ہے۔ آنکھ کے پردوں پر جو عمل ہوتا ہے وہ برقی رو یا لہر سے بنتا ہے۔ آنکھ کی حس جس قدر تیز ہوتی ہے۔ اتنا ہی وہ برقی رو کو زیادہ قبول کرتی ہے اور اتنا ہی رو یا لہر میں زیادہ امتیاز کر سکتی ہے۔ آنکھیں باہر کے عکس کے ذریعہ دماغ کو متاثر کرتی ہیں۔ ہر ا رنگ یا ہریالی دیکھ دیکھ کر ہمیں سکون محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تیز روشن آگ کو دیکھ کر ہمارے حواس گرانی محسوس کرتے ہیں۔ باہر کے عکس سے حواس تازہ یا افسردہ ہو جاتے ہیں۔ کمزور ہو جاتے ہیں یا طاقتور ہو جاتے ہیں۔ ان ہی باتوں پر دماغی کام کا انحصار ہے۔
ٹیلی پیتھی میں ایسے علوم سے بحث کی جاتی ہے جو حواس کے پس پردہ شعور سے ہٹ کر کام کرتے ہیں۔ یہ علم ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے حواس کی گرفت محض مفروضہ ہے۔ ہم یہ بتا چکے ہیں کہ سولہ سو قطر سے اوپر کی آوازیں یا چار سو قطر سے نیچے کی آوازیں لہروں کے ذریعہ سنی جا سکتی ہیں اور یہ اس لئے ممکن ہے کہ ہمارے تمام حواس اور خیالات بجائے خود برقی رو یا لہر ہیں۔ اگر ہمارے خیالات برقی رو سے الگ کوئی چیز ہو تو برقی رو کو قبول ہی نہ کرتے۔ ٹیلی پیتھی میں یہ خیالات جو دراصل برقی رو ہیں۔ دوسرے آدمی کو منتقل کئے جاتے ہیں۔ خیالات منتقل کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت پیش آتی ہے کہ یہ برقی رو کسی ایک ذرہ پر یا کسی ایک سمت میں یا کسی ایک رخ پر مرکوز ہو جائے۔ اگر یہ تھوڑی دیر بھی مرکوز رہے تو دور دراز تک اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔ انسان کو اور ان چیزوں کو جو ذی روح نہیں سمجھی جاتیں۔ ان کو اس رو سے متاثر کیا جاتا ہے۔
انسان دو تقاضوں سے مرکب اور محرک ہے۔ ایک تقاضہ جبلی ہے اور دوسرا فطری جبلی تقاضے پر ہم با اختیار ہیں اور فطری تقاضے پر ہمیں کسی حد تک تو اختیار حاصل ہے مگر اس تقاضے کو کلیتاً رد کرنے پر قدرت نہیں رکھتے۔ ایک ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے۔ بچہ مر جاتا ہے۔ ماں رو دھو کر بالآخر صبر کر لیتی ہے۔ عرف عام میں ماں کی محبت کو فطری تقاضہ کہا جاتا ہے ۔ ہم جس قانون کو بیان کر رہے ہیں ۔ اس کی روشنی میں ماں کی محبت فطری نہیں جبلی ہے۔ ماں کی محبت کو اگر فطری جذبہ قرار دے دیا جائے تو بچہ کی جدائی کے غم میں ماں اپنے بچہ کے ساتھ ہی مر جائے گی یا بچہ کی یاد اس کے حواس کا شیرازہ بکھیر دے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس فطری تقاضے بھوک اور نیند کے سلسلہ پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ آدمی بھوک رفع کرنے کے لئے خوراک میں تو کمی بیشی کر سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کبھی کچھ نہ کھائے یا پیاس بجھانے کے لئے کبھی پانی نہ پئے۔ یا ساری عمر سوتا رہے یا ساری زندگی جاگتا رہے۔ ان حقائق کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جذبات فطری ہوں یا جبلی، بہرکیف ان کا تعلق خیالات سے ہے۔ جب تک کوئی تقاضا خیال کی صورت میں جلوہ گر نہیں ہو گا۔ ہم اس سے بے خبر رہیں گے۔ ہمارے اوپر حواس (بصارت، سماعت، گویائی، لمس) کا انکشاف نہیں ہو گا۔ اور خیال خارجی شئے نہیں (اِنر) میں قیام پذیر ہے۔
یہ خواہش فطری ہے کہ ہم معلوم کریں کہ خیالات کہاں سے آتے ہیں۔ کیوں آتے ہیں اور خیالات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مل کر کس طرح زندگی بنتے ہیں؟
کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے در پے جو خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔ وہ دوسرے نظاموں اور ان آبادیوں سے ہمیں وصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعہ ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی بڑی شعاعیں خیالات کے بے شمار تصویر خانے لے کر آتی ہیں۔ ان ہی تصویر خانوں کو ہم اپنی زبان میں، توہم، تخیل، تصور اور تفکر کا نام دیتے ہیں۔ جس قدر خیالات ہمارے ذہن میں دور کرتے رہتے ہیں ان کا تعلق قریب اور دور کی ایسی اطلاعات سے ہوتا ہے ، جو کائنات میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ یہ اطلاعات لہروں کے ذریعہ ہم تک پہنچتی ہیں۔ اب ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم تمام کہکشانی نظاموں اور ان میں آباد بستیوں سے ٹیلی پیتھی کے ذریعہ منسلک ہیں کیونکہ ٹیلی پیتھی خیالات کی منتقلی کا دوسرا نام ہے۔
ٹیلی پیتھی میں پہلے پہلے یہ مشق کرائی جاتی ہے کہ اشیاء ہمارے اندر موجود ہیں۔ مشق کی تکمیل کے بعد کوئی صاحب مشق یہ دیکھنے لگتا ہے کہ فلاں چیز میرے اندر موجود ہے اور مسلسل توجہ کے بعد اس چیز پر نظر ٹھہر جاتی ہے۔ ارتکاز کے لئے سانس کی مشق اور مراقبہ کرایا جاتا ہے۔
نگاہ یا بصارت کسی شئے پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اس شئے کو اپنے اندر جذب کر کے دماغ کی اسکرین پر لے آتی ہے۔ اور دماغ اس چیز کو دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے اور اس میں معانی پہناتا ہے۔ نظر کا قانون یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کو اپنا ہدف بناتا ہے تو دماغ کی اسکرین پر اس شئے کا عکس پندرہ سیکنڈ تک قائم رہتا ہے اور پلک جھپکنے کے عمل سے یہ آہستہ آہستہ مدہم ہو کر حافظہ میں چلا جاتا ہے اور دوسرا عکس دماغ کی اسکرین پر آ جاتا ہے۔ اگر نگاہ کو کسی ہدف پر پندرہ سیکنڈ سے زیادہ مرکوز کر دیا جائے تو ایک ہی ہدف بار بار دماغ کی اسکرین پر وارد ہوتا رہتا ہے اور حافظہ پر نقش ہوتا رہتا ہے مثلاً ہم کسی چیز کو پلک جھپکائے بغیر مسلسل ایک گھنٹہ تک دیکھتے رہیں تو اس عمل سے نگاہ قائم ہونے کا وصف دماغ میں پیوست ہو جاتا ہے۔ اور دماغ میں یہ پیوستگی، ذہنی انتشار کو ختم کر دیتی ہے۔
ہوتے ہوتے یہ اتنی مشق ہو جاتی ہے کہ شئے کی حرکت صاحب مشق کے اختیار اور تصرف میں آ جاتی ہے۔ اب وہ شئے کو جس طرح چاہے حرکت دے سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نگاہ کی مرکزیت کسی آدمی کے اندر قوت ارادی کو جنم دیتی ہے اور قوت ارادی سے انسان جس طرح چاہے کام لے سکتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کا اصل اصول بھی یہی ہے کہ انسان ایک نقطہ پر نگاہ کو مرکوز کرنے پر قادر ہو جائے۔ نگاہ کی مرکزیت حاصل کرنے میں کوئی ارادہ بھی شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے نگاہ کی مرکزیت پر عبور حاصل ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے ارادہ مستحکم اور طاقت ور ہوجاتا ہے۔ ٹیلی پیتھی جاننے والا کوئی شخص جب یہ ارادہ کرتا ہے کہ اپنے خیال کو دوسرے آدمی کے دماغ کی اسکرین پر منعکس کر دے تو اس شخص کے دماغ میں یہ ارادہ منتقل ہو جاتا ہے۔ وہ شخص اس ارادہ کو خیال کی طرح محسوس کرتا ہے۔ اگر وہ شخص ذہنی طور پر یکسو ہے تو یہ خیال، تصور اور احساسات کے مراحل سے گزر کر مظہر بن جاتا ہے۔ اگر اسی ارادہ کو بار بار منتقل کیا جائے تو دماغ اگر یکسو نہ بھی ہو تو یکسو ہو کر اس خیال کو قبول کر لیتا ہے اور ان کا توجہ سے عملی جامہ پہن کر منظر عام پر آ جاتا ہے۔
ٹیلی پیتھی محض خیالات کو دوسروں تک منتقل کرنے کا علم ہی نہیں ہے بلکہ اس علم کے ذریعہ ہم اپنی زندگی کا مطالعہ کر کے زندگی کو خوش آئند تصورات سے لبریز کر سکتے ہیں۔ زندگی خواہشات، تمناؤں اور آرزوؤں کے تانے بانے پر قائم ہے۔
نوٹ: ٹیلی پیتھی کی مشق استاد کی نگرانی کے بغیر نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ استاد کی نگرانی کے بغیر دماغ پر غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *