چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق سے متعلق مقدمہ میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری

supreme_court_new_670x3501_convertedسپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے 4 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات سے ووٹوں کی تصدیق سے متعلق مقدمہ میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے انتخابی عملے میں وفاق اور صوبائی ملازمین کی شرح سے متعلق تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔

منگل کو چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ا س موقع پر عدالت میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 لاہور اور این اے 154 ملتان سے متعلق الیکشن ٹریبونل کی رپورٹ پیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق حلقہ این اے 125 کے حوالے سے متعلقہ ٹریبونل کو تحریک انصاف کے وکلاء نے گواہوں کے بیان حلفی اور شواہد پیش نہیں کئے جس کی وجہ سے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

تحریک انصاف کے وکیل ایڈووکیٹ حامد خان نے عدالت کے استفسارپر بتایا کہ 16 جنوری کو الیکشن کمیشن نے انتخابی عذرداری کامعاملہ نئے ٹریبونل کو بھیجا ہے حالانکہ ہم نے کسی ایک حلقے میں نہیں بلکہ ملک بھرمیں انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ اگریہ بات ہے تو اپنی درخواست میں آپ نے صرف چار حلقوں کا انتخاب کیوں کیا۔ حامد خان نے کہا کہ ہم نے چار حلقے صرف مثال کے طور پر پیش کیے تھے لیکن ہم عدالت میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی نشاندہی کرانا چاہتے ہیں۔

اتنخابی عملے کی شرح کے بارے میں چیف جسٹس کے استفسارپرسیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے بتایا کہ وفاقی ملازمین کی زیادہ تعداد دستیاب نہیں تھی اس لیے صوبائی ملازمین زیادہ تعداد میں انتخابی ڈیوٹی پر مامور تھے اور انتخابی عملے کے لیے کوئی شرح مخصوص نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے انتخابی عملے کی تعیناتی کے بارے میں الیکشن کمیشن کے جواب کوغیرتسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ عملے کی تعیناتی قواعد کے مطابق ہونی چاہئے، عدالت کواس بارے میں تحریری جواب دیاجائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اس حوالے سے کیس کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ہماری درخواست پر نوٹس لے کرالیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ صرف چار حلقوں میں انگوٹھے کے نشانات کو چیک کیاجائے تو سب کچھ سامنے آ جائے گا، اگر سابق چیف جسٹس چار حلقوں کا معاملہ دیکھ لیتے تو الیکشن میں ہونے والی دھاندلی سامنے آ جاتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *