جادو ٹونے کی حقیقت کیا ہے؟

pic 1ایک فن کی حیثیت سے یہ ممکن ہے کہ اشیا اور کلمات کے نفسی خواص و تاثیرات کا علم انسان پر اثر ڈال سکے، اس لیے ایک ایسے علم کی حیثیت سے اس کی نفی نہیں کی جا سکتی ، جہاں نفس اورکلمات کی طاقتیں کا م کرتی ہیں۔
جادو سیکھنے کے لیے جنات کی رضا چاہیے۔ چونکہ جادو بالعموم برے اور غلیظ کاموں ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے ،اس لیے یہ لازم ہے کہ انتہائی شریر اور بدمعاش جنات سے رابطہ کیا جائے ۔ ایسے شریر جنات کی رضا حاصل کرنے کے لیے عمل میں ایک انسان کو اپنی زبان سے کلمات کفر ادا کرناضروری ہے ، جس سے انسان اپنے دین و ایمان سے محروم ہو جاتا ہے ۔ جادو ٹونے سیکھنے کو قرآن مجید کفر قرار دیتاہے ، اس لیے ہر مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے۔
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی پر جادو ٹونا ہوا ہے تو خدا ئی علم یعنی توحید کے ذریعے سے اس کا توڑ کرناچاہیے۔اس کا ایک طریقہ قرآن مجید خصوصاً آخری دوسورتوں کے ذریعے سے دم کرناہے ، جس کی اجازت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ تاہم جادو ٹونے کا اصل توڑیہ ہے کہ انسان بندۂ مومن بن کر رہے اور اللہ سے اس کی پناہ طلب کرے۔ پھر ان شاء اللہ سفلی علوم کوئی اثرنہیں ڈال سکیں گے ۔
ویسے یہ بات قابل ذکر ہے کہ جن مریضوں کے متعلق خیال ہوتا ہے کہ ان پر جادو ہوا ہے، ان میں سے نوسو نناوے فی ہزار، دراصل نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔ ایسے نفسیاتی معالج کی حیثیت سے ، مجھے اپنی طویل پر یکٹس کے دوران میں جادو ٹونے کا کوئی ایک بھی حقیقی کیس نہیں ملا، حالانکہ اکثر مریض ، جو علاج کے لیے لائے گئے ان کے بارے میں یقین کی حد تک یہ تصور پایا جاتا کہ وہ جادو وغیرہ کے زیر اثر ہیں۔
یہ چیزیں برتاؤ کے اعتبار سے فتنہ ہیں۔ ان کے ذریعے سے انسان ضیعف الاعتقاد اور توہم پرست بن جاتا ہے ۔ اس طرح وہ توحید سے دور ہوتا چلاجاتا ہے ۔ سائنسی اصطلاح میں بھی ان میں سے کوئی چیز علم کا درجہ نہیں پا سکی ، اس لیے ایک بندۂ مومن کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *