لاہورکی ہیرا منڈی پر ایک برطانوی خاتون کی ریسرچ

hera mandi

…… لوئز براﺅن ایک برطانوی شہری ہیں ریسرچ میں شغف رکھتی ہیں ا ن کی زیرِ نظر کتاب جو لاہور کے ریڈ لائٹ ایریا کے بارے میں ہے جس کا دیگر زبانو ں میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے یہ ایک حیر ت انگیز کتاب ہےلوئز نے کسی طور سے بھی افسانہ نہیں تراشا اور نہ ہی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کوئی لیبل چسپاں کیا ہے ۔ کتاب کیسے لکھی جاتی ہے ، اس کا ا دراک یہ کتاب پڑھ کر ہی ہوتا ہے ۔ مصنفہ لوئزبراﺅن کو یہ کتاب لکھنے کی تحریک کیونکر ہوئی وہ خود اس بارے میں رقم طراز ہیں۔
”مجھے جنوبی ایشیا سے اس زمانے میں محبت ہو گئی تھی جب میں 90ءکی دہائی کے شروع کے برسوں میں کھٹمنڈو میں اپنے شوہر کے ہمراہ نیپال میں برٹش ایڈ پروگرام میں کام کر رہی تھی۔ میں اپنی دو بیٹیوں ”روزی“ (ایک چھوٹی سی بچی)) اور ”لورنا“ (نوزائیدہ) سمیت شوہر کے ساتھ تھی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ اس جگہ نے میرے تصور کو کیوں اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ (شاید اس وجہ سے کہ یہ میرے لیے پہلا بے پناہ ثقافتی دھچکا تھا، اور میں پہلی بار اپنی ثقافت کے دائرے سے باہر نکل کر ایک بالکل مختلف معاشرے میں طویل عرصہ کے لیے جا بسی تھی) لیکن اس تصور کی سحر انگیزی برصغیر کے شمال میں پائی جانے والی گوناگtawوں ثقافتوں اور لوگوں سے میل جول رکھنے کے باوجود کم نہیں ہوئی۔“
”جب میں یونیورسٹی آف برمنگھم میں ایشین سٹڈیز کی لیکچرار تھی، اسی وقت سے مجھے لاہور کی ”ہیرا منڈی‘ سے دلچسپی ہو گئی تھی۔ چنانچہ میں نے 2000ءمیں ہیرا منڈی پر تحقیق شروع کر دی۔ 1993ءمیں میرے تیسرے بچے جوزف نے جنم لیا تو مجھے طلاق مل گئی جس کے بعد مجھ پر تینوں بچوں کا بوجھ پڑ گیا۔ ہیرا منڈی پر تحقیق کے دوران مجھے جنوبی ایشیا میں عورتوں کی زندگیوں اور ان کے صنفی مسائل مع عصمت فروشی کے مسئلے کے، سب پر کام کرنا پڑا۔ ہیرا منڈی کی ثقافت بہت ہی کم موضوع تحقیق بن سکی تھی۔ کیونکہ یہ بڑا پیچیدہ موضوع ہے اس پر بڑی چھان بین کی ضرورت تھی، بہت محنت درکار تھی اور کام بھی بے حد مشکل تھا۔ انگلینڈ میں سکول میں زیر تعلیم تین بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ایشیائی معاشروں پر پُرمعنی تحقیق کی دشواریوں کو ہر ذی فہم بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔ میرا یہ کام اسی وقت ممکن ہو سکا جب میرے والدین نے میری عملی اور جذباتی مدد کرنا شروع کر دی۔“
”اس پرانے محاورے سے ہم سب واقف ہیں کہ ”ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے“ مگر میں اس میں یہ بات شروع کروں گی کہ ہر کامیاب عورت کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات بہت سی عورتیں ہوتی ہیں۔ میری مراد اس عورت سے ہے جو اپنی گھریلو مصروفیتوں اور جذباتی محنت کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں اور گھروں کو بھی چلائے رکھتی ہے۔ یہ دنیا کی بے حد اہم مگر کم قدری کی نگاہ سے دیکھی جانے والی محنت ہے۔ میری امی بھی ایسی ہی عورت ہے۔“
لوئز براﺅن اس کتاب کو لکھنے کی غرض سے پاکستان آئی تھیں اور ریٹ لائٹ ایریا میں چند برس رہائش اختیار کی جس کی سہولت معروف پینٹر اقبال حسین نے انہیں فراہم کی جو اسی علاقے کے مکین ہیں اور ان کی مصوری کا موضوع بھی ہیرا منڈی کی عورت ہے اس سے بہتر معاونت لوئز براﺅن کو میسر نہیں آسکتی تھی لوئز براﺅن نے اپنے موضوع کو بیان کرتے ہوئے کسی قسم کا کوئی لیبل چسپاں نہیں کیا ۔ ہمدردی کا جذبہ نہیں ابھارا اور نہ حقار ت سے دیکھا ہے اس نے معاشرے کے ایک جزوِ لاینفک حصے کے بارے میں من و عن آگاہی دی ہے ۔دراصل اس ایک مطالعے سے کئی ایک حقائق آشکار ہوتے ہیں
”کنجر بزنس میں نئی داخل ہونے والیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سستی عورتیں ہیں ان کا کوئی آرٹسٹک معیار نہیں ہوتا۔ ان عورتوں میں سے بعض مضافات سے لاہور میں منتقل ہوتی ہیں، جنہیں بوجہ غربت ان کے خاندانوں نے چکلے والوں کے ہاتھ فروخت کیا ہوتا ہے۔ بعضوں کی شادی ایسے مردوں سے ہوئی ہوتی ہے جو انہیں یہاں لا بٹھانے کے لیے بھاری قیمت ادا کر کے ”بیاہتے“ ہیں۔ پھر ان کے دلال بن جاتے ہیں۔ بعض عورتیں اپنے گھر میں ہونے والے مظالم کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے نکل آتی ہیں اور بردہ فروشوں کے ہتھے چڑھ کر بالآخر یہاں لا کر بسا دی جاتی ہیں۔ حکم نہ مانیں تو پٹائی ہوتی ہے، ”سیدھی“ ہو کر چلیں تو کمائی چکلے کے منتظم کے پاس جمع ہوتی رہتی ہے، انہیں روٹی، کپڑے اور مکان کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ مجھے پتہ ہے کہ ان میں بعض لڑکیوں کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی ہوتی ہے۔ مجھے ایسی کسی لڑکی سے ملنے کا موقع نہیں ملا۔ سوائے گاہک کے، کوئی ان سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ شاید ان کا وجود ہی نہیں، بلکہ یہ ایک پرزے کی حیثیت رکھتی ہیں جنہیں صرف دلال کے حکم کے تحت اور اس کے مطابق چکلے کو متحرک رکھنا ہے۔ کنجر عورتوں کے برعکس، ہیرا منڈی میں نئے وارد ہونے والوں کا کوئی خاندانی ”نیٹ ورک“ نہیں جو ان کی مدد کر سکتا ہو یا ان کا نفسیاتی سہارا بن سکتا ہو۔
برصغیر کا روایتی مردانہ کلچر عورتوں کا استحصال کرتا رہا ہے لیکن قدیم نظامِ عصمت فروشی جو انہیں کسی قدر تحفظ دیتا رہا ہے، اب اس نئی لاہوری جنسی تجارت کی مکروہ ساخت میں سے غائب ہے۔ بوڑھی عورتوں کا کنجر معاشرے میں ایک مقام ہے کیونکہ وہ اس کام کو بطور ”خاندانی فرم“ کے چلا رہی ہیں۔ لیکن اب ”منیجرز“ کی ایک نئی نسل، دلالوں، ایجنٹوں اور بردہ فروشوں کی شکل میں سامنے آ چکی ہے جس نے ”تسلسل کے ساتھ قائم صنعت“ (established industry) کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ ان لوگوں میں سے بعض ہیرا منڈی کے ہیں اور بعض بیرونی ہیں، ان کی دولت کا کوئی شمار ہی نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی طاقت کا اندازہ کر سکتا ہے۔ ان لوگوں نے بوڑھی کنجر عورتوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ جدید دور کے منتظمین قحبہ گری (modern executives) صرف پندرہ سے انیس برس اور پھر بیس سے تیس برس کی دو کیٹگریز میں چلا رہے ہیں۔ تیس برس کی ہونے پر عورت کو فوراً باہر پھینک کر ”بے روزگار“ کر دیا جاتا ہے۔“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *