غیرت کے نام پر قتل

ansari abbasi

غیرت کے نام پر عورتوں کو قتل کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں اور اس بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اسلام تو مردوں کو عورتوں پر قوام مقرر کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہترین سلوک کی تعلیم دیتاہے۔ یہاں تک کہ بیوی کے سرکش ہونے پر بھی اللہ تعالیٰ مرد کو مختلف حکمت عملی سے اُس کی اصلاح کرنے کی ترغیت دیتے ہیں۔ اور اس کے باوجود بھی اگر میاں بیوی میں کسی صورت نہ بن پائے تو اسلام مرد کو حکم دیتا ہے کہ وہ احسن طریقے سے بیوی کو طلاق دے دے اور اس میں کسی قسم کی عورت کے ساتھ زیادتی نہ ہو، اُسے تنگ نہ کیا جائے۔ قرآن اور حدیث میں اس بارے میںبڑے واضح احکامات موجود ہیں۔ یہ کالم لکھنے سے پہلے میں نے کچھ علمائے کرام سے بھی بات کی تو اُن کی بھی اس پر کوئی دو رائے نہ تھی کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر عورت کا قتل اسلامی تعلیمات کے سریحاً خلاف ہے۔ انسانیت کے لیے بطور بہترین نمونہ ہمارے سامنے نبیﷺ کی
زندگی ہے۔ آپﷺ کے ایک فرمان کے مطابق مردوں میں سے بہترین مرد وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی) کے ساتھ حسن سلوک روا رکھتا ہے۔
غیرت کے نام پر پاکستان میں عورتوں کے قتل کے موضوع پر چند روز قبل وزیر اعظم سیکرٹیریٹ کے آڈیٹوریم میں شرمین عبید چنائے کی آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔ مجھے نہیں معلوم اُس ڈاکومنٹری میں کیا کچھ دکھایا گیا لیکن میں امید کرتا ہوں کہ شرمین صاحبہ نے اس جرم کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر پوری طرح واضع کیا ہو گا۔ ہو سکتا ہے ایسا کرنے سے وہ آسکر ایوارڈ کا فیصلہ کرنے والوں کے دل تو نہ جیت سکیں لیکن اس سے دنیا کے سامنے یہ تو واضع ہو جائے گا کہ اگر پاکستان میں ایک طبقہ غیرت کے نام پر عورتوںکو قتل کرتا ہے تو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کے برعکس ایسے رویے اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ شرمین صاحبہ کی ڈاکومنٹری کو وزیر اعظم صاحب نے بھی دیکھا اور تعریف کی۔ امید ہے شرمین صاحبہ کا ڈاکومنٹری میں اسلامی حوالے دینا (اگر ایسا ہے تو) وزیر اعظم صاحب کے لیے بھی پاکستان کے موجودہ نظام کی اسلامی خطوط پر اصلاح کے لیے ترغیب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اکثریت مسلمانوں کی ہے، ہمارا آئین بھی اسلامی ہے، ہم نے یہ ملک بھی لا الہ الا اللہ کے نام پر بنایا لیکن اس کے باوجود ہم نے نہ اسلامی نظام قائم کیا اور نہ ہی اپنے لوگوں کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کی۔ اگر ایسا کیا ہوتا تو عورتوں کو غیرت کے نام پر اس طرح قتل نہ کیا جاتا، انہیں وراثت سے محروم کرنے کی کوئی جرات نہ کرتا، انہیں طلاق جیسے معاملات میں ستایا نہ جاتا، بوجہ ضرورت گھر سے نکلنے والی یا ملازمت کرنے والی عورتوں کو حراساں یا کسی بھی قسم کی زیادتی کا شکار نہ کیا جاتا۔ کتنا اچھا ہو کہ خواتین، اقلیتوں، بچوں بلکہ ہر فرد کے اسلام میں حقوق و فرائض کے متعلق ڈاکومنٹریز بنائی جائیں تو اس سے مغرب میں اسلام مخالف سوچ میں تبدیلی کے ساتھ ہمارے اپنے معاشرہ میں اصلاح کی صورت نکل سکتی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کی بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ گھر سے بھاگنے والے لڑکی لڑکے کو ہمارا میڈیا ہیرو بنا کر پیش نہ کرے۔ اس معاملہ میں بھی ہمارے میڈیا کی پالیسی دوغلی ہے۔ عموماً غریب کے گھر سے بھاگے لڑکی لڑکے کو میڈیا کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اگر ایسا معاملہ کسی امیر اور با اثر گھرانے کا ہو تو اُس پر میڈیا خاموش رہتا ہے کیوں کہ وہاں متعلقہ خاندان کی عزت کو اچھالنے سے گریز کرنا مقصد ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے مجھ سے پوچھا کہ اگر کسی اخبار یا ٹی وی چینل کے مالک، اُس کے ایڈیٹر یا کسی دوسرے با اثر صحافی کی بیٹی یا بیٹا کسی دوسرے کے ساتھ گھر سے بھاگ جائیں تو اس پر بھی اُسی طرح خبریں اور بریکنگ نیوز چلائی جائیں گی جس طرح کسی دوسرے کی بیٹی بیٹے کے بھاگنے پر ایک تماشہ کیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے بچوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا انہوں نے کوئی بڑا قابل فخر کام کیاہو۔ اس سلسلے میں بھی ڈاکومنٹریز بننی چاہیں اور والدین کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی تربیت کی جائے تاکہ دونوں اطراف ایسے رویے نہ اپنائے جائیں جو اسلامی تعلیمات کے برعکس ہوں۔ ہمیں معاشرہ میں یہ آگاہی بھی پیدا کرنی ہے کہ اسلام میں شادی کے لیے مرد اور عورت دونوں کی مرضی کا ہونا لازم ہے۔ زبردستی شادی کی بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام کی مقرر کی ہوئی حدود و قیود میں رہ کر لڑکا لڑکی کو اور لڑکی لڑکے کو پسند کر سکتے ہیں لیکن اس پسندیدگی کو ہولی وڈ اور بولی وڈ کی فلموں کی طرح رومانس اور محبت کی پینگیں بڑھانے تک گھینچ لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام شرم و حیا کا سبق دیتا ہے اور غیر مرد اور عورت کو اکیلا ملنے اور رومانس کرنے سے منع کرتا ہے کیوں کہ اس سے گناہ کی ترغیب ملتی ہے۔ اسلام میں بغیر نکاح مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہنا اور جنسی تعلق رکھنا گناہ کبیرہ ہے جس سے بچنے کے لیے بھی ہمارے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

غیرت کے نام پر قتل” پر ایک تبصرہ

  • Zari Ashraf
    فروری 25, 2016 at 2:18 PM
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ...عملدرآمد ناممکن ہی ہے یہان

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *