درست نظامِ حکومت کی برتری

abbas nasirعباس ناصر

اگر مذاکرات کی میز پر ہمیشہ ہار جانے کی مثال موجود ہے تو پھر میدانِ جنگ میں کیا کیا نہیں کھویا جا سکتا، ہمیں اس کے لئے زیادہ دور دیکھنے کی ضرورت نہیں۔حکومت کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان کی مذاکرات کی پیش کش کو تسلیم کئے جانے کو اب زیادہ تر لوگ دیکھ چکے ہیں۔یہ ریاست کے اپنی رِٹ منوانے کے لئے حرکت میں آنے سے قبل، عوامی مؤقف کو منوانے کی ایک کوشش ہے۔
اب کیا ہو رہا ہے؟صرف ان چہروں کو دیکھ لیں جو ہماری ٹیلیویژن سکرینوں پر سجے رہتے ہیں اور ان پیغامات کو پڑھ لیں جو ہر وقت نشر ہوتے رہتے ہیں۔آپ جس بھی چینل پر جائیں گے، مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالعزیز ، اس قدر غضبناک انداز میں موجود ہوتے ہیں کہ جیسے ان کا وجود ہمارے لئے کسی ایسے شخص کی طرح ہو کہ جو کسی آفاقی مشن پر آیا ہوا ہو۔یہ دونوں اپنے حلقہء ارادت اور انتخابی حلقوں میں کافی اثرورسوخ اورپیروکاروں کی ایک معقول تعداد رکھتے ہیں۔
کئی سادہ دیہاتی انہیں خدا کے برگزیدہ بندے سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ان کی تقاریر میں موجوداشتعال انگیز اور مہلک قوتوں کو بے وزن نہیں سمجھنا چاہئے۔ بہر حال مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی کے القاعدہ سے متاثرہ الفاظ، کئی لوگوں کو آخر دم تک اسلام آباد میں افواج سے لڑتا رکھنے کے لئے کافی تھے۔اب مولانا عبدالعزیز اور مولانا سمیع الحق کو روزانہ سننے والے لاکھوں ہوتے ہیں کیونکہ وہ بات چیت میں جارحانہ انداز میں چھائے ہوئے ہیں۔ناقابلِ فہم حد تک بزدل اینکر اور رپورٹرانہیں چیلنج بھی نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ عبدالعزیز خود کوایسے بیانات دینے کے قابل سمجھتے ہیں جیسے کہ پاکستان آرمی ، تحریکِ طالبان پاکستان کی لڑنے کی برتر صلاحیت اورایمان کا کوئی مقابلہ نہیں کرتی اس لئے اس کو بہترین نصیحت یہ ہو گی کہ تحریک طالبان کا مقابلہ ہی نہ کرے۔ایسے بیانات کے باوجود کوئی انہیں کچھ نہیں کہتا۔طالبان کمیٹی کے تیسرے رکن، جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ کے امیر، پروفیسر ابراہیم خود تو شعلہ بیان مقرر نہیں ہیں لیکن ان کی جماعت میں بہت سے ایسے موجود ہیں کہ جو چمکتے سورج کی گرمی سے مستفید ہورہے ہیں۔
ملک کی تاریخ کے کسی بھی الیکشن میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکنے والی جماعت اسلامی کو یوں لگتا ہے کہ ایک موقع مل گیا ہے کہ کوشش کرے اور چور دروازے سے اپنی مرضی کی شریعت متعارف کرائے۔ یہ موقع ہے کہ ہم ان لوگوں کو دیکھیں جو ہمیشہ پر امن ذرائع استعمال کرتے ہوئے یعنی کہ بیلٹ باکس کے ذریعے شریعت کے لئے ڈٹے رہے۔ مگر اب چاہتے ہیں کہ دہشتگردوں کے پیچھے چھپ کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ جانتا ہے کہ میری کس قدر خواہش ہے کہ میں غلط ثابت ہو جاؤں اوریہ مذاکرات پاکستانیوں کو ، بشمول بار بار ٹارگٹ کئے جانے والے اقلیتی فرقوں اور غیر مسلموں کے، سب کو امن دلائیں۔ لیکن کم از کم اب تک تو مذاکراتی عمل نے محض عبدالعزیز اور سمیع الحق کے مخالفانہ نظریات ہی کو لوگوں تک پہنچایا ہے۔اگریہ مذاکرات اس وسیع آبادی کے لئے ترقی کرنے کا راستہ حاصل کر لیں کہ جو پہلے ہی دہشتگردی کی وجوہات کے متعلق تاریکی کے سبب پریشان ہے، تو پھر انہیں ضرور ہونا چاہئے۔
نواز شریف چاہے سعودی نظام کو قابلِ تقلید اور مثالی کہیں اورارب پتی سعودی شہزادہ الولید چاہے نواز شریف کو ’پاکستان میں اپنا آدمی ‘کہیں۔ لیکن وزیرِ اعظم کو سوچنا پڑے گا،کیا وہ چاہتے ہیں کہ مریم۔۔۔ بلاشبہ ان کا فخر اور پیاری بیٹی، جو اکثر میاں صاحب کی پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی مجموعی دانش سے زیادہ ذہانت، دماغ اور شعور کی حامل ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔۔۔ وہ گھر تک محدود ہو جائے اور دوبارہ کبھی عوامی زندگی میں کردار ادا نہ کرے!
اس موقع پر ہم اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں یا نہ ہوں، آنے والے ہفتوں میں جن چوائسز سے ہمارا سابقہ پڑنے والا ہے، درحقیقت وہ ایسے ہی تلخ نتائج کی حامل ہیں۔ ذرا زیادہ آگے جائیں تو، ہم اپنے لاکھوں قبائلی بھائیوں کی حفاظت کرنے سے انکار کر چکے ہیں اور ان کو ان کی قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں۔
ہم نے ترقی میں اور سہولیات جیسے کہ ہسپتالوں اور سکولوں کی فراہمی میں کبھی ان سے مساوی سلوک نہیں کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے بنیادی حقوق کی فراہمی میں بھی کبھی ان سے مساوی سلوک نہیں کیا۔ تمام پاکستانی، ایک طرح کے قوانین سے استفادہ کر رہے جبکہ فاٹا کے لوگوں پر ابھی تک برطانوی دور کے ظالمانہ فرنٹیر کرائمز ریگولیشن کے تحت حکومت کی جارہی ہے۔دوسری خوفناک چیزوں کے ساتھ ساتھ، یہ قانون علاقے میں کئے جانے والے کسی جرم کی مجموعی سزا تجویز کرتا ہے۔
سالوں تک ، ہم ایسے قوانین کی صفائیاں پیش کرتے رہے ہیں اور قبائلی ثقافت اور روایات کے احترام کے نام پرخواتین کے حقوق کو محدود کرتے رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہم اپنے شہری مراکز اور ترقی یافتہ علاقوں میں امن قائم کرنے کے لئے ان عظیم قبائلی پختونوں کو طالبان کے سپرد کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے جو انگنت جانیں گنوا کر بھی وفادار پاکستانی ہیں۔ امن کے لئے جو کچھ بھی مطلوب ہے، وہ کیا جانا چاہئے لیکن دائمی امن، ناانصافی کی بنیاد پر کبھی قائم نہیں ہو سکتا۔
تعصب، عدم برداشت، قتلِ عام اور لاقانونیت کے خلاف لڑائی، کسی بھی فوجی آپریشن سے کہیں بڑھ کر ملک کے طول وعرض میں لڑی جانی چاہئے۔ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ غریب اور محنتی آبادی بھی اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے دیکھے ہوئے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکے۔ان کوعمر بھر ذرائع معاش کے لئے کسی کا محتاج ہونے سے بچانے کے لئے، فنڈز کی شدید کمی کے شکارمقامی مدرسوں میں داخل کرانے سے کہیں بہترمستقبل کی امید کر سکیں۔ ان مدرسوں میں پڑھ کر وہ زیادہ سے زیادہ ایک امام بن سکتے ہیں۔
مولانا عبدالعزیز کہتے ہیں کہ رقص، موسیقی اور تفریح کی دوسری ’ناشائستہ‘ اقسام پر میڈیا اور معاشرے میں پابندی ہونی چاہئے کیونکہ یہ مردوں کومشتعل کرتی ہیں اور انہیں زناء کرنے پر اکساتی ہیں۔ مولانا سمیع الحق کہتے ہیں کہ جمہوریت ناکام ہو چکی ہے۔ اس لئے، شریعت آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اوراس کے لئے جدوجہد کرنے پر ہمیں تحریکِ طالبان پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ سمیع الحق کہتے ہیں کہ درحقیقت،تحریکِ طالبان پاکستان ہمارے آئین کو تحفظ فراہم کرنے کی جنگ لڑ رہی ہے۔
کیا ہماری سول اور فوجی قیادت وہ صلاحیت رکھتی ہے، جسے ایک ایسے پاکستان کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکے کہ جو اکیسویں صدی میں قوموں کی برادری میں پورے قد کے ساتھ کھڑا ہو سکے؟ایک ایسا ملک جو دوسروں کی خودمختاری کا بھی ویسے ہی جذبے کے ساتھ احترام کرتا ہے جیسے کہ وہ اپنی خودمختاری کا احترام کرتا ہے؟ ایک واقعی جدید ریاست جو اپنے اوپر فخر کرتی ہے اور غریبوں کے لئے بنائے گئے اپنے تعلیم اور حفظانِ صحت کے نظام پربھی اتنا ہی فخر کرتی ہے جتنا کہ وہ اپنی میٹرو بسوں، موٹر ویزاور اپنی رنگ برنگی اور امیر ثقافت پر فخر کرتی ہے؟ بہرحال۔۔۔ ہم پاکستان کے لئے ایک اچھا احساس رکھتے ہیں اور ہم اچھا احساس ہی رکھیں گے چاہے وہ ہمیں دوبارہ ناکامی سے دوچار کر دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *