کیا یہ واقعی ہم نہیں؟

naeem-baloch1 اس استاد کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے جب شرارتی اسد نے ان کی میز کے دراز میں مردہ چوہا رکھا توکئی ایک لڑکوں نے اسے دیکھنے کے باوجود اسے نہ پوچھا نہ روکا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اسد کو پڑھنے سے کوئی دلچسپی نہیں رہی لیکن د وہ پھر بھی خاموش رہے ۔شاید اس کی اس حرکت میں ان کے جذبات کی بھی تسکین ہوتی تھی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ سارے اب اس لمحہ مطلوب کا انتظار کر رہے تھے جب سر بابر اور اس چوہے کا آمنا سامنا ہونا تھا۔آخر وہ’’ شبھ‘‘ گھڑی آہی گئی۔ڈسٹر کی تلاش میں بابر صاحب کی ملاقات مردہ چوہے سے ہو گئی . وہ اسے دیکھ کر حلق کے بل چیخے:’’کس مردود کی حرکت ہے۔‘‘ ان کے وحشت زدہ ہو نے پر کلاس کے اکثر لڑکے دل ہی دل میں بہت محظوظ ہو ئے تھے۔ لیکن ان کی خوشی بڑی عارضی ثابت ہو ئی تھی۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے انھوں کڑک دار آواز میں کہا تھا: ’’ تمام لڑکے کھڑے ہو جائیں ‘‘۔ پھر انھوں نے مزید اعلان کیا :اگر اس خبیث کے متعلق مجھے آپ لوگوں نے نہ بتایا تو سب کو اس حرکت کا خمیازہ بھگتنا پڑا گا۔ ان کے اس واشگاف اعلان کے باعث پوری کلاس میں سراسیمگی پھیل گئی۔ جاننے والے لڑکے یا تو ان کی دہشت سے چپ تھے یا ان کے اندر ابھی بھی اسد سے ہمدردی تھی ۔ لیکن جب یہ خاموشی سر بابر کی حد ضبط سے متجاوز ہوئی تو وہ ایک مرتبہ پھر دھاڑے: ’’تم سب اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لو ۔۔۔۔ بالکل سیدھے ، جس نے ہاتھ ڈھیلے رکھے اس کی ہڈیاں توڑ دوں گا !‘‘ اس حکم پر فورا! عمل ہوا لیکن چند لمحوں کے بعد بعض نحیف سی آوازیں آنا شروع ہو ئیں: ’’ سر ، یہ ہم تو نہیں ہیں ! ‘‘ لیکن بابر صاحب بڑے جابر قسم کے استاد تھے ۔ وہ اگر چہ جانتے تھے کہ یہ کسی ایک لڑکے ہی کی حرکت ہو سکتی ہے لیکن وہ اس شرارت پر پوری کلاس کو نمونہ عبرت بنا دینے کا فیصلہ کر چکے تھے ۔
برسوں پہلے کا یہ واقعہ مجھے اس وقت یاد آیا جب پچھلے دنوں اخبارات اور ٹی وی چینل پر بڑے مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان آیا کہ مدرسوں پر تاخت بند کی جائے ۔ اسلیے کہ دہشت گردی کرنے والے ہم نہیں ہیں ۔ لیکن کیا یہ اتنی ہی سادہ بات ہے ؟ دراصلایک عرصے سے ہمارے ہاں دنیا کو یہ باور کرانے کی اپنی سی کوششیں ہو رہی ہیں کہ ہم نہ دہشت گرد ہیں اور نہ ہمارے معاشرے کے لوگوں کی دہشت گردوں کو حمایت حاصل ہے۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس دلدل سے ہم نے نکلنے کی جتنی بھی کو ششیں کی ہیں ہم اسی قدر اس میں دھنستے جا رہے ہیں اور نوبت ایں جا رسید کہ ہمیں کہا جا رہا ہے : تم سب اپنے ہا تھ اوپر اٹھا لو !
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہماری وضاحتیں اسی طرح ’’حقیقت ‘‘پر مبنی ہیں جس طرح یہ وضاحت کہ کشمیر کے مجاہدین کو ہم کوئی مدد نہیں دے رہے تھے۔ مثلاً ہماری حکومت عام طور پر یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ہمارے ہاں طالبان کی سوچ رکھنے والے لوگ تو محض آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور ان ’’ بنیاد پرستوں ‘‘ کو معاشرے میں عام حمایت حاصل ہے اور نہ سوچنے سمجھنے والے لوگ ان کو درست سمجھتے ہیں ۔ اس کے لیے انتخابات میں ’’بنیاد پرستوں ‘‘ کی غیر مقبولیت کو دلیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ دلیل واقعی مبنی بر حقیقت ہے ؟
یہ ٹھیک ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر ذالفقار علی بھٹو تک اور نواز شریف سے لے کر شہید بے نظیر بھٹو اور عمران خاں تک ۔۔۔تمام مقبول ترین سیاسی رہنما ان معنوں میں ہر گز مذہبی نہیں جن معنوں میں مولانا مودودی یا مولانامفتی محمود۔ سیاسی رہنمائی کے لیے لوگوں نے مذہب کے بجائے ہمیشہ اعتدال پسند شخصیات ہی کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن اس معاملے میں حقیقت پسندانہ تجزیہ یہی ہے کہ ہمارے عوام وخواص مذہب کے معاملے میں اپنے موروثی اور روایتی عقائد ہی پر ایمان رکھتے ہیں اور سیاست میں وہ بتدریج جمہوری شعور کی طرف گامزن ہیں۔ ہما ری بات کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ لوگ سیاسی وابستگی میں اپنے مذہبی فرقے یا مکتبہ فکر کی رعایت نہیں رکھتے ۔مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع بھی ہو سکتے ہیں اور اہل سنت بھی، اہل حدیث بھی ہو سکتے ہیں اور دیوبندی بھی۔ لیکن جب نماز پڑھنے یا فقہی مسائل کی بات آتی ہے تو ہمیشہ اپنے روایتی اور خاندانی فرقے کے مطابق عمل کرنا پسند کریں گے۔ چنانچہ یہ منظر کسی نے نہیں دیکھا ہو گا کہ کوئی سنی کسی اہل تشیع کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا ہو لیکن یہ منظر ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نواز شریف کے پیچھے بڑے خشوع خضوع سے سیاسی نماز اس نیت کے ساتھ ادا کی جارہی ہے کہ’’ دو رکعت نماز ہنیرا ، جدھر منہ امام دا ،اودھر میرا‘‘ ۔ اس لیے یہ محض ایک جھوٹا تاثرہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت اسی معتدل مذہبی رجحان پر ایمان رکھتی ہے جو ان کے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔
اس سلسلے میں دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمارے عوام کے اندر’’روشن خیالی ‘‘بڑی مقبول ہو رہی ہے اور میڈیا پر مغربی رجحانات اور معاشرت میں جدت پسندی کو اس کے لیے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس تبدیلی سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یاد رہے کہ اس کو بلا کسی استثنا ء کے ہر ایک کے ہاں بے عملی ، بے کرداری ، بے راہروی اور مذہبی اقدار سے روگردانی تصور کیا جاتا ہے۔ تصویر سے لے کر موسیقی تک اور سینما بینی سے لے کر مخلوط تعلیم تک ، ہر ایک کے بارے میں بے عمل ترین مسلمان پاکستانی کی یہی رائے ہے کہ ایسا کرنا بالکل گناہ کی بات ہے، وہ تو بس دنیا داری کا شکار ہو کر ایسا کر رہا ہے ،ہدایت ملنے پر وہ ضرور تائب ہو جائے گا اور اللہ کے حضور اس گناہ کی معافی بھی مانگے گا۔مشہور سنگر جنید جمشید سے لے کر کریکٹرسعید انور تک اور ایکس ڈاکٹر اور حاضر مولانا طارق جمیل سے لے کر فضیلہ قاضی تک، ہر شعبہ زندگی میں آپ کو اس کی سینکروں مثالیں مل سکتی ہیں۔ اس سے یہی بات موکد ہوتی ہے کہ یہ صورت حال منافقت تو قرار دی جا سکتی ہے کوئی شعوری اور جوہری تبدیلی قرار نہیں پاسکتی بلکہ اس کو بنیاد بنا کر مذہبی قوتیں اس ’’گمراہی ‘‘ کے خلاف ’’جہاد و تبلیغ ‘‘ کو مزید تیز کرسکتی ہیں ۔ چنانچہ یہ غیر حقیقی تبدیلی داعش جیسی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ترویج کے لیے بڑی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ اس خوفناک حقیقت کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی اکثریت انھی مذہبی رجحانات کی اسیر ہے جنھیں جوش دلا کر ، جنھیں زندہ کر کے، جنھیں استعمال کر کے خود کش بمباروں ، جنونی جہادیوں اور انتہائی بے لچک بنیاد پرستوں کی وسیع کھیپ تیار کی جاسکتی ہے اور کی جارہی ہے ۔ ہمیں اگر اس طوفان کے آگے بند باندھنا ہے ، دنیا کو تبدیلی کا واقعی یقین دلانا ہے ، اسلام کو امن کا علمبردار مذہب ثابت کرنا ہے تو حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہو گا۔ قرآن کی اپنی سمجھ میں نہ والی آیات کونصاب سے نکال کر یا مدرسوں میں کمپیوٹر اور انگریزی زبان کے ’’بے ضرر ‘‘ کورسز ڈال کر، یا ان پر بے ضرر قسم کے چھاپر مار کر کوئی جوہری تبدیلی نہیں لا ئی جا سکتی۔ مساجد کو’’لال ‘‘ ثابت کر کے ان کو ظالم سے مظلوم بنا دینے کی حماقتوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ اس کے بجائے ضروری ہے پہلے مسائل کا حقیقی ادراک کیا جائے ۔ اہل علم پورے دلائل اور پوری مذہبی روایت کے ساتھ اس بات کا اثبات کریں کہ خود کش دھماکے چاہے پاکستان میں
ہوںیا اسرائیل میں ،کسی بے قصور ہندو کو مارا جائے یا یہودی کو، مسلمان نشانہ بنے یا مسیحی ،یکساں قابل مذمت اور یکساں گناہ ہے۔ اور جہاد کوئی دو رکعت نماز نہیں کہ جب جی چاہا بندوق اٹھائی اور کر لیا۔قرآن کی معرکۃالآراء آیات ہوں یا مغرب کے ہاں متنازعہ فیہ شریعی احکام ، ان سب کا مسکت اور اور انتہائی مدلل جواب موجود ہے۔ تب معاشرے میں بھی وہ تبدیلی آئے گی جو منافقت نہیں ہو گی ،جو واقعی انتہا پسندی کے خلاف اسی طرح کااتفاق اور consensus جنم دے گی جس طرح آج آمریت کے مقابلے میں جمہوریت کو عام طور پر حاصل ہے ورنہ ’’مرض بڑھتا گیا جو ں جوں دوا کی‘‘ کیفیت برقرار رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *