لینے اور دینے کے باٹ

naeem-baloch1 اس دفعہ معاملہ بالکل برعکس تھا۔ اب وہ میزبان تھے اور مہمان کوئی اور۔ قانتہ کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے تھے۔اور اسے یہ مرحلہ بڑا ناگوار گزر رہا تھا۔ اس کی وجہ اپنے آپ پر عدم اعتماد نہ تھا بلکہ وہ رویہ تھا جو عام طور پر ایسے موقعوں پر روا رکھا جاتا ہے۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس کے بھائی عمیر کے لیے جب وہ تمام لوگ لڑکی والوں کے گھر گئے تھے تو واپسی پر سب نے حسب توفیق بڑے ’’کھلے دل ‘‘ سے تبصرے کیے تھے۔ اس کی امی نے کہا تھا کہ لڑکی کی ’’ ہائٹ ‘‘ کچھ کم ہے ۔ اس کی بڑی بہن نے گردن کو قدرے ’’ چھوٹا ‘‘ قرار دیا تھا۔ اس کی بھابی کی رائے میں لڑکی جب مسکرائی تھی تو اس کے دانت ذرا بھی اچھے نہیں لگے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم دو دانت مصنوعی لگتے ہیں ۔ اور تو اور، اس کے ابو نے یہ نقطہ پیدا کیا تھا کہ لڑکی نے میک اپ زیادہ کیا ہواتھاجبکہ دادی اماں نے لڑکی کا پورا ’’شجرہ نسب ‘‘دریافت کیا تھا۔وہ اس پر ہی مطمئن نہیں ہوئیں تھیں بلکہ انھوں نے اس کی سکولنگ ، کالج کی تعلیم ، باپ کی آمدنی ، بھائیوں کی نوکریوں تک کی تفصیلات مصدقہ ذرائع سے ’’پکی طرح‘‘ معلوم کرنے کی نصیحت کی تھی۔ اگر خاموش رہی تھی تو صرف قانتہ خاموش رہی تھی۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ ’’عائشہ‘‘ کیسی لگی ، تو اس نے ذرا تنک لہجے میں یہ کہا تھاکہ انسان کو دیکھنے اور کسی’’ چیز‘‘ کو دیکھنے میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ انھوں نے کم از کم چار لڑکیاں ’’ ریجکٹ ‘‘ کی تھیں ۔ ا ور آج اسے بھی یہی خدشہ تھا کہ کہیں اسے بھی کوئی چیز نہ سمجھ لیا جائے اور اسے بھی ریجکشن کی ذلت کو برداشت نہ کرنا پڑے!
بہر کیف ’’ وہ ‘‘ آئے اور وہ دیکھی گئی۔ مہمان روانہ ہوئے تو گھر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی حالانکہ جب وہ لڑکی دیکھ کر آتے تھے تو کم از کم گھنٹہ بھر اسی پر گفتگو ہوتی تھی۔ لیکن آج کسی نے اگر کوئی تبصرہ کیا تھا تو سب سے پہلے یہ بات کی:بڑے مین میخ نکالنے والے لوگ لگتے تھے! اس کی امی نے فکرمندی سے کہا تھا: لگتا ہے کہ انھیں ہم ۔۔۔ ان کا جملہ پورا نہ ہوا تھاکہ عباسی صاحب کا فون آگیا۔ یہ و ہی صاحب تھے جنھوں نے دونوں خاندانوں میں رابطہ کرا یا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ لڑکے کی ماں نے کہا ہے کہ لڑکی کا رنگ صاف نہیں ہے جبکہ دادی کے خیال میں اگر قانتہ کے دائیں گال کا تل ذراچھوٹا ہوتا تو بہتر تھا۔عباسی صاحب شاید کچھ اور بھی بتانا چاہتے تھے کہ قانتہ کے ابو نے رسیور کریڈل پر رکھ دیا۔ قانتہ نے باپ کا چہرہ پڑھ لیا تھا۔ وہ خلاف توقع مسکرااٹھی ۔ سب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ اوروہ بولی :میرا خیال ہے کہ قدرت نے یہ تاریخ اس لیے دہرائی ہے کہ ہم سمجھ سکیں کہ انسان کے لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ ایک جیسے ہونے چاہییں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *