جامع مذاکرات کی بحالی کےبغیر ہندوستان کے ساتھ تجارت مشکل ہے، وزیرِ تجارت

made in indiaدوسرےتین روزہ انڈیا شو کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ تجارت خرم دستگیرخان دوطرفہ تعلقات کے بارے میں پُرامید لگ رہے تھے، لیکن انہوں نے کہا کہ ’’تجارتی مذاکرات ایک غیر مؤثر ماحول میں منعقد نہیں ہوسکتے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کے وزارت میں سب سے زیادہ پسندیدہ قوم کا درجہ جو سیاسی طور پر متنازعہ ہوگیا تھا کے بدلے میں ہندوستانی برآمدات کو غیر متنازعہ مارکیٹ تک رسائی دینے اور واہگہ سے اٹاری کے زمینی راستے کے ذریعے آزاد تجارت کے معاملے پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔
حکومت مسلسل یہ کہتی آرہی ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانا چاہتی ہے۔اس نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ واہگہ کے راستے کی جانے والی تجارت میں اشیاء کی موجودہ تعداد کو 137 سے بڑھایا جاسکتا ہے۔
وزیرِ تجارت کے گزشتہ دو مہینوں کے دوران تجارت کو ابتدائی معمول کی سطح پر لانے کے حق میں دیے گئے بیانات سے ہندوستانی صنعت اور اس کے کاروباری افراد کے لیے امید پیدا ہوئی تھی، جو انڈیا شو کے موقع پر اس سلسلے میں ایک اعلان کی توقع کررہے تھے۔ہندوستانی وزیرِ تجارت آنند شرما نے اعلان کیا تھا کہ وہ انڈیا شو کے مشترکہ طور پر افتتاح کے لیے لاہور کا دورہ کریں گے۔ لیکن اس معاملے پر ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کردیا۔
مبصرین کے مطابق اس معاملے پر آگے بڑھنے میں حکومت کی ہچکچاہٹ سے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کا دورۂ پاکستان خطرے میں پڑ گیا ہے، جس کا بہت زیادہ انتظار کیا جارہا ہے۔ منموہن سنگھ نے اس موسم گرما میں ہونے والے انتخابات سے پہلے پاکستان کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *