سٹیفن ہاکنگ اور ان کی قوت ارادی

800

سٹیفن ہاکنگ کا بچپن انگلستان کے ایک مقام سینٹ البن میں گزرا۔ ان کے والد ایک ڈاکٹر تھے۔ ہاکنگ اپنے والد سے بے حد متاثر تھے۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ بڑے ہوکر سائنس دان بنیں گے، چناں چہ انہوں نے طبیعات کے میدان کا انتخاب کیا۔ 1962ءمیں آکسفورڈ یونیورسٹی سے طبیعات کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ پی ایچ ڈی کے لیے کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوگئے۔ اپنے طالب علمی کے زمانہ میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس سے پٹھے کمزور اور ضائع ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ وہ چند برس ہی زندہ رہ سکیں گے۔ اس سے انہیں احساس ہوا کہ ابھی کائنات کے بارے میں بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ اسی احساس نے ان میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ اگرچہ وہ صرف اپنی کرسی پر ہی بیٹھ کر گھوم پھر سکتے ہیں اور بات بھی صرف کمپیوٹر کی الیکٹرانک آواز کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور کائنات کے سربستہ راز جاننے کی کوشش جاری رکھی۔ سٹیفن ہاکنگ نے 1965ءمیں کیمبرج سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔1979ءمیں انہیں کیمبرج یونیورسٹی میں ہی ریاضی کا پروفیسر مقرر کر دیا گیا۔ اس آسامی پر کبھی آئزک نیوٹن فائر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت کاسمولوجی کے مطالعے پر صرف کیا۔ کاسمولوجی سائنس کی وہ شاخ ہے جو ہمیں کائنات کی تخلیق، ارتقاءاور اس کی موجودہ ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ سٹیفن ہاکنگ کی سب سے زیادہ دلچسپی بلیک ہولز میں تھی۔ بلیک ہولز خلا میں واقع وہ مقامات ہیں جہاں تجاذب کی قوت اتنی زیادہ ہے کہ اس میں گرنے والی کوئی بھی چیز کبھی واپس نہیں آسکتی۔ انہوں نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ بلیک ہولز میں سے کوئی بھی چیز باہر نہیں نکل سکتی، البتہ اس میں سے درجہ حرارت خارج ہوسکتا ہے۔ آج کل وہ کائنات میں تجازت کے کردار اور ورم ہولز کے نظریے پر کام کر رہے ہیں۔ ورم ہولز خلا میں ایسے چھوٹے چھوٹے اتار چڑھاﺅ ہیں جن کے ذریعے خلا میں موجود بے شمار کہکشاﺅں کا ایک دوسرے سے رابطہ قائم رہتا ہے۔ 1988ءمیں سٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب ” وقت کی مختصر تاریخ“ شائع کی۔ اس کتاب میں انہوں نے بلیک ہولز اور کائنات کے بارے میں اپنے نظریات کو مختصر اور بہتر انداز میں پیش کیا ہے تاکہ عام آدمی بھی انہیں سمجھ سکے۔ یہ کتاب ساری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوچکی ہے۔ انہوں نے 12 اعزازی ڈگریاں حاصل کی ہیں اور 2009 میں امریکہ میں انہیں سب سے اعلیٰ سول اعزاز صدارتی میڈل سے نوازا گیا تھا۔ایک طرف ان کی تعلیمی کامیابیاں ہیں تو دوسری جانب ان کے طبی کامیابیوں کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھ سے اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ اس بیماری کے ساتھ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ اور میرا جواب ہوتا ہے کہ میں جتنا ممکن ہو سکے میں نارمل زندگی جینے کی کوشش کرتا ہوں‘۔ڈاکٹروں کوابھی یہ معلوم نہیں اس بیماری کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ پانچ فیصد لوگوں میں یہ بیماری موروثی ہوتی ہے، مطلب وہ ایک نسل سے دوسرے پاس ہو جاتی ہے۔لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کسی ایسے شخص کو جو پہلے بالکل صحت مند ہو اچانک یہ بیماری کیسے لاحق ہو جاتی ہے۔پروفیسر سٹیفن ہاکنگ پر اس بیماری کی علامتیں ان کی اکیسویں سالگرہ سے پہلے ظاہر ہونی شروع ہوئیں۔ ابتدا میں یہ علامتیں بہت واضح نہیں تھیں لیکن آہستہ آہستہ بیماری نے زور پکڑنا شروع کر دیا۔اس مرض کی تشخیص سے انہیں بڑا جھٹکا لگا لیکن پروفیسر کا کہنا ہے کہ ’میں نے یہ سوچ کر زندگی سے زیادہ لطف اندوز ہونا شروع کر دیا کہ زندگی بہت چھوٹی ہے‘۔’ انہوں نے اس کے بعد جین وائلڈ نام کی اس لڑکی سے منگنی کر لی ہے جس سے وہ کچھ عرصے پہلے ملے تھے۔‘ان کا کہنا تھا کہ منگنی نے میری زندگی کو تبدیل کر دیا کیونکہ اب مجھے جینے کے لیے ایک مقصد مل گیا تھا‘۔1974 تک ، پروفیسر ہاکنگ اور ان کی بیوی جین جو اس وقت تک ان کے تین بچوں کی ماں بن چکی تھی اس بیماری سے کسی نہ کسی طرح نمٹتے رہے۔پروفیسر ہاکنزاب بھی خود ہی کھا پی سکتے تھے اور تھوڑا بہت چل سکتے تھے۔لیکن جب آہستہ آہستہ حالات بگڑتے گئے، ان پٹھے کمزور پڑنے لگے تو ان کی بیوی نے پروفیسر ہاکنگ کے ایک طالب علم کو مدد کے لیے اپنے گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔گھر میں مدد کے بدلے میں ان طالب علموں کو پروفیسر کی طرف سے مفت رہائش اور ذاتی ٹیوشن دی جاتی تھی۔اگلے چند سالوں کے دوران یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس خاندان کے پیشہ ورانہ نرسنگ یا مدد کی ضرورت ہے اور پروفیسر ہاکنگ کی زندگی اب وہیل چیئر پر گزرے گی۔اس کے بعد 1985 میں پروفیسر ہاکنگ کو نمونیا ہو گیا۔ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن کے سبب انہیں سانس لینے میں مشکل ہونے لگی۔ایسے حالات میں اکثر مریض زندگی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن پروفیسر ہاکنگ نے ہار نہیں مانی۔ان کی جان تو بچ گئی لیکن قوتِ گویائی نہ رہی۔دوسرے لوگوں کی طرح پروفیسر ہاکنگ کی زندگی میں بھی کئی اتار چڑھاؤ آئے۔چھبیس سال کی شادی کے بعد سنہ انیس سو نوے میں ان کی بیوی جین اور ان کے درمیان طلاق ہو گئی۔ پانچ سال کے بعد انہوں نے دوبارہ ایک نرس کے ساتھ شادی کی، لیکن گیارہ سال بعد انہیں ایک بار پھر طلاق ہو گئی۔کہا جاتا ہے کہ اس رشتے کے دوران پروفیسر ہاکنگ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی پروفیسر تردید کرتے ہیں۔ان کی زندگی میں اگر کوئی چیز مسلسل برقرار تھی تو وہ تھا ان کا کام اور ستر سال کی عمر میں بھی وہ رکنے کا نام نہیں لیتے۔پروفیسر ہاکنگ جو تین بچوں کے دادا ہیں آج بھی نئے چیلنجز کی تلاش میں رہتے ہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *