موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر اثرات

anwar zaib

(انور زیب)

عالمی سطح پر ماحولیاتی حدت میں ہرسال اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے  جس سے سب سے زیادہ متاثرہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں ہرسال  سیلاب, طوفان خشک سالی  اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں سے سینکڑوں لوگ مرتے اوربے گھرہوتے ہیں۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں ہرسال مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پیٹ،سانس ،ڈینگی،ملیریا اور دیگر ویکٹر بیماریاں شامل ہیں۔ پاکستان  جس گلوبل وارمنگ اور اس سے پیدا ہونے والے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہورہا ہے وہ خود اس میں اضافے کے لئے بہت ہی کم ذمہ  دارہے۔گلوبل وامنگ میں پاکستان کا حصہ اعشاریہ آٹھ فیصد ہیں جو کہ انتہائی کم ہے۔لیکن متاثرین میں پاکستان چوتے نمبر پرہے۔ وفاقی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یعنی 2015 میں  موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات  سے پاکستان کو مجموعی طورپر20 ارب ڈالر نقصان پہنچا۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق موسمیاتی تغیرات اور ماحولیاتی الودگی سے دنیا میں سالانہ سات میلن اموات واقع ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان کے کاروباری مرکز کراچی  سمیت ملک بھر میں شدید گرمی اور حبس کے باٰعث دوہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق کا کہنا ہے کہ موسمیاتی   تبدیلیوں سے صحرائے تھر میں  گزشتہ کئی سالوں سے خشک سالی سے متاثر ہورہا ہے اور پانی کو سطح مسلسل گرتا جارہا ہے۔ انکاکہنا ہے کہ  تھر میں   ہر سال لاکھوں  لوگ خشک سالی اور غذائیت کی کمی کے باعث متاثر ہورہے ہیں جبکہ گزشتہ تین سال میں تھر میں 1700 کم سن بچے غذائیت کی کمی کے باعث جان بحق ہوئے۔ رواں سال یعنی 2016  میں  بھی  147  کم سن بچے غذائیت کی کمی کے باعث جاں بحق ہوئے- پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر عادل ظریف کے مطابق  موسمیاتی تبدیلوں سے پیدا ہونے بیماریوں میں  سانس ، پیٹ اور دیگر ویکٹر بورن بیماریاں شامل ہیں اور پاکستان میں 2000 کے بعد ان بیماریوں میں مسلسل اضافہ نظر آیا ہے۔اور  عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2010 کےسیلاب کے بعد  پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونےو الے بیماریوں  میں  مبتلا چھ اعشاریہ دو 6.2میلین کیسز رپورٹ ہوئے۔جبکہ دنیا میں   بھر میں گزشتہ سال  ملیریا  کے 214 ملین کیسز   رپورٹ ہوئے جبکہ  چار لاکھ سے ذیادہ لوگ لقمہ اجل بن  گئے  ۔ ڈاکٹر ظریف کے  مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان میں  ہر سال 10 میلین روپے اس قسم بیماریوں پر خرچ ہوتے ہیں جسکی روک تام اختیاطی تدابیر سے ممکن ہیں۔ ماہرین کے مطابق  2010 کو پاکستان میں آنے والے  سیلاب بھی موسمیاتی تبدیلوں کا شاخسانہ تھا جس کے باعث  پانچ ملین ایکڑ قابل کاشت زمین تباہ ہوگئی ۔جبکہ آٹھارہ سو اموات واقع ہوئے  اور یوں اس سیلاب سے ملک کو مجموعی طورپر   نو ملین امریکی ڈالر نقصان اٹھانا پڑا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی  تغیرات کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ ترقیاتی مملک کی کاربن امیشن   اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والے دیگر گیسز ہیں تاہم اس بحران کو قابو کرنے کے لئے  ماحول دوست  فیکٹریاں ، ایڈوپٹیشن ، جنگلات کی کٹاء پر پابندی اور بڑی تعداد میں درخت اگانا ہوگا.اور اپنی آنے والے نسل کے بہتری کے لئے سخت پالیسیاں بنانی ہوگی۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *