مذہبی بیانیہ بمقابلہ لبرل بیانیہ

nimaz

(بشکریہ: انعام الحق اعوان)

اسلام ہی نہیں کسی بھی مذہب ،اصولوں اورتہذیب سے کوسوں دورمٹھی بھرعناصرپاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے سقوط ہندوستان کے ساتھ ہی متحرک ہوگئے تھے ،لیکن چونکہ معاشرہ اورریاست خالص اسلامی نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آئی تھی ،ا س وجہ سے اب تک یہ اشرافیہ اپنے بڑے چھوٹے مغربی اورہندوستانی آقائوں کی توقعات پرپورااترنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے ،خودکوروشن خیال اورلبرل کہنے والے اس قدرتنگ نظرہیں کہ وہ اپنے نظریات کے علاوہ کسی دوسرے کوبرداشت کرنے کے قائل ہی نہیں ،ان کی نظرمیں صرف وہ درست اورکامل ہیں باقی تمام عناصراس دنیا میں فضول ترہیں۔ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کا بیانیہ بھی یقینی طورپرمذہبی ہی ہوناچاہیے تھااورقائداعظم کی دلی خواہش بھی یہی تھی کہ اس ریاست کومذہبی بیانیے کے تناظرمیں ایک اسلامی وفلاحی ریاست بنایا جائے ،بانی پاکستان محمد علی جناح کے مذہبی بیانیے کے حق میں نظریات کے باعث اس طبقہ اشرافیہ کے سینوں پرسانپ لوٹ رہے تھے اوران کی شدید ترخواہش تھی کہ کسی بھی طورقائدکورستے سے ہٹاکراسلامی ریاست کوایک سیکولراورلبرل ریاست بنایا جائے ۔ قائدکے بقول ان کی جیب کے کھوٹے سکے ،جوپاکستان کی اساس کے دشمن تھے بالآخراس حد تک کامیا ب ہوئے کہ انھوں نے قائداعظم کوجنگل میں ایک خراب ایمبولینس کے سپردکردیا جس میں پیٹرول بھی اتناڈالاگیا کہ وہ صرف چارمیل ہی طے کرپائی اورپھروہ عظیم قائد جس نے اہل پاکستان پرکروڑوں احسانات کرکے انھیں آزاد فضائوں میں سانس لینے کے کیلئے ایک سمت متعین کرکے منزل پر پہنچایا تھا ،ایک ویران سڑک پر شدیدگرمی اورحبس میں اپنی لاڈلی بہن فاطمہ کے ساتھ بے بس پڑا تھا،او رپھر مذہبی بیانیہ کا موجدکشمیرانھیں فیصلہ کرنے کاحق دو آئین میں اسے بہت جلدمکمل کروں گاکے آخری الفاظ اداکرکے ہمیشہ کیلئے اہل پاکستان سے روٹھ گیا۔قائدکی رحلت کے بعد کرپٹ اشرافیہ کی توامیدیں برآئیں کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں اب ہم اس ملک میں مذہبی بیانیہ کودفن کرکے لبرل اورلادین بیانیہ کوفروغ دیں گے اورقراردادپاکستان کی دھجیاں بکھیرکررکھ دیں گے ،لیکن ان کی بدقسمتی ایسی کہ ان کے یہ خواب مذہبی طبقات اوراسلام پسندوں نے ناکام بنادئیے،ان کے ہروارکوناکام بناتے ہوئے محمد عربی ۖکے غلام مدینہ جیسی اسلامی ریاست کواسی اندازمیں ڈھالنے کیلئے پرعزم رہے،بارہا ان کی جدوجہد کے مقابلے میں جیل ،مقدمات ،لاٹھیاں اورگولیاں آئیں ، ستمبر1948 میں قائدکی وفات ہوئی اوراس کے صرف ایک ماہ بعداکتوبر1948 میں سیدابوالاعلی مودودی کومحض اس جرم کی پاداش میں گرفتارکرکے پابندسلاسل کردیا گیا کہ انھوں نے اسلامی نظام کے قیام کا مطالبہ کیا تھا ،گرفتاری سے قبل جماعت اسلامی کے اخبارات کوثر ، جہان نواورروزنامہ تسنیم بھی بندکردئیے گئے۔لیکن طاغوت کے تمام ترہتھکنڈ وں کے باوجود یہ جدوجہد ماند نہ پڑی اور پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کو 12مارچ 1949 میں قراردادمقاصد منظورکرنا پڑی،اس قرارداد کی وجہ سے لبرلز آج بھی شدیدترجھنجھلاہٹ کا شکاراوراپنے بال نوچنے پر مجبورہیں اورآج ایک بارپھران کا ہدف قراردادمقاصدہے کیونکہ اس قرارداد نے واضح کردیا کہ پاکستان کے آئین کا ڈھانچہ یورپی طرزکا قطعی نہیں ہوگا ،بلکہ اس کی بنیاد اسلامی جمہوریت ونظریات پر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ لبرل بیانیہ کے حمایتی طبقات ،اہل اسلام کے خلاف بے بنیاد گرداڑانے کی کوشش کرتے ہیں ،کبھی دہشتگردی کواسلام سے جوڑا جاتا ہے توکبھی کسی حجام کاالزام ایک عالم دین پرلگا کرمولوی کوایک گالی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن ان کی سازشیں ہمیشہ سے ان پر ہی الٹ رہی ہیں جوتدبیرکرتے ہیں وہ ان کے مخالف ہوجاتی ہے اوررسوائی وہزیمت ان کے حصے میں آتی ہے ،عالمی سطح پرمسلح دہشتگردوں کوپروان چڑھانے کی کوشش لبرلزکے آقائوں کومہنگی پڑ گئی جس آگ سے مغربی الحاد ،امت مسلمہ کوجلاکرراکھ کرنے کی سازش کررہا تھا آج وہ سازش الٹی ہوئی اورو ہ آگ دھیرے دھیرے اس کے اپنے گھروں کوجلارہی ہے ۔پاکستانی اسلام پسند عوام اس ضمن میں بالکل یکسوہیں کہ یہاں اسلامی نظام کے قیام کیلئے مسلح جدوجہدملک میں خانہ جنگی اورتفرقہ بازی کا باعث بنے گی، اس لیے محب وطن اسلام پسند پاکستان میں جمہوری اوربیلٹ کے ذریعے تبدیلی لاکراس مملکت خدادادمیں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ،انشاء اللہ وہ وقت دورسنہیں جب یہ ریاست قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیرمیں حقیقی اسلامی وفلاحی ریاست بنے گی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *