دونوں فریقین جنگ بندی کریں،علما ء و مشائخ کنونشن کا اعلامیہ

 talibanلاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علما و مشائخ اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی کانفرنس منعقد کی گئی۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آپریشن کسی صورت درست آپشن نہیں۔ حکومت اور طالبان دونوں جنگ بندی کریں، فریقین مذاکرات ناکام بنانے کی کوشش کرنے والے سازشي عناصر سے ہوشيار رہیں۔ اس موقع پر مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ پل صراط پر کھڑے ہیں، مولانا یوسف شاہ کو امید ہے کہ جلد خوشخبری ملے گی۔
مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چاروں صوبوں میں مزید کنونشنز کا انعقاد کیا جائے گا اور اگلا اجتماع کراچی میں ہوگا، مشترکہ اعلامیہ میں  طالبان اور حکومت سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے، علما اور مشائخ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ٓٓآئندہ جمعہ بروز 21 فروری کو یوم دعا منایا جائے گا، فریقین مذاکراتی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہونے دیں، قوم آگ اور خون کے کھیل سے عاجز آچکی ہے، امن مشن ہر صورت کامیاب ہونا چاہیئے۔
نشیب و فراز کے درمیان جاری رہنے والی بات چیت پر امید اور ناامیدی کی کیفیت کے بادل ہیں، پر خطر اور ٹیڑھے میڑھے راستوں پر جاری مذاکرات کے بارے میں طالبان رابطہ کار کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کہتے ہیں وہ اپنے کمزور کاندھوں پر اتنا بوجھ نہیں اٹھاسکتے تھے اس لئے سب کو دعوت دی ہے۔
مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ دین تشدد، انتہا پسندی اور سخت گیری کا نام نہیں ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما شاہ اویس نورانی کا کہنا تھا کہ آپریشن سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ سو سال جنگ کے بعد بھی مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہوگا۔
طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار مولانا یوسف شاہ کو امید ہے کہ کل خوشخبری ملے گی۔ رابطہ کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ شریعت طالبان کا مطالبہ ضرور ہے لیکن پاکستان کا دستور بھی شریعت کے نفاذ کی ہی بات کرتا ہے کوشش ہے کہ طالبان سے دستور کو تسلیم کرائیں۔
اس موقع پر کانفرنس کے اختتام پر مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ جنگ سے امن قائم نہیں ہوسکتا، سب متفق ہیں ٓآپریشن تباہی کا سلسلہ لائے گا، انہوں نے کہا کہ کراچی، اسلام آباد، پشاورمیں بھی کانفرنسیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے، ہمیں بہت احیتاط سے گزرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کہتے ہیں جنگ بندی کا فیصلہ فوری طور پر ہونا چاہیے جبکہ مولانا یوسف شاہ کا کہنا ہے جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی امن منافی کار روائیاں بھی بند ہو جائیں گی۔
اس سے قبل افتتاحی خطاب میں طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا دین اسلام میں تشدد اور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہماری تقاریر میں مصالحت کی بات ہونی چاہیے۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے اپنے خطاب میں امریکا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا لمبے عرصے کی دہشت گردی کو ایک بٹن دبا کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
علما مشائخ کنونشن شروع ہونے سے پہلے طالبان کمیٹی کے اہم رکن مولانا یوسف شاہ کا کہنا تھا با قاعدہ جنگ بندی ابھی نہیں ہوئی ‫اعلان ہوتے ہی امن منافی کارروائیاں بھی بند ہو جائیں گی۔ دوسری طرف قوم کی نظریں علما مشائخ کنونشن پر لگی ہوئی ہیں جو مذاکرات کی راہ میں حائل رکاٹوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *