فیئرنس کریموں کے اشتہارات نسلی امتیاز کے فروغ کا سبب

fairnessرنگ گورا کرنے والی کاسمیٹکس مصنوعات کی اربوں ڈالرز مالیت کی صنعت اس خیال کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے کہ گورا رنگ اور گندمی جلد ہی خوبصورت ہیں، اور ان کی یکساں اہمیت ہے ۔
کاسمٹیکس مصنوعات تیار کرنے والی صنعت روایتی طور پر لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ ان کی خاص مصنوعات کے بغیر نامکمل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میک اپ اور مصنوعی گندمی رنگ کے برعکس رنگ گورا کرنے والی کریموں سے حاصل خوبصورتی نے نسلی ضابطے میں عدم برداشت اور سنگین سماجی نقصانات کو بھی فروغ دیا ہے۔ہندوستان جیسے ملک میں جہاں نو آبادیاتی نظام کے تحت اور ایک نسلی وراثت دونوں ہی کا غلبہ رہا تھا، اس کے علاوہ عالمی داستانیں بھی یہی کہتی ہیں کہ معاشرے کی اعلٰی سطح کا طبقہ گورے رنگ کا مالک تھا۔یہاں بہتر ملازمت اور اچھے رشتے کے حصول جیسے معاملات بھی اکثر جلد کی رنگت کی وجہ سے کامیابی ملتی ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد بہتر نتائج کے حصول کے لیے رنگ گورا کرنے والی کریموں کی خریداری پر اپنی کمائی کا بیشتر حصہ خرچ کر دیتی ہے۔اسی عدم مساوات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاسمیٹکس تیار کرنے والی کارپوریشنوں کی جانب سے سینکڑوں مصنوعات فروخت کے لیے پیش کردی گئی ہیں، یہاں تک کہ ان میں بغلوں کو گورا کرنے والی کریمیں، جینٹائل وائٹنر اور فیئرنس بے بی آئل بھی شامل ہیں۔
انڈیا اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں ایسی کاسمیٹکس مصنوعات تلاش کرنا مشکل کام ہے جن کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا ہو کہ یہ رنگ گوریا کرتی ہیں یا اسے چمکدار بناتی ہیں۔ حال ہی میں ایک مشہور شخصیت کے ذریعے نائجیریا میں لانچ کی گئی ایسی ہی ایک پروڈکٹ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر خرید لی گئی۔بہت سی عالمی کارپوریشنیں اس مارکیٹ میں شامل ہیں، جیسے کہ یونی لیور، جو فیئر اینڈ لولی، پونڈز وہائٹ بیوٹی، ویسلین اور ڈَوو کی وہائٹننگ رینج فروخت کرتا ہے۔
خواتین کے ساتھ اس امتیازی سلوک سے بھرپور ماحول کو چیلنج کیا ہے ایک ہندوستانی غیر سرکاری تنظیم این جی او نے، جس نے سیاہ رنگت خوبصورت ہے کے عنوان سے ایک مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کی ڈائریکٹر ہیں کویتا ایمانویل، ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے نتائج بچوں اور نوجوانوں میں کام کرکے حاصل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جلد کی رنگت کا مسئلہ لوگوں کے سامنے اُٹھایا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح نوجوانوں خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے رنگت ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ اگر ان کا رنگ صاف نہیں ہوتا تو وہ اپنے لیے اچھا محسوس نہیں کرتے۔“”جلد کی رنگت کے حوالے سے پایا جانے والا تعصب لوگوں کی نفسیات کو متاثر کرتا ہے۔ اس تعصب کا اثر بچوں کی اسکول میں کارکردگی پر پڑتا ہے، اس لیے کہ ان کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ وہ خود کو بہتر محسوس نہیں کرتے اور جب شادی کا معاملہ درپیش ہوتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جلد کی رنگت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ آخر ہم کیوں اس بارے میں خاموش رہتے ہیں؟ ہمیں اس بارے میں بات کرنی چاہیٔے اور دیکھنا چاہیٔے کہ لوگ اس پر کیا ردّعمل ظاہر کرتے ہیں۔“
کویتا ایمانویل نے تیس ہزار لوگوں کے دستخطوں کے ساتھ ایک پٹیشن امامی کاسمیٹکس کمپنی کے حوالے کی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فیئر اینڈ ہینڈسم کے ایک خاص اشتہار سے دستبردار ہوجائے جس میں رنگت کے حوالے سے امتیازی انداز اختیار کیا گیا تھا۔انہوں نے امامی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے الفاظ دہرائے ”ہماری سوسائٹی کو رنگ گورا کرنے والی کریموں کی ضرورت ہے، لہٰذا ہم ان کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔“
امامی کمپنی نے اس اشتہار کو واپس لینے سے انکار کردیا۔ ایڈورٹائزنگ کونسل آف انڈیا سیاہ رنگت خوبصورت ہےکی مہم کے تحت اس طرح کے اشتہارات کے خلاف قانون سازی کے لیے کوشش کررہی ہے، جن سے گہری رنگت کے خلاف امتیازی رویوں کا اظہار ہوتا ہے۔بالوں اور آنکھوں کے رنگ کے ساتھ ساتھ جلد کی رنگت کا انحصار جینیاتی طور پر میلانن نامی ایک عنصر پر ہوتا ہے، جو جلد کی اوپری سطح پر پایا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *