ہم کسی کے کیسے اور کہاں تک کام آسکتے ہیں؟

Dr Khalid sohail
(ڈاکٹر خالد سہیل)
حساس ، مہربان اور دوسروں کا خیال رکھنے والے افراد سے مل کر کسے خوشی نہیں ہوتی ۔ شفقت اور پیار کا اظہار انسانوں کی بہترین خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ دنیا میں کچھ لوگ اپنے خاندان یا کمیونٹی کے لئے پُرخلوص ہوتے ہیں اور کچھ پوری انسانیت کیلئے ۔ اب اس انسانی دیکھ بھال اور فکرمندی کا پیمانہ کیا ہے؟
میں اپنی کلینکل پریکٹس کے دوران بےشمار ایسے مرد و خواتین سے ملتا رہا ہوں جو اپنے رشتےداروں ، دوستوں کی حالاتِ زار پر اس حد تک متفکر اور سنجیدہ پائے گئے کہ اس سے ان کی اپنی صحت متاثر نظر آنے لگی ۔ کچھ اس لئے ہمیشہ رنجیدہ نظر آئے کیونکہ انھیں اپنے کمیونٹی کے بیمار اور معذور افراد کا غم کچوکے لگاتا رہتا ہے ۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی بھی طرح کے تشدد اور جنگ کے متاثرین کو میڈیا پر دیکھ ، سن یا پڑھ کر غمگین رہتے ہیں ۔ ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اور اس طرح کے واقعات یا تصاویر ان کے ذہن سے چپک جاتی ہیں ۔
جب میں نے اپنی کلینیکل پریکٹس میں ایسے لوگوں کا انٹرویو کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان میں بیشتر بےحد حساس طبیعت کے مالک ہیں اور بہت سے Post-Traumatic Stress Disorder یا Obsessive Compulsive Disorder کی شکایت کا شکار ہیں ۔ وہ حساس طبیعت کے باعث اپنے خاندان ، اردگرد یا دنیا میں وقوع پذیر انسانی غموں کو اپنے اوپر اس شدت سے طاری کرلیتے ہیں کہ اپنی شخصیت و ذہن کو ہی مفلوج کر بیٹھتے ہیں حالانکہ ان کی مایوسی ، پریشانی اور ناامیدی معذور و مجبور افراد یا دنیا کے ابترحالات میں کوئ مثبت حقیقی تبدیلی پیدا نہیں کرپاتی ۔
میں ایسے حساس اور قابلِ قدر لوگوں سے ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ بےشک آپ کا جذبہ مستحسن ہے مگر caring اور carrying میں فرق رکھئیے ۔ جنھیں مدد کی ضرورت ہے اگر آپ عملی طور پر ان کی مدد کرسکتے ہیں ، ان کے کام آسکتے ہیں ضرور کام آئیے مگر اس غم اور ہمدردی کو اپنے اعصاب پر مت سوار کیجئے ۔ اس سے کسی کا بھلا ہو نہ ہو آپ کی اپنی شخصیت متاثر ہوسکتی ہے ۔
میں انھیں یہ بھی کہتا ہوں کہ آپ اِدھر اُدھر ، ہرطرف بھٹکنے کی بجائے اپنی دلچسپی اور مہارت کی جگہ اپنی مدد کرنے کی صلاحیتیں استعمال میں لائیے ۔ میں انھیں اپنی مثال دیتا ہوں ۔ چونکہ میں ایک سائیکوتھراپسٹ ہوں اس لیئے لوگوں کے جذباتی مسائل کے حل میں مدد دیتا ہوں لیکن اگر کسی کو دماغی بیماری ہے تو میں اسے فوراً دماغی امراض کے ماہر (Neurologist) کے پاس بھیج دیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے یہ میرا شعبہ نہیں تو اچھی مدد یہی ہے کہ اس کی بیماری پر خود کُڑھنے کی بجائے اسے ایسے ماہر کے سپرد کردیا جائے جو اسے اس تکلیف سے چھٹکارہ دینے میں مدد کرسکے ۔ ہم میں سے اکثر افراد کسی کی مدد نہ کرسکنے کے باوجود اسے صاف صاف ”نہیں“ ، نہیں کہہ پاتے ۔ انھیں یہ خیال لاحق رہتا ہے کہ شاید مدد مانگنے والا یہ سمجھ لےگا کہ وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا ۔ اس طرح وہ اپنی مجبوریوں اور حد (Limits) کو سمجھتے ہوئے بھی ایک نادیدہ ضمیر کا بوجھ اپنے اوپر سوار کرلیتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے موقع پر ”نہیں“ کہنے کی جرات آپ اور مدد مانگنے والے دونوں کیلئے ایک توازن کی راہ ہے ۔ اس طرح دونوں زندگی کی حقیقتوں کے قریب رہتے ہیں ۔
اگر آپ غیرضروری طور اپنی حد سے باہر نکل کر دوسروں کی زیادہ سے زیادہ مدد پر تُلے رہیں گے تو بہت جلد اپنے آپ کو تھکاہارا ، بوجھل اور ختم شد محسوس کریں گے ۔ یہ اپنے آپ کو جَلامارنے (burnout) کی ابتدائ نشانیاں ہیں ۔ ایسے لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا موقعہ فراہم کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کا دوسروں کی مدد کا جذباتی پن اسی وقت کارآمد ہوسکتا ہے جب وہ خود زندگی سے اپنے لئے خوشی کشید کرنا جانتے ہوں ۔ آپ پہلے اپنے لئے کچھ کیجئے جب آپ کی خوشیوں کا جگ بھرتا رہے گا تبھی آپ اس میں سے حتی المقدور گلاس بھر بھر کر دوسروں کو بانٹتے رہیں گے ۔ جب آپ ہی خوش نہیں ہونگے تو دکھی افراد میں خوشی کہاں سے بانٹیں گے؟
اب آپ سے کیا پردہ آج کے اس بلاگ کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اوپر جو بھی باتیں میں نے آپ کیلئے لکھی ہیں اُن پر اِن دنوں خود عمل پیرا ہوں ۔ میں اپنے مریضوں کی مدد کی نیّت سے آج کل خود اکثر شامیں اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ تفریحی اور تخلیقی سرگرمیوں میں گذارتا ہوں تاکہ ”اپنے جذباتی جگ“ کو بھرسکوں ۔ اس طرح مجھے نئ مسرت اور توانائ ملتی رہتی ہے اور میں اسے اپنے مریضوں اور ان کے رشتےداروں میں تقسیم کرتا رہتا ہوں ۔ وعدے کم اور عمل کی سکت و استطاعت زیادہ ہو تو ہم بیک وقت اپنے آپ کو دو طرح سے خوش رکھ سکتے ہیں ۔ انسانوں سے لےکر بھی اور انھیں دےکر بھی ۔ ضمیر کے بوجھ تلے دب کر اور غمگین رہ کر کسی کی مدد کرنا اور خود خوش رہ کر انسانوں سے محبت کے محسوسات کے ساتھ کام آنا ایک خوش آئند اور مثبت رجحان ہے ۔ ایک بار کوشش تو کردیکھئے smile emoticon

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *