جواہرلال یونیورسٹی: بی جے پی کے ایم ایل اے کے بھیانک انکشافات

JNU

نئی دہلی -جیسا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بڑهکتے شعلے پورے بھارت میں پهیل چکے ہیں اور پورے بھارت میں قوم پرستی پر شدید بحث ہو رہی ہے. بی جے پی کے ایم ایل اے گیاندو اہوجا کسی اور بات پر پریشان ہیں، اپنے حلقے میں احتجاجی جلسے سے پیر کے دن خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کی بهیانک صورتحال کے بارے الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیادوں پر یہاں 3000 کونڈوم، 10000 جلے ہوئے سگریٹ اور 500 کی تعداد میں اسقاط حمل کے انجکشن برآمد ہو رہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اہوجا نے کہا کہ اس کے علاوہ 2000 کی تعداد میں بھارتی اور غیر ملکی شراب، 50000 چهوٹی بڑی ہڈیاں، 2000 چپس کے لفافے اور 4000 کی تعداد میں بیڑیاں بهی روزانہ کی بنیاد پر پائی جاتی ہیں.
یونیورسٹی کے ملک مخالف حقائق کے بارے میں بات کرتے ہوئے اہوجا کا کہنا تها کہ میں آپ کے سامنے کچھ اور حقائق بهی رکهنا چاہتا ہوں جو کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینل کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں. جب ماں درگاہ کا تہوار منایا جاتا ہے تو یہ لوگ "ماہیشاسورا جیانتی" مناتے ہیں. زیادہ تر طالبعلم رات 8 بجے کے بعد یونیورسٹی میں منشیات استعمال کرتے پائے جاتے ہیں، جواہر لال یونیورسٹی میں پڑهنے والے طالبعلم بچے نہیں ہیں بلکہ بچوں کے باپ ہیں. ان کا کہنا تھا کہ یہ دن اور رات کو بیہودہ رقص کی صورت پرامن احتجاج کرتے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *