محبت کا ڈرامہ

khawaja mazhar nawaz

ملکی حالات پر نظر ڈالتے ہوئے روزانہ کے اخبار کی خبروں کے ہجوم میں سے ایک خبر نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی. مجھے وزیراعطم کی نیب پر شدید تنقید پر قلم آرائی کرنا تھی. اس مقصد کے لئے قلم و قرطاس میری میز پر دھرے تھے. مگر مجھے اس خبر نے مجھے ذہنی مفلوج کر دیا تھا. کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے،کہ کچھ خبریں اپنے عنوان و سرخی کی بدولت ہماری توجہ کھینچ لیتی ہیں. چونکا دینے والی ایک ایسی ہی خبر نے مجھے چند لمحوں کے لئے بے سدھ سا کر دیا. دل کی دھڑکن بڑھ گئی. دل زور زور سے دھک دھ کرنے لگا.
خبر کی تفصیل پڑھ کر جو پہلا سوال اٹھا، وہ بعد میں بیان کروں گا. پہلے آپ بھی خبر کی تفصیل سے آگاہ ہو جائیے.
واقعہ یہ ہے کہ حافظ آباد سے تعلق رکھنے والی سولہ برس کی اقرا کی شجاع آباد کے شہزاد احمد سیال سے موبائل پر دوستی چل رہی تھی. ویلنٹائن ڈے سے ایک روز پہلے شہزاد نے اقرا سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا. اقرا نے شروع میں انکار کیا،تو شہزاد نے اسے بزدلی کا طعنہ دیا،اور بے وفا تک کہہ ڈالا. اقرا اپنے محبوب کو محبت کا عملی ثبوت دینے کی خاطر شجاع آباد پہنچ گئی. اس نے ایک لمحے میں فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے شہزاد کے ساتھ زندگی بتانی ہے. اور خوشی غمی کا سفر ایک ساتھ رہ کے گزارنا ہے. اسی عزم کے ساتھ وہ اپنا سب کچھ قربان کر کے یہاں پہنچی تھی.
یہاں کہانی آکر اپنا رخ بدلتی ہے. محبت کو آزمائش کی بھٹی سے گزارنے والا شہزاد احمد پریشان ہو گیا. اسے اقرا کے اس طرح اپنے پاس پہنج جانےکا یقین نہ تھا. سسی اپنے پنوں سے ملنے آ پہنچی تھی، لیکن شہزاد چوری کھانے والا مجنوں نکلا. وہ گھبرا کر اقرا کو اپنے ایک دوست کے ہاں چھوڑ کر فرار ہوگیا. دوست کی نیت خراب ہوئی تو اس دوست کے ساتھ اقرا کا جھگڑا ہوگیا.ایسے میں پولیس کو اطلاع ہوئی. پولیس کی جانب سے اقرا کو عدالت پیش کردیا گیا. عدالت کے باہر اقرا نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ شہزاد سے شادی کرکے اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے. اس کا واپس اپنے گھر حافظ آباد خانے کا کوئی ارادہ نہیں. اس نے درد دل کے ساتھ استدعا کی کہ اس کے روپوش محبوب شہزاد کو ڈھونڈ لایا جائے. اس کی واپس نہ جانے کی ضد پر اقرا کو واپس نہ جانے پر دارالامان منتقل کر دیا گیا ہے.
اب پیش ہے وہ سوال کہ جو میرے ذہن میں پیدا ہوا کی اس معاشرتی بگاڑ کا ذمے دار کون ہے؟ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں..ایسے قصے پے بہ پے تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں. کچھ عرصہ قبل پڑوسی دوست ملک چین کی ایک لڑکی فیس بک سے آنکھ لڑنے کے بعد اپنے محبوب کے دیدار کے شوق میں پاکستان کے شہر مظفر گڑھ پہنچ گئی تھی. اس کا محبوب بھی بے مروت ہو کر روپوش ہو گیا تھا. جب چینی لڑکی کی آنکھوں سے پردہ اٹھا تو وہ چیخی چلائی اور خوب رولا مچا،بلآخر چینی محبوبہ ناکامی اور مایوسی کا منہ دیکھ کر واپس لوٹ گئی.
اس طرح کے اپنی نوعیت کے منفرد واقعات ہمیں یہ سمجھانے کے لئے کافی ہیں کہ محبت کے ڈرامے صرف سکرین پر ہی نہیں، جیتے جاگتے معاشرے میں بھی ناکامی سے دوچار ہو رہے ہیں. محبت کو کھیل اور ہائی رسک بنا دیا گیا ہے.
افسوس یہاں انسانوں کو نہیں بلکہ محبت کو جیت اور ہار کا سامنا ہے. محبت کو یونہی سر بازار رسوا کیا جا رہا ہے. جس میں جیت کا چانس بہت کم ہے.
کسے الزام دیں اور کسے قصور وار ٹھہرائیں؟ مان لیا کہ تالی ایک نہیں دو ہاتھ سے بجتی ہے. مگر اس تمام صورت حال میں والدین فکر معاش میں غرق، غربت میں اصافہ، تعلیمی اداروں میں تعلیم اور تربیت عنقا، استاد اور شاگرد میں دوری، بے ہودہ اور بگاڑ کو فروغ دینے والے چینل، تربیت کے مراکز بنے ہیں. کہیں کہیں والدین کا جبر، بے جا روک ٹوک اور اکثر مقامات پر والدین کی لاپرواہی اور غفلت بھی تباہی کا سبب بن رہی ہے. حکومت چونکہ اپنے اللے تللوں میں مدہوش ہے. اسے معاشرے میں شرم و حیا کے پیمانے مقرر کرنے کی فرصت کہاں؟ بے بسی اور بے حسی کے نت نئے مظاہر دیکھ کر دل ہی نہیں آنکھیں بھی بھیگ جاتی ہیں. آنسوؤں کی تار سی بندھ جاتی ہے. ان خبروں اور واقعات سے نظریں چرانے والے اور دل لگی کو مشغلہ بنا کر زندگی برباد کرنے والے کوئی اور نہیں، اسی معاشرے کا حصہ ہیں. یہ سب ہمارے اپنے ہیں. ہمیں اس طرح کے واقعات کی خالی خولی مذمت کا فریضہ ہی نہیں نبھانا، بلکہ اصلاح معاشرہ کے لئے اپنا کردار بخوبی ادا کرنا ہوگا. تاکہ آئندہ کسی شہزاد کو جرات نہ ہو سکے کہ وہ کسی کی زندگی کو یوں تماشہ نہ بنائے. مجھے ڈر محسوس ہو رہاہے کہ اقرا کے والدین اس کی اس حرکت پر کہیں اس کا خون نہ کر بیٹھیں. حرف آخر یہ کہ محبت کا ڈرامہ رچانے اور محبت کو یوں سر بازار رسوا کرنے والوں کے لئے کوئی سزا بھی مقرر ہونی چاہئے.
.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *