صحافت کی کالی بھیڑوں کا علاج کون کرے گا؟

M.R.Malik

(ایم آر ملک)

احتساب کی روایت زندہ معاشروں کی نشانی ہے۔ جن معاشروں میں احتساب دم توڑ دیتا ہے وہاں انصاف ،عدل کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ انصاف کی پہلی سیڑھی احتساب ہے مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہورہا۔ اوروں کے گریبان میں جھانکنے سے قبل ہمیں اپنا دامن بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کرپشن سے تار تار ہے یا اُجلا ،ہمیں اپنے شعبے سے احتساب کا آغاز کرکے ایک توانا روایت کو جنم دینا ہوگا ۔
بدقسمتی سے صحافت 90کی دہائی میں اس نہج پر پہنچی کہ نفرت کا لباس اس کا مقدر ہے۔ اخبارات کی دنیا میں ایسے افراد کا جنم ہوا جو اس کے تقدس سے تو ناآشنا تھے ہی تاہم بلیک میل کرنے میں جو ملکہ اُنہیں حاصل ہوا اُس سے اُنہوں نے آنے والے وقت میں صحافت کے کارڈخرید کر اپنے چہرے پر جوبلیک میلنگ کی کالک ملی اُس کا داغ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نمایاں تو ہوا لیکن اُس میں کمی نہ آسکی۔ اس مافیا نے ایک مقدس پیشہ کی آڑ میں اپنے کالے دھن میں اضافہ کرنے کی خاطر ذہانت کا سودا کیا۔قابلیت پس منظر میں چلی گئی۔ اداروں نے اپنے صحافتی ادارے کے کارڈ قابلیت کے بجائے پیسہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بیچے۔ یہی نہیں 50ہزار تک اُنہوں نے اپنے ادارے کے کارڈ کی فیس وصول کی۔ اس طرح صحافت میں اُن کا مطمح نظر چونکہ محض پیسے کا حصول تھا سو اُنہوں نے جرائم پیشہ افراد کو بھی اپنے اداروں سے وابستہ کر لیا۔ اب معاشروں میں ایک معزز طبقہ تو صحافت کو اُس دور میں دیکھ رہا تھا جب شورش زندہ تھے ،حمید نظامی کا طوطی بولتا تھا، مولانا شوکت علی کاجوہر قلم کی عصمت کو تھامے ہوئے تھا، مولانا ابو الکلام آزاد کی شرر بار تحریر فرنگی کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر کے آزادی کے صفحہ قرطاس پر بکھر رہی تھی، وہ صحافت کی آبرو کو اُس دور میں دیکھ رہے تھے مگر اُس طبقہ کے خواب چکنا چور ہو گئے جب جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ میں اُن معزز پیشہ افراد کی پگ اُچھالنے کا لائسنس آگیا۔ ان جرائم پیشہ افراد نے معاشرے کے شریف شہریوں سے جو ’’جگا ٹیکس ‘‘وصول کیا وہ جگا ٹیکس اُنہوں نے اداروں کو بھی ادا کیا اور اپنے پیٹ کی توندیں بھی اس حرام مال سے بھریں۔ اس صحافت میں ٹیلنٹ پس منظر میں چلا گیا۔ قابلیت اور میرٹ کا سورج گہنا گیا مگرمنافق چہروں کے ساتھ بلیک میلنگ کرنے والوں کا سورج سوا نیزے پہ آگیا۔ معاشرے کا یہ معزز طبقہ ابھی تک حقیقی صحافت کے مفہوم کی تلاش میں سر گرداں نظر آتا ہے کیونکہ صحافت کے نام پر پنپنے والی خباثت نے سب سے زیادہ استحصا ل معاشرے کے اس طبقہ کا کیا یہاں تک کہ صحافتی اقدار کا جنازہ نکال دیا ۔
ایک بار عصر حاضر کے معروف دانشور ڈاکٹر خیال امروہوی مرحوم سرِ راہ ملے تو اُنہوں نے چند نام نہاد دانشوروں کے بارے میں اپنی رائے دی۔ ان چند نام نہاد دانشوروں میں وہ افراد بھی ہیں جن کا میں نام نہیں لینا چاہتا۔ اُنہوں نے اپنا قد اونچا کرنے کیلئے ڈاکٹر مرحوم پر مضامین بھی لکھے لیکن اُن کی موت کے بعد اور بعض تو ابھی تک یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ڈاکٹر خیال کو اس مقام پر ہم نے پہنچایا۔ ان عقل کے اندھوں کے بارے میں ڈاکٹر خیال نے اپنی رائے یوں دی تھی کہ بھائی اگر آپ کو دانشوری نہیں آتی تو دانش سے انتقام تو نہ لیں،کوئی سپر سٹور کھول لیں۔ ان دانشوروں کو کسی روز ضرور ننگا کروں گا جن کے بارے میں اپنی موت سے قبل لیہ کے گلبرگ ہوٹل میں آخری ملاقات میں ڈاکٹر خیال نے بہت کچھ کہا لیکن سر دست صحافت زیر بحث ہے
احتساب وقت کی ضرورت تھی ،ہے اور رہے گی خود احتسابی ہی انسان کے قد میں اضافہ کرتی ہے۔ حادثاتی طور پرمسلط ہونے والے صحافت کے شعبہ میں ضلع لیہ میں ایسے نام سامنے آتے ہیں جن کے دانتوں میں ابھی نان جویں کے ذرے اڑے ہوئے تھے کہ اُنہوں نے اُسی دستر خوان کو اپنی ہوس کیخاطر ناپاک کیا۔ ان کالی بھیڑوں کا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔ ایک دوست نے عرصہ پہلے احتساب کی شکل میں صحافت کے اندر پائی جانے والی کالی بھیڑوں کے احتساب کی ٹھانی تو اسے کنارے لگانے کاعندیہ بھی دیا کیونکہ اُن کے اپنے گروپ میں بھی قابل احتساب عناصر موجود ہیں، جو منافق ہی نہیں صحافت سے اُن کا دور کا واسطہ نظر نہیںآتا۔
اور رہی اداروں کی بات تو ادارے معتبر نہیں ہوتے اداروں میں بیٹھے افراد کاکردار اداروں کو معتبر بناتا ہے۔ اور جہاں مطمح نظر پیسہ اور بلیک میلنگ کے ذریعے دولت کا حصول ہو وہاں نہ تو قلم کے تقدس کی کوئی قیمت ہوتی ہے اور نہ ہی چوتھے ستون کی عصمت کا احساس بوسیدہ اور غلیظ ذہن کے کسی گوشے میں جاگتا ہے۔ لیہ میں بھی یہی ہورہا ہے کہ صحافت کے نام پر ’’دو نمبریوں ‘‘نے دولت کی دُھن میں جھوٹ بو کر سچ کاٹنے کی کوشش کی۔ ان دو نمبریوں کی صحافت میں جھوٹ کی سلگتی آنچ پر سچ کی ہیئت تک بدل گئی ،آج صحافت کی اکائی قدم قدم پر ٹوٹ رہی ہے۔ لالچ اور ہوس صحافتی قدو قامت سے بلند ہورہے ہیں۔ مقدس پیشۂ صحافت کے اندر گھسی ان کالی بھیڑوں نے صحافت کو بکاؤ مال سمجھ کر مفادات کی دکان پر سجا دیا۔ صحافت کے مقدس بدن سے سچائی اور حقائق کی قباء چھن چکی ہے۔ ان کالی بھیڑوں کا احتساب وقت کی ضرورت ہے کہ وقت ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتا جارہا ہے اور ہم اس ڈکیتی پر خاموش ہیں ۔

صحافت کی کالی بھیڑوں کا علاج کون کرے گا؟” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *