ذہنی دباؤ

untitled (14)پروفیسر ڈاکٹر مطلوب الرسول کا یہ فیچر خاصے کی چیز ہے ۔۔۔ یقین نہ آئے تو پڑھ کر دیکھ لیں!(ایڈیٹر)

ہم خوش قسمت ہیں کہ اِس ترقی یافتہ دور میں پیدا ہوئے جہاں زندگی گزارنے کے لیے بہت سی ایسی سہولیات موجود ہیں جن کی وجہ سے ہماری زندگی بہت آسان اور کسی حد تک پُر تعیش بھی ہو گئی ہے۔ مگر ساتھ ہی ہم بد قسمت بھی ہیں کہ اس آسانی اور تعیش کی جو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے اُس نے ہسپتالوں کی رونق میں اضافہ کر دیا ہے۔ انسان جس کی تخلیق کا مقصد اس کرۂ ارض کو جنت بنانا اور خود جنتی لوگوں کی طرح بے فکر زندگی بسر کرنا تھا، زمین کو جنت نما تو بنا رہا ہے مگر زندگی کو جہنم کا نمونہ بناتا چلا جا رہا ہے۔ ترقی کا یہ سفر مسلسل انسان کو مشین میں بدلتا جا رہا ہے۔ جس کا کام صرف چلنا اور پراڈکٹ تیار کرنا ہے۔ لیکن مشین اور انسان میں احساس کا فرق کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی احساس انسان کو ایک ایسی کیفیت میں لے جاتا ہے جہاں اُس کا جسم تو کام کر رہا ہوتا ہے مگر دماغ بغاوت پر اُتر آتا ہے۔ جو اُسے احساس دلاتا ہے کہ تم مشین نہیں، انسان ہو۔ بس یہاں سے رسّی پر دو طرفہ دباؤ پڑنا شروع ہو جاتا ہے، رسّی میں تناؤ آنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر یہ تناؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ لچک ختم ہو جاتی ہے اور جہاں لچک نہ ہو وہاں ٹوٹ پھوٹ نہ ہو، ممکن نہیں۔ اسی تناؤ کا نام stress ہے جو بعد میں ڈپریشن اور پھر Anxiety میں تبدیل ہو کر پہلے انسان کی شخصیت کو تباہ کرتا ہے اور بعد میں اُس کی صحت کو۔
ہم جس زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اُس کی سب سے بڑی حقیقت یہی ذہنی دباؤ ہے کیونکہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوتا ہے، اکثر ہمارا اُس پر اختیار نہیں ہوتا۔ لیکن اُن مخصوص حالات میں ہم نے کرنا کیا ہے یہ ہمارے اختیار میں ہے۔ کسی بھی غیر موافق واقعے کے نتیجے میں ہمارا رویہ اصل اہمیت رکھتا ہے، ہم خود کو یا توپُر سکون رکھ سکتے ہیں یا پھر ردّ عمل کے طور پر ایسا رویہ اختیار کر سکتے ہیں جو نہ صرف ہماری ظاہری شخصیت کو مضحکہ خیز بنا سکتا ہے بلکہ ہمارے اعصاب پر دباؤڈالتے ہوئے ہمیں مختلف بیماریوں کا ترنوالہ بنا سکتا ہے۔
’’سر! آپ صرف مسکرایا کریں، آپ غصے میں اچھے نہیں لگتے۔‘‘ یہ جملہ میں اپنے طلبہ سے کئی مرتبہ سن چکا ہوں۔ اور ایک دن تو میں حیران ہی رہ گیا جب ایک طالبِ علم کی غلط حرکت پر میں نے اسے ٹوکا تو وہ فوراً بولا؛ ’’سر! آپ نے غصہ نہیں کرنا۔‘‘ میں نے پوچھا وہ کیوں؟ کہنے لگا کہ آپ غصہ کرتے ہوئے بہت بُرے لگیں گے۔
یہ واقعی حقیقت ہے کہ جب انسان پُر سکون ہوتا ہے یا مسکرا رہا ہوتا ہے تو وہ انسان لگتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی غلط انداز میں ردّ عمل کر رہا ہوتا ہے تو پھر وہ کچھ بھی لگ سکتا ہے۔۔۔۔۔ مگر شاید انسان نہیں۔
اس مشینی دور میں ذہنی دباؤ سے بچنا تو ممکن نہیں لیکن خود کو اس دباؤ سے نکانا کیسے ہے یا اُن حالات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اس پر ضرور غور کیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں کچھ ایسے طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جن پر عمل کر کے اس صورتحال کی شدت میں کمی کی جاسکتی ہے:۔
(۱) آپ کسی بھی جگہ پر بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ ناف کے مقام پر رکھیں اورآہستہ آہستہ سانس اندر کھینچتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو پھولتے پیٹ کے ساتھ اوپر اُٹھتا دیکھیں، کچھ دیر سانس کو اندر روکیں، پھر آہستہ آہستہ باہر نکالیں۔ ایسا دس پندرہ مرتبہ کیجئے۔
(۲) آنکھیں بند کر کے کسی خوبصورت چیز کو تصور میں اپنے قریب محسوس کریں۔
(۳) مسکرائیں، زبردستی مسکرائیں تاکہ دماغ کا مُوڈ کنٹرول کرنے والا سسٹم جسم کو ہلکا پھلکا رہنے کا پیغام بھیجے۔
(۴) اگر آپ کو ریاضی میں دلچسپی ہے تو میتھ کا کوئی آسان سا سوال حل کرنا شروع کردیں۔
(۵) یوں سمجھیں آپ ایک بڑے سے گنبد میں کھڑے ہیں جہاں آپ کی اپنی ہی آواز گنبد کی دیواروں سے ٹکرا کر آپ کو سنائی دے رہی ہے۔ پھر خود سے کہیں ’’ میں پُر سکون ہوں اور اس معاملے کو سنبھال لوں گا۔‘‘
(۶) حالات پر کُڑھنے کی بجائے، مسائل کا حل تلاش کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کیجئے۔
(۷) اپنے تمام مسائل کو کاغذ پر ترتیب سے لکھیں اور اُسی ترتیب سے ان کا حل تلاش کریں۔
(۸) چائے، کافی یا کولڈ ڈرنک کی بجائے تازہ پانی یا پھلوں کا جوس پئیں۔
(۹) سب کچھ کرنا کسی کے اختیار میں نہیں۔ اگر کوئی کام آپ نہیں کر سکتے تو سلیقے سے انکار کرنا سیکھئے۔
(۱۰) اپنے ہاتھوں کو آپس میں اتنا رگڑیں کہ وہ گرم ہو جائیں۔
(۱۱) انسان کے کام آئیں۔ اللہ کو دوست بنائیں اور سُکھ پائیں۔
اَلَا اِنَّ اَولِیا ءَ اللہِ لَا خَوف’‘ عَلَیھِم وَلَا ھُم یَحزَنُونo
بے شک جو اللہ کے دوست ہیں انہیں نہ کوئی خوف ہے نہ غم۔

ذہنی دباؤ” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *