جن کون ہیں اور کیسے ہیں؟

pic’’جن ‘‘ پروردگار کی اس ذی شعور مخلوق کا نام ہے، جس کی تخلیق انسان سے پہلے ہوئی ہے اور وہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ یہ مخلوق بھی ہماری طرح زندگی گزار رہی ہے۔ ان کے ہاں بھی پیدائش اور موت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں بھی برے اور اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں، ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ قیامت کے دن ان سے بھی حساب لیا جائے گا ۔ ابلیس بھی جنات میں سے تھا۔
’’جن ‘‘ انسانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، نہ ان پر کوئی بیماری مسلط کر سکتے ہیں۔ وہ انسان پر کوئی اختیار نہیں رکھتے ، سوائے اس کے کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالیں ۔ اور گناہ کی طرف اس کا میلان بڑھائیں ۔
اس کی مثال آپ یوں سمجھ لیں کہ ٹی ۔وی سٹیشن سے لہرین مسلسل منتشر ہوتی ہیں، لیکن ان لہروں کو کھینچنے کے لیے ریسیور چاہیے۔ اگر آپ اپنے ٹی ۔ وی کاسوئچ آن نہیں کریں گے ، تو آپ ٹی ۔وی پر پروگرام نہیں آ سکے گا۔ بالکل اسی طرح اگر آپ اپنے ذہن کا سوئچ برائی کی طرف آن نہیں کریں گے تو کوئی شیطان، جن یا انسان آپ کے قلب پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا ، لیکن اگر آ پ برائی کاسوئچ کھول دیں گے تو آپ کے ذہن پر شیطان ، جن اور انسان کے وسوسے اثر انداز ہو سکیں گے۔
نظری لحاظ سے یہ ممکن ہے کہ نفسیاتی علوم سے اچھی طرح آگاہ ایک عبقری (Psychological genious with knowkedge) اس کے لیے شعوری طور پر کوشش کرے۔ لیکن اسلام نے اس طرح کے علوم کی بہت حوصلہ شکنی کی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت مشرکین میں ان علوم کا بڑا چرچا تھا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کی اتنی حوصلہ شکنی کی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے ان چیزوں کی طرف کوئی توجہ نہیں کی ۔ یہ چیزیں انسان کو ضیعف الاعتقاد اور تو ہم پرست بنا دیتی ہیں۔ اس لیے ان سے اجتناب کر نا چاہیے۔ ویسے بھی ان چیزوں میں مہارت کا دعویٰ کرنے والوں میں سے شاید ایک فی ہزار بھی مستند اور کھرے نہیں ہوتے۔ یہ سب چیزیں فتنہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *