جنگ یا امن؟

Najam Sethiنجم سیٹھی

12 فروری کو طالبان نے پشاور کے مضافات میں واقع امن لشکر کے ایک کارکن ، ظفر خان کے گھر پرحملہ کرکے 9 اہل ِ خانہ کو بیدردی سے قتل کردیا۔ اس سے پہلے دو فروری کو ظفر خان، ان کے دو بھائی اور بھتیجے اس انتقام کی نذر ہوچکے تھے لیکن ان کی آتش ِ انتقام سرد نہ ہوئی چنانچہ وہ بلاخوف و خطر آئے اور باقی ماندہ اہل ِ خانہ کوہلاک کر دیا۔ طالبان سے پرامن مذاکرات کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نوستمبر 2013ء کو اسلام آباد میں بلائی جانے والی کل جماعتی کانفرنس کے بعد سے اب تک طالبان کے حملوں میں صرف خیبر پختونخوا میں ہی سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں اور عام شہریوں سمیت 313؍افراد ہلاک اور چارسو سے زائد زخمی ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ تھمنے کے بجائے تیز ہوتا جارہا ہے۔ جب انتیس جنوری 2014ء کو پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے یکطرفہ طور پر فائر بندی کرتے ہوئے طالبان سے حتمی طور پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے بعد بھی گزشتہ پندرہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے پندرہ حملے دیکھنے میں آئے اور ان حملوں میں 75؍افراد ہلاک اور دوسو سے زائد زخمی ہوئے۔
اب طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ وادی ِ چترال میں اسماعیلی برادری اور کیلاش کے علاقے، (جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ )آباد ہیں، کو نشانہ بنائیں گے۔ دو فروری کو طالبان کی ویب سائٹ پر پچاس منٹ کی ویڈیو اپ لوڈ کی گئی جس میں کیلاش قبیلے کو حکم دیا گیا کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا مرنے کے لئے تیار ہوجائیں... ’’ اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو ہم تمہیں تمہارے مغربی سرپرستوں سمیت نیست و نابود کردیں گے‘‘۔ اس ویڈیو میں غیر ملکی این جی اوز پر الزام لگایا گیا کہ وہ چترال میں کیلاش قبیلے کو اسلام سے دور کرتے ہوئے ’’اسرائیل جیسی ریاست‘‘ قائم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس سے بھی خطرناک صورتحال ’’آغا خان فائونڈیشن‘‘ کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔ ویڈیو میں کہا گیا... ’’آغا خان فائونڈیشن سولہ اسکول اور اتنے ہی کالج، جن میں ہاسٹل کی سہولت بھی ہے، چلارہی ہے۔ان اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کو مفت تعلیم کا جھانسا دے کر ان کی برین واشنگ کی جارہی ہے اور اُنہیں اسلام سے دور کیا جارہا ہے۔یہ لوگ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں‘‘۔ آغا خان فائونڈیشن پاکستان کی اہم ترین فلاحی تنظیموں میں سے ایک ہے اور وہ کراچی اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں اسماعیلی برادری کی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔
گزشتہ دوسال سے تحریک طالبان پاکستان کے رہنما مولانا فضل اﷲ کا گروہ خاص طور پر دِیر اور چترال کے علاقوں، جن کی سرحد افغانستان کے شمال مشرقی علاقوں سے ملتی ہے، میں کارروائیاں کررہا ہے۔ مولانا فضل اﷲ کا ٹھکانہ بھی افغانستان کے یہی علاقے ہیں۔ پاک فوج نے چترال اور دیر میں کئی مرتبہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی۔ اس دوران یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ طالبان، القاعدہ اور ان کے حامی گروہوں نے کراچی اور چترال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوادی ۔ بلوچستان کی ہزارہ برادری پر تابڑ توڑ حملے کرنے کے بعد اگر طالبان آغاخان فائونڈیشن کو بھی نشانہ بناتے ہیں تو اس کا عالمی سطح پر سخت رد ِ عمل آئے گا۔آغا خان فائونڈیشن، جو عالمی سطح پر انسان دوست سرگرمیوں کی وجہ سے اچھی ساکھ رکھتی ہے، پاکستان میں اپنے فلاحی کام بندکرنے پر مجبور ہوجائے گی اور اس سے لاکھوں افراد،جن کی اس تنظیم کی طرف سے کفالت کی جاتی ہے، کی زندگیاں مشکلات سے دوچار ہوجائیں گی۔
طالبان سے الگ ہونے والے ایک جہادی گروہ، ’’احرارالہند‘‘ نے قسم کھائی ہے کہ وہ ’’اسلام کے دشمنوں‘‘ پر حملے جاری رکھیں گے۔ اس نے طالبان کے اس مطالبے کو بھی مستردکردیا کہ وہ تمام پاکستان میں شرعی نظام نافذ کرنے کے بجائے صرف’’ فاٹا پر اپنی عملداری قائم کرنے پر ہی اکتفا کرلیں‘‘۔ اس سے پہلے یہ تنظیم مہمند ایجنسی میں فعال تھی لیکن اب اس نے اپنا ٹھکانہ افغانستان کی سرحد کے نزدیک کنڑ (Kunar) میں بنالیا ہے۔ اس گروہ کا نام ظاہر کرتا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کے شہری علاقوں میں پروان چڑھنے والی جہادی تنظیموں سے ہے۔
اس دوران، جب طالبان پاکستانیوں کا خون بہارہے ہیں، مذاکرات کے لئے قائم کردہ دونوں کمیٹیاں حضرت امیر خسرو کے مشہور مصرعے ...’’تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم، تو دیگری‘‘... کی عملی ترجمانی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے مطالبات در مطالبات کی فہرستیں رکھ رہی ہیں۔ جہاں تک وفاقی حکومت کا تعلق ہے تو اس کا اصرار محض اتنا ہے کہ مذاکرات کا دائرہ ِکار صرف شورش زدہ علاقوں تک ہی محدود ہوگا اور مذاکرات آئین ِ پاکستان سے باہر نہیں ہوں گے۔ درحقیقت آئین ِ پاکستان پہلے ہی اتنا ’’اسلامی‘‘ ہے کہ ملک میں اسلام سے منافی کوئی قانون بن ہی نہیں سکتا۔ دوسری طرف طالبان نے جنگ بندی کرنے سے پہلے درجن بھر شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔ ان شرائط میں فاٹا سے فوجی دستوں کی واپسی، طالبان کے ہزاروں قیدیوں کی رہائی اور ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لئے بھاری رقوم کی ادائیگی شامل ہیں۔ اُنھوں نے تحریک ِ طالبان پاکستان کی چھتری تلے کام کرنے والے دیگر جہادی گروہوں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ بیک وقت بات چیت اور لڑائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جبکہ حکومت نے رضا کارانہ طور پر اپنے ہاتھ باندھ لئے ہیں۔
پاک فوج اس بات پر بہت واضح ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا جائے گا تو وہ سخت جواب دے گی۔ ڈرون کا معاملہ بھی حتمی طور پر طے نہیں ہوا۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں جہاں بھی کوئی مطلوب دہشت گرد دکھائی دے گا وہ اُسے نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گے چنانچہ اگر اس دوران حقانی گروپ یا مولانا فضل اﷲ گروپ کا کوئی اہم لیڈر ڈرون حملے کا نشانہ بنتا ہے تو پاکستان کی مشکلات دو چند ہو جائیں گی۔ طالبان کے دل وجان سے حامی رہنما جیسا کہ عمران خان شور مچانا شروع کردیں گے کہ امریکیوں نے جان بوجھ کر مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا۔ چنانچہ پاکستانیوں کے سامنے حقیقت واضح ہوجانی چاہئے...طالبان باتیں بھی کرتے رہیں گے اور ان کے حامی گروہ دہشت گردی کی کارروائیاں بھی جاری رکھیں گے، اسی دوران ڈرون حملے بھی ہوسکتے ہیں۔ جہاں تک طالبان کمیٹیوں کا تعلق ہے تو مطالبات کی فہرستیں مرتب کرنے اور پھر ان پر نظر ِ ثانی کرنے میں کچھ وقت گزارتے ہوئے مذاکرات کا شوق پورا کرلیں لیکن مارچ کے آتے ہی فوج نے اپنے اہداف کو نشانہ بنانا ہے اور طالبان نے پنجاب پر حملے کرنے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *