ہوا میں اڑتے پتے (23)

mirza

چند روز بعد جیکٹوں کی اسائنمنٹ پہنچ گئی تھی۔ اسائنمنٹ عاصم کے نام تھی چنانچہ حسام اور طغرل اس کے ہمراہ گئے تھے۔ پروسیجر خاصا پیچیدہ تھا مگر کوئی اتنا دشوار نہیں تھا۔ بہرحال انہیں اسی روز جیکٹس کا کسٹمز کروانے کا موقع مل گیا تھا۔ کچھ کارٹنوں میں سے جیکٹیں چوری ہو چکی تھیں۔ کسٹمز انسپکٹر چونکہ کچھ کارٹن کھلوا کر اور ان میں سے جیکٹیں نکلوا کر دیکھ رہا تھا اور اس کی نگاہیں جیکٹوں کی پڑتال کم اور پسند زیادہ کر رہی تھیں۔ عاصم کا کراچی میں کسٹمز والوں سے پرانا ربط تھا، اس نے بھانپ لیا تھا کہ کسٹم اہلکار کو مال پسند آ رہا ہے لیکن وہ خاموش ہے۔ اس نے حسام سے کہا تھا کہ ایک جیکٹ اسے دے دو۔ جب حسام نے ایک اچھی اور اس اہلکار کے سائز کی جیکٹ اسے تھمانا چاہی تو اس نے ایسے ڈر کر ہاتھ پیچھے کھینچا تھا جیسے حسام اس کے ہاتھ کے ساتھ کالا زہریلا ناگ چھوا رہا ہو۔ پھر اس نے حسام کے قریب ہو کر اسے سرگوشی میں کچھ کہا تھا۔ عاصم کے استفسار پر حسام نے بتایا تھا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ رات کو فلاں مقام پر آ کر اگر ممکن ہو تو مجھے جیکٹ دے جانا اور یہ کہ حسام نے اس سے وعدہ کر لیا ہے۔ کوئی چار برس گذر جانے کے بعد طغرل نے دیکھا تھا کہ یہی جھینپتے ہوئے کسٹمز والے کسقدر بیباک ہو کر سر عام نہ صرف کرنسی نوٹ رشوت میں لینے لگے تھے بلکہ بے دھڑک ہو کر انہیں گن کر اپنی جیبوں میں ڈالنے لگے تھے۔

جیکٹوں سے بھرے کارٹن لے کر گھر آ گئے تھے اور ٹرک میں ان تینوں نے خود ہی نکال کر گھر کے ایک کمرے میں منتقل کر دیے تھے۔ سانس لینے کے بعد انہوں نے جیکٹیں دیکھی تھیں۔ واقعی کچھ کے ایک یا دو بٹن ادھڑے ہوئے تھے اور کسی کی کہیں سے تھوڑی سی سلائی بھی۔ عاصم نے طغرل سے کہا تھا کہ اس خاتون کو فون کرکے کل آنے کو کہہ دے۔ فون کرنے پر نینا نے ایک روز بعد آنے کا وعدہ کیا تھا۔

شام کو جب وہ تینوں شغل مے نوشی کر رہے تھے تو حسام نے کہا تھا کہ کارٹن اٹھا کر تھک گئے ہیں کیا ہی اچھا ہوتا اگر لڑکیاں بھی ہوتیں ، دل لگ جاتا اور تھکاوٹ دور ہو جاتی۔ طغرل چونکہ پہلے تین پیک پینے میں ہمیشہ ہی جلدی کیا کرتا تھا چنانچہ اسے کچھ چڑھ گئی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ میں ابھی گیا اور مہ وشوں کو لے کر یوں سمجھو کہ ابھی آیا۔
طغرل کیونکہ حامد کے ہمراہ کسینو جاتا رہا تھا، اسے معلوم تھا کہ وہاں ایک گوشہ رات رنگین کرنے والی لڑکیوں کے لیے مخصوص ہے۔ بلکہ ایک بار تو اس نے وہاں یہ بھی دیکھا تھا کہ جو لڑکی جوئے کی میز پر بطور منصف بیٹھا کرتی تھی، وہ بھی اس گوشے میں بیٹھنے والیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی، طغرل حیران ہوا تھا کہ اس نے مناسب پیشے کو تج کر بدنام پیشہ کیوں اختیار کر لیا تھا؟ اس سے رہا نہیں گیا تھا چنانچہ اس لڑکی سے ایسا کرنے کا سبب پوچھ ہی لیا تھا۔ لڑکی نے کوئی قباحت محسوس کیے بغیر جواب دیا تھا کہ "بطور "کروپیے" (منصف) کے مجھے چار سو ڈالر ماہوار ملتے تھے، اس طرح میں دو اڑھائی ہزار ڈالر ماہوار کما رہی ہوں۔ مجھے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم کی تکمیل کے لیے وسائل درکار ہیں۔ دو سال بعد پیشہ ترک کرکے اپنی تعلیم سے ہم آہنگ کام کرنے لگ جاؤں گی"۔ طغرل اسی مخصوص گوشے میں گیا تھا اور تین لڑکیوں کو بازووں کے نرغے میں گھیر کر "لیٹس گو، لیٹس گو" کہتا ہوا باہر لے آیا تھا اور ٹیکسی میں بٹھا کر اپنے ہمراہ لے گیا تھا۔ گھر میں داخل ہونے سے پہلے انہوں نے اپنی تینوں کی فیس چھ سو ڈالر بتائی تھی۔ طغرل انہیں گھر میں لے گیا تھا اور بتایا تھا کہ معاملہ مہنگا ہے۔ عاصم چپ رہا تھا، طغرل نے پوچھا تھا کہ کیا انہیں واپس بھیج دوں؟ مگر حسام نے کہا تھا، "نہیں، نہیں، میں ان سے طے کر لوں گا کم لیں گی" سب سے خوبصورت لڑکی عاصم کو دے دی گئی تھی، وہ اسے لے کر بڑے کمرے میں چلا گیا تھا۔ باقی دو میں سے ایک طغرل کے ساتھ اس کے کمرے میں اور دوسری حسام کے ہمراہ جس کمرے میں کارٹن دھرے تھے، اس میں چلی گئیں تھیں۔ ایک گھنٹے بعد جب وہ سستانے کی غرض سے کچن میں اکٹھے ہوئے تھے تو حسام نے کہا تھا، انہیں ڈیڑھ سو ڈالر دے کر بھجوا دیتے ہیں۔ وہ حسام سے بہت بحث کرتی رہی تھیں۔ طغرل کو اتنی زبان نہیں اتی تھی، بہر حال وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ ناخوش ہیں۔ خیر وہ چلی گئی تھیں۔
اگلے روز شام جب طغرل اور حسام گھر میں اکبلے تھے تو کسی نے گھر کی بیل بجائی تھی۔ طغرل دروازے تک گیا تھا اور پوچھا تھا "کتو؟" یعنی کون ہے۔ کسی خاتون نے کہا تھا کہ میں۔ طغرل نے سمجھا تھا کہ سامنے والی ہمسائی ہوگی کیونکہ وہ ایک دوسرے سے کبھی کبھار کچھ مانگ لیا کرتے تھے۔ طغرل نے دروازہ کھول دیا تھا۔ سگریٹ ہولڈر میں لگا سگریٹ پیتے ہوئے ایک لڑکی اٹھلاتی ہوئی اندر داخل ہو گئی تھی۔ اس کے پیچھے یک لخت دو مشٹنڈے نمودار ہوئے تھے۔ طغرل چوکھٹ میں انہیں روکنے لگا تو ایک غنڈے نے طغرل کے پیٹ میں مکہ دے مارا تھا۔ طغرل درد سے کراہتے ہوئے چیخا تھا "ہیلپ، ہیلپ" عاصم کچن سے اٹھ کر آ گیا تھا اور غنڈے نے "چیہا، چیہا" یعنی خاموش، خاموش کہتے ہوئے طغرل کو کھینچ کر اندر کیا تھا اور دروازہ بند کر دیا تھا۔
اب انہوں نے اپنا مدعا کہنا شروع کیا تھا۔ طغرل کو زیادہ تو سمجھ نہیں آتی تھی مگر اتنا ضرور سمجھ گیا تھا کہ یہ غنڈے باقی ساڑھے چار سو ڈالر لینے آئے تھے۔ چنانچہ اس نے صاف انکار کر دیا تھا کہ یہاں لڑکیاں نہیں آئی تھیں۔ وہ پرسوں ہی پہنچے ہیں، ممکن ہے ان سے پہلے رہنے والے ان لڑکیوں کو لائے ہوں۔ بہرحال عاصم کی جیب میں سے ایک سو ڈالر نکلے تھے وہ اس نے غنڈوں کو دیتے ہوئے کہا تھا، "چاچا، ان سے جان چھڑاؤ"۔ طغرل نے ان سے کہا تھا ہمارے پاس بس یہی ہیں۔ وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے مگر جاتے جاتے میز پر جو چند سو روبل رکھے تھے وہ بھی سمیٹ کر گھر سے نکل گئے تھے۔ عاصم کراچی سے آتے ہوئے دس ہزار ڈالر ساتھ لایا تھا۔ تین ہزار کمپنی کے بنیادی سرمائے کے طور پر بینک میں جمع کرو دیے گئے تھے۔ چند سو وکیل کی فیس اور دیگر کاموں میں خرچ ہو گئے تھے باقی اس کے بریف کیس میں پڑے تھے۔ شکر ہے کہ غنڈوں کی نگاہ بریف کیس پر نہیں پڑی تھی۔ بحر حال وہ ڈاکو نہیں تھے، غنڈے تھے جو اپنی لڑکیوں کا باقی ماندہ معاوضہ لینے آئے تھے۔

اس واقعے کے دوسرے روز طغرل اور عاصم، حسام کے ہمراہ اس کی یونیورسٹی گئے تھے۔ طغرل کو یاد نہیں رہا کہ کس سلسلے میں البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ اس کا دیوانہ دوست دمتری "بیگ مین" بھی ان کے ہمراہ تھا۔ ایک مقام پر جو غالبا" کسی ہوسٹل میں کوئی کینٹین نما جگہ تھی یہ چاروں آمنے سامنے مگر دور دور رکھی ہوئی پلاسٹک سے بنی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے۔ پھر پتہ نہیں کیا بات ہوئی تھی کہ عاصم اپنی کرسی سے اٹھ کر دو چار قدم پر بیٹھے طغرل کے نزدیک پہنچا تھا اور اس کے چہرے پر مکا جڑنے کی کوشش کی تھی۔ اٹھا ہوا مکا دیکھ کر مارے حیرت کے طغرل نے اٹھنا چاہا تھا کہ کرسی اس سمیت پیچھے کو جا گری تھی یوں مکا لگا تو تھا مگر اس کی شدت زائل ہو گئی تھی۔ عاصم واپس جا کر اپنی کرسی پر ایسے بیٹھ گیا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ دمتری طغرل کے نزدیک بیٹھا تھا جس نے اسے زمین سے اٹھنے مین مدد دی تھی۔ طغرل نے بس دو چار فقروں مین ہی عاصم کی اس جارحیت کا جواب دے دیا تھا اور عاصم خاموش بیٹھا رہا تھا۔
دراصل عاصم کے دل میں ایک کینہ پل رہا تھا۔ عاصم کی شادی کے موقع پر کچھ ایسے افسوسناک واقعات رونما ہوئے تھے جن کا ذمہ دار وہ طغرل کو خیال کرتا تھا۔ بلکہ اس کی شادی کے بعد طغرل کے خاندان کے تمام افراد نے طغرل سے منہ پھیر لیا تھا اور عاصم اور طغرل کی بول چال ایک عرصہ بند رہی تھی۔ شاید عاصم کو لگتا تھا کہ طغرل نے تب اس کے والد کی توہین کی تھی جبکہ درحقیقت اس کا باپ طغرل کے سگے بڑے بھائی تھے چنانچہ یہ معاملہ دو بھائیوں یا طغرل کے باپ کے کنبے کے بیچ تھا۔ عاصم کا حق نہیں بنتا تھا کہ وہ اپنے چچا پر ہاتھ نہ اٹھاتا چاہے وہ اس کا ہم پیالہ و ہم نوالہ دوست اور تقریبا" ہم عمر ہی کیوں نہ تھا۔
اس واقعے کے بعد ظاہر ہے وہ ایک دو روز تک ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے رہے تھے پھر عاصم نے بولنے کی ابتدا یہ کہتے ہوئے کی تھی، "چاچا، ایسے کرتے ہیں کہ ایک گاڑی خرید لیتے ہیں، تمہیں آمدورفت میں آسانی رہے گی۔ ظاہر ہے شروع میں تو ڈرائیور رکھنا ہوگا۔ کہیں سے اگر بااعتماد ڈرائیور کا انتظام ہو جائے تو کوئی اچھی سی سیکنڈ ہینڈ گاڑی خرید لیتے ہیں"۔
زاہد کادیروو کے علاوہ آندرے پانن نام کا ایک روسی النسل شخص بھی طغرل کا شناسا بنا تھا جو ایک کاروباری دفتر میں ملازمت سے پیشتر، جہاں گذشتہ بار طغرل دمتری کے ہمراہ اپنے مال کے سیمپل دکھانے گیا تھا، ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی میں ریاضیات کا لیکچرر تھا اور بہت اچھی انگریزی بولتا تھا۔ طغرل نے اسے فون کیا تھا۔ اس نے حامی بھری تھی کہ ایک بااعتماد شخص جو شہر کی سڑکوں سے شناسا اچھا ڈرائیور ہے، اسے میں کل آپ کے پاس بھیج دیتا ہوں، اس کا نام ولیری ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *