کوہ نور ہیرا کیسے دریافت ہوا ، کہاں کہاں گیا؟ دلچسپ معلومات

koh

heraیہ ہیرا دنیا کا مہنگا ترین اور تاریخی ہیرا ہے۔یہ ہیرا مردوں کے لیے نحوست اور موت کی علامت بنا رہا، جب کہ عورتوں کے لیے خوش بختی کا سبب۔کوہِ نور کو دنیا کا مشہور ترین، قیمتی اور اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ہیرا تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ہیرا چار ہزار سال قبل انڈیا میں دریافت ہوا تھا۔ اس کے بعد یہ ہیرا مختلف بادشاہوں، راجاؤں اور حاکموں سے ہوتا ہوا آج کل انگلینڈ کی ملکہ الزبتھ کے تاج میں جلوہ افروز ہے۔ انگلینڈ والوں نے اس ہیرے کو بہتر شکل میں لانے اور اس کی چمک دمک میں اضافہ کرنے کے لیے تراش کر کچھ مختصر کردیا ہے۔ اب اس کی موجودہ صورت 105قیراط اور وزن 21گرام ہے جب کہ اس کا اصل وزن 37 گرام تھا۔ بہرحال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ دنیا کا قیمتی ترین ہیرا ہے۔
دیگر ہیروں کی طرح کوہِ نور کے ساتھ بھی کئی روایات اور کہانیاں وابستہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہیرا مردوں کے لیے نحوست اور موت کی علامت بنا رہا ہے جب کہ عورتوں کے لیے خوش بختی کا سبب بنا ہے۔
کوہِ نور ہیرا انڈیا کے مختلف ہندو اور مسلمان حکم رانوں سے ہوتا ہوا 1526 میں مغل بادشاہ بابر کے ہاتھ اس وقت آیا جب اس نے ابراہیم لودھی کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کرلیا تھا۔ بابر کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’بابر نامہ‘‘ میں بھی اس ہیرے کا ذکر ہے۔ مذکورہ کتاب میں بابر نے کوہِ نور ہیرے کے بارے میں لکھا ہے: ’’یہ اس قدر قیمتی ہیرا ہے کہ اس کے عوض ملنے والی رقم سے دنیا بھر کے تمام لوگوں کو دو دن کا کھانا کھلایا جاسکتا ہے۔‘‘ بابر کے بعد یہ ہیرا ہمایوں کے پاس پہنچا۔ اکبر نے اسے اپنے پاس نہیں رکھا۔ اس کے بعد اکبر کے پوتے شاہ جہاں نے اسے خزانے کی تجوری سے نکلوا کر اپنے پاس رکھا لیا تھا۔ اس نے بعد میں اس ہیرے کو تخت طائوس کی زینت بنا دیا۔ شاہ جہاں کے بعد اس کا بیٹا اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ بنا ۔ اس نے اپنے باپ شاہ جہاں کو آگرہ میں قید کیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے شاہ جہاں کے قید خانے کی کھڑکی پر کوہ نور ہیرے کو اس زاویے سے رکھوا دیا تھا کہ تاج محل کا عکس اس میں نظر آسکتا تھا۔
لطف کی بات یہ ہے کہ اس ہیرے کو ’’کوہِ نور‘‘ کا نام نادر شاہ نے دیا تھا۔ اس کے بعد آج تک اسے کوہِ نور کہا جاتا ہے۔ 1739 میں جب نادر شاہ نے آگرہ اور دہلی پر حملہ کیا تو واپسی پر تخت طائوس کے ساتھ اس ہیرے کو بھی ایران لے آیا تھا۔ جب نادر شاہ نے پہلی بار اس ہیرے کو دیکھا تو بے اختیار زبان سے ’’کوہِ نور‘‘ نکلا۔ یعنی روشنی کا پہاڑ! 1739 سے قبل اس پتھر کا کوئی نام نہیں تھا۔ اس خوب صورت اور چمک دار پتھر کی قیمت کے حوالے سے ایک اور روایت بھی مشہور ہے۔ نادر شاہ کی ایک بیوی نے کہا تھا ’’اگر کوئی طاقت ور مرد ایک پتھر مغرب کی جانب، ایک مشرق کی طرف، ایک جنوب اور ایک شمال کی جانب پوری قوت سے پھینکے۔ پانچواں پتھر پوری قوت سے اوپر کی جانب اچھال دے… پتھروں کے درمیان چاروں اطراف کے گھیرے میں پانچویں پتھر کی بلندی تک سونے اور قیمتی چیزوں سے بھردیا جائے تو یہ کوہِ نور ہیرے کی قیمت کے برابر ہوگا۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ کوہِ نور ہیرے کو نادر شاہ سے پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ لیکن مغل بادشاہ محمد شاہ کے کسی گھر کے بھیدی نے نادر شاہ کو مطلع کردیا کہ ہیرا محمد شاہ کی پگڑی میں چھپا ہوا ہے۔ ہیرے کے بارے میں خبر ملتے ہی نادر شاہ اسے حاصل کرنے کے لیے بے چین ہوگیا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے ایک تقریب کا انعقاد کیا اور یہ مشہور کردیا کہ وہ دہلی کا تخت محمد شاہ کو واپس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تقریب کے دوران یکایک اس نے محمد شاہ سے پگڑی بدل دوستی کا اعلان کیا اور رسم کے مطابق اپنی پگڑی اتار کر محمد شاہ کی طرف بڑھا اور پھر اپنی پگڑی اس کے حوالے کردی۔ جواب میں محمد شاہ اسے اپنی پگڑی دینے سے انکار نہ کرسکا۔ تقریب ختم ہونے کے بعد نادر شاہ اپنے کمرے میں گیا اور پگڑی کے بل کھول کر اس میں پوشیدہ ہیرا برآمد کرلیا۔ ہیرے کی چمک سے گویا کمرہ جگمگا اٹھا۔ اس کی چمک دمک دیکھ کر ستائشی انداز میں بے اختیار اس کی زبان سے نکلا تھا ’’کوہِ نور!‘‘ 1747 میں نادر شاہ کے قتل کے بعد کوہِ نور ہیرا افغانستان کے احمدشاہ ابدالی کے قبضے میں آگیا۔ 1830 میں معزول حاکم شاہ شجاع نے کسی طرح وہ ہیرا حاصل کیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر کابل سے لاہور پہنچ گیا۔ وہ پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے ملا اور اسے ہیرا پیش کرکے درخواست کی کہ وہ ایسٹ انڈیا کے انگریزوں کو کسی طرح آمادہ کرے کہ اپنی طاقت استعمال کرکے اس سے چھینا گیا اقتدار واپس دلائیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کوہِ نور ہیرا اپنے پاس رکھ لیا اور 1839 میں مرنے سے پہلے اس نے وصیت کی کہ اس کی موت کے بعدوہ ہیرا اڑیسہ کے جگن ناتھ مندر کو دان کردیا جائے۔ لیکن اس کی وصیت پر عمل نہ ہوسکا۔
1848 میں پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور لاہور کے قلعہ پر برطانیہ کا جھنڈا لہرانے لگا۔ میثاقِ لاہور میں جو شرائط تحریر کی گئی تھیں، ان میں ایک واضح شرط یہ تھی کہ کوہِ نور ہیرا انگلینڈ کی ملکہ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔
کوہِ نور ہیرے کو بڑی حفاظت کے ساتھ” H.M.S.Medea” نامی بحری جہاز میں انگلینڈ پہنچایا گیا۔ حفاظت کے خیال سے اس ہیرے کی منتقلی کی خبر اخباروں سے پوشیدہ رکھی گئی تھی۔ اس قدر راز داری برتی گئی تھی کہ جہاز کے ٹریزری آفس کے انچارج اور کیپٹن کو بھی بے خبر رکھا گیا تھا۔ وہ بھی نہیں جانتے تھے کہ اس آہنی بکس میں کیا لے جایا جارہا ہے۔ بہرحال تمام تر حفاظتی انتظام کے باوجود ہیرا لے جانے والے جہاز کا وہ سفر خاصا پُر خطر ثابت ہوا، گو کہ خطرے کی نوعیت مختلف تھی۔ جب وہ جہاز ماریشس پہنچا تو جہاز میں ہیضے کی وبا پھیل گئی۔ بندرگاہ والوں نے جہاز کو وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی۔ جہاز والے آئندہ سفر کے لیے ضروری سامان، راشن وغیرہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ماریشس کے لوگوں نے ان کے خلاف جلوس نکالا اور مطالبہ کیا کہ جہاز بندر گاہ کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اس پر گولیاں برسائی جائیں۔ ماریشس سے روانہ ہونے کے بعد جہاز سخت طوفان میں پھنس گیا۔ بہرحال 16اپریل 1850 کو انڈیا سے روانہ ہونے والا جہاز تقریباً 86 دن کے سفر کے بعد انگلینڈ پہنچا۔ اُس وقت کے انڈیا کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوسی نے ہیرے کی انگلینڈ پہنچنے کی خبر ملتے ہی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تخت نشین بیٹے دلیپ سنگھ کو لندن روانہ کردیا۔ اس نے لندن پہنچ کر کوہِ نور ہیرا ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا۔ اسی سال یعنی 1851 میں کوہِ نور ہیرے کو ہائیڈ پار میں رکھا گیا تاکہ عوام اس کا دیدار کرسکیں۔ اُس وقت 1851 سے کوہِ نور ہیرا برطانیہ کے قبضے میں ہے۔ جب کہ اس ہیرے کی ملکیت کے لیے کئی ممالک دعوے کرتے رہے ہیں اور وہ اسے حاصل کرنے کی خواہش بھی ظاہر کرچکے ہیں۔ 1976 میں پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم جم کالاہان سے مطالبہ کیا تھا کہ کوہِ نور ہیرا پاکستان کو لوٹایا جائے۔ جواب میں انہوں نے انکار ہی کیا۔ پاکستان کے علاوہ انڈیا، افغانستان اور ایران بھی ہیرے کی ملکیت کے دعویدار ہیں اور یہ تمام ملک وقتاً فوقتاً انگلینڈ سے ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ آج کل کوہِ نور ہیرا ٹاور آف لندن میں موجود ہے اور ملکۂ انگلینڈ کی خواہش پر اسے وہاں رکھوایا گیا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *