خدا ہے کہ نہیں ہے ....ایک دلچسپ مکالمہ

Ashraf qاشرف قریشی

امریکہ میں تخلیق کائنات کے بارے میں اکثر بحث چلتی رہتی ہے۔ ڈیموکریٹس بائیں بازو اور سیکولر مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے وہ ڈارون کے نظریہءارتقا کو مانتے ہیں۔ اس سے انہیں ایک فائدہ ہوتا ہے کہ ذات خداکائنات سے خارج ہوجاتی ہے، اس لئے خدائی احکامات، مذہبی اخلاقیات وغیرہ سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ اگرچہ ڈارون کا نظریہ کوئی ثابت شدہ سائنس نہیں ہے، اس کی بنیاد مفروضات پر ہے ،جب کبھی زمین میں دفن کوئی پرانی ہڈی ملتی ہے تو ارتقا کے قائل جھپٹ پڑتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اب شائد انہیں بندر اور آج کے انسان کے درمیان کوئی کڑی مل جائے ،لیکن ابھی تک ایسا ہونہیں پایا۔ امریکہ میں بل نائی کو سائنسی آدمی کہا جاتا ہے۔ وہ سائنس دان ہے، مزاحیہ فن کار ہے اور ارتقاکا قائل ہے، جبکہ کین ہیم جس کا پورا نام کینتھ انفرڈ ہے، تخلیق خداوندی کا قائل ہے، لیکن انجیل سے کائنات کی تخلیق کا ثبوت دینے والے کین ہیم کا دوسرے عیسائیوں کی طرح اعتقاد ہے کہ دنیا کی تخلیق کو محض چھ ہزار سال ہوئے ہیں ۔ مسلمان بھی کائنات کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق سمجھتے ہیں، لیکن اس کی مدت چھ ہزار سال نہیں سمجھتے، اس سلسلے میں ترک نژاد سلمان ےحییٰ کی کتابیں بہت فکر انگیز ہیں جو دنیا کو اربوں سال قدیم بھی قرار دیتی ہیں اور تخلیق خداوندی بھی سمجھتی ہیں۔ کائنات میں ارتقا بہرحال جاری وساری ہے، لیکن اس کی نوعیت کچھ اور قسم کی ہے۔ بندرسے انسان بننے وغیرہ کا ارتقا محض ایک مجہول خیال ہے اور خود ڈارون نے اسے یقینی قرار نہیں دیا۔ اس کے پیچھے کوئی سائنس بھی نہیں ہے۔ تخلیق کائنات کے بارے میں کچھ ماہرین طبیعات کے اپنے طرز کے خیالات ہیں، وہ بھی محض اندازے اور مفروضات ہیں۔

گزشتہ دنوں بل نائی اور کین ہیم کے مابین ٹی وی پر ڈیڑھ سومنٹ تک ایک مناظرہ ہوا، بعض لوگوں کے مطابق کین ہیم کو واضح برتری حاصل رہی۔ دونوں حضرات میڈیا کے آدمی ہیں، ان کے کئی شوز اور کئی ریڈیووغیرہ بھی چلتے ہیں۔ کین ہیم نے کنکٹی کٹ میں کائنات کے تخلیقی نظریئے کے بارے میں ایک عجائب گھر بھی قائم کررکھا ہے۔ بل نائی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بل نائی جیت گیا ہے۔ بل نائی کے حامیوں کو افسوس اس بات کا ہے کہ اس نے یہ چیلنج قبول ہی کیوں کیا۔ اس طرح اس نے مذہب کو سائنس کے برابر لاکھڑا کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ بل نائی اور کین ہیم دونوں کے دلائل حتمی نہیں ہیں۔ بل نائی مفروضات کو سائنس قرار دیتا ہے اور کین ہیم کو کائنات یازمین کی پیدائش کے بارے میں مغالطہ ہے۔ مدتوں پہلے اس سلسلے میں مجھے ایک دل چسپ مکالمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ اب پھر ایک ای میل کے ذریعے مجھے یہ مکالمہ موصول ہوا ہے۔ یہ نہایت دل چسپ ہے اور کچھ یوں ہے:

پروفیسر : تم عیسائی ہو، ہونا بچے !

طالب علم :جی جناب ۔

پروفیسر :۔تو تم خدا پر یقین رکھتے ہو ؟(ایمان نہیں، یقین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے )

طالب علم :بالکل جناب ۔

پروفیسر :کیا خدا اچھا ہے؟

طالب علم :یقینا جناب۔

پروفیسر:کیا خدا لامحدود قدرت والا ہے ؟

طالب علم :جی

پروفیسر:میرا بھائی کینسر سے مرگیا ہے، حالانکہ وہ خدا سے دعائیں کرتا رہا کہ وہ اسے صحت دے دے۔ ہم میں سے اکثر دوسرے بیماروں کی مددکرتے ہیں، لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا۔ پھر خدا ”اچھا“ کیوں کر ہوسکتا ہے ؟ہاں

طالب علم :خاموش

پروفیسر :۔ تم جواب نہیں دے سکتے۔ نہیں دے سکتے نا !اچھا نوجوان چلو ایک بار پھر سے مَیں یہ سوال اس طرح پوچھتا ہوں۔ کیا خدا اچھا (Good) ہے ؟

طالب علم :۔جی جناب

پروفیسر :۔کیا شیطان اچھا ہے ؟

طالب علم :۔نہیں

پروفیسر :۔شیطان کہاں سے آیا؟

طالب علم :۔خدا کی تخلیق ہے۔

پروفیسر:۔تمہارا جواب درست ہے، لیکن نوجوان یہ تو بتاﺅ دنیا میں ہرطرف ”بدی “ ہے نا ۔

طالب علم :۔ جی

پروفیسر :۔تو بدی کو کس نے تخلیق کیا ؟

طالب علم جواب نہیں دیتا ۔

پروفیسر:۔کیا دنیا میں ”بیماری“ ”بے راہ راوی“ ”نفرت “ ”بدصورتی“ اور دوسری خوف ناک چیزیں موجود ہیں۔ کیا موجود نہیں ہیں ؟

طالب علم :۔جی جناب

پروفیسر :۔انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟

طالب علم کے پاس کوئی جواب نہیں۔

پروفیسر :۔اچھا ہمیں بتاﺅ تم نے کبھی اپنے خدا کو سنا ہے (گویا کیا وہ سنائی دیتا ہے ؟)

طالب علم :۔نہیں جناب

پروفیسر:۔ کیا تم نے کبھی چھوکر اپنے خدا کو محسوس کیا ہے ؟اپنے خدا کو چکھا ہے؟ خدا کو سونگھا ہے ؟ کبھی تمہاری حیات نے تمہیں خدا کا احساس دلایا ہے؟

طالب علم :۔نہیں جناب، میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

پروفیسر:۔اس کے باوجود تم خدا کو مانتے ہو!

طالب علم :۔جی جناب

پروفیسر:۔علم کی تجرباتی ، امتحانی، اظہاری بنیاد پر تمہارے خدا کا کوئی وجود نہیں ہے (یعنی تجربے سے کسی لیبارٹری میں، کسی ٹیسٹ کے ذریعے یا کسی مظاہرے کے ذریعے خدا کو دکھایا نہیں جا سکتا تو گویا خدا کا وجود ہے ہی نہیں ) تو پھر بچے تم کیا کہتے ہو ؟

طالب علم :۔کچھ نہیں کہتا، لیکن میرا ایمان یہی ہے کہ خدا ہے۔

پروفیسر :۔ ایمان ؟ سائنس کے نزدیک یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔

طالب علم :۔ جناب دنیا میں کوئی ایسی چیز ہے، جسے ”حرارت “ کہتے ہیں ؟

پروفیسر: ہاں ہے۔

طالب علم :۔اور جناب کوئی چیز ہے جو ”سردی“ یا سرد (Cold) کہلاتی ہے ؟

پروفیسر:۔جی ہے۔

طالب علم :۔نہیں جناب ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔

(جماعت پر ایک سناٹا چھا جاتا ہے۔ )

طالب علم :۔جناب! آپ بہت سی حرارت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ Superheatمیگا حرارت ، سفید حرارت ، کم حرارت یا بالکل حرارت نہ ہو۔ لیکن ایسی کوئی چیز نہیں، جسے ٹھنڈ کہاجائے۔ ہم زیرودرجہ حرارت سے بھی 485درجے نیچے جاسکتے ہیں، یہ وہ تمام ہے جہاں حرارت نہیں ہے۔ ہم اس سے نیچے نہیں جاسکتے۔ ٹھنڈ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ محض ایک لفظ ہے جو عدم حرارت کو بیان کرتا ہے۔

کمرہ جماعت میں سناٹا چھا گیا۔

طالب علم :۔پروفیسر صاحب ، تاریکی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کیا تاریکی کا وجود ہے ؟

پروفیسر ۔ہاں ہاں ہے۔ اگر تاریکی نہیں ہے تو رات کیا ہے ؟

طالب علم :۔جناب ایک بار پھر آپ کی بات غلط ہے۔ تاریکی تو کسی چیز کے عدم وجود کا نام ہے، آپ کم روشنی، معمول کی روشنی، خوب تیز روشنی اور بہت تیز روشنی کی بابت تو کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر روشنی نہ ہو تو یہ تاریکی ہے۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ،جسے آپ تاریکی قرار دیتے ہیں۔ کیا واقعی تاریکی کہیں ہے ؟ حقیقت میں تاریکی نہیں ہے۔ اگر تاریکی موجود ہوتی تو آپ اسے روشنی کی طرح مزید گہرا، مزید تاریک اور تاریک تر کرسکتے ۔ جیسے روشنی کو کم یا زیادہ کرسکتے ہیں۔

پروفیسر :۔اچھا نوجوان تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو ؟

طالب علم :۔جناب میرا نکتہ یہ ہے کہ آپ کے فلسفیانہ معیار خام ہےں۔

پروفیسر :۔خام ہیں !وضاحت کرو۔

طالب علم :۔جناب آپ افراد کے مفروضوں پر تکیہ کررہے ہیں۔ آپ کی دلیل ہے کہ زندگی ہے اور پھر موت ہے۔ اچھا خدا اور بڑا خدا۔ آپ تصور خدا کو ایک محدود تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جسے آپ ماپ سکیں، جبکہ سائنس تو ”خیال“ کی وضاحت یا تشریح کرنے سے بھی قاصر ہے۔ سائنس تو برق (بجلی) اور مقناطیس کی قوت کو استعمال کرتی ہے لیکن نہ اسے دیکھ سکتی، نہ دکھا سکتی ہے، حتیٰ کہ اب تک اسے مکمل طورپر سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔ موت کو زندگی کی ضد کے طورپر دیکھنا بھی ایک خام خیالی ہے۔ حقیقت ناشناسی ہے۔ موت کا تو کوئی وجود نہیں ۔ موت زندگی کی ضد نہیں ہے۔ یہ تو عدم حیات کا نام ہے۔ زندگی کا عدم وجود موت ہے۔ اب پروفیسر صاحب آپ مجھے یہ بتائیے کہ آپ اپنے طالب علموں کو پڑھاتے ہیںکہ ہم بندر سے ارتقاکرکے انسان بنے ہیں ؟

پروفیسر:۔ اگر تمہارا اشارہ نظریہ ارتقاءکی طرف ہے تو ہاں مَیں یہ پڑھاتا ہوں۔

طالب علم :۔جب کہ کسی بھی شخص نے ارتقا کے عمل کا بچشم خود مشاہدہ ہی نہیں کیا اور کسی طرح یہ ثابت بھی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ عمل جاری ہے۔ تو جناب !کیا آپ محض اپنی ”رائے“ کو سائنس قرار دے کر پڑھائے جارہے ہیں۔ کیا آپ سائنس دان ہوتے ہوئے بھی محض مبلغ ہیں؟

(جماعت میں ایک شور مچ گیا ۔)

طالب علم :۔ہے کوئی یہاں جس نے پروفیسر صاحب کی ذہانت یا دماغ کو دیکھا ہو ؟ اسے چھوکر محسوس کیا ہو؟ یا سونگھا ہو؟ ایسا لگتا ہے اب تک کسی نے ایسا نہیں کیا۔ تو پھر سائنس کے مسلمہ اصولوں، تجربات ومحسوسات، مظاہر وغیرہ کی روسے پروفیسر صاحب کا ذہن یا دماغ ہے ہی نہیں ۔ جناب پروفیسر صاحب پھر ہم آپ کے ارشادات کو کیسے تسلیم کرلیں۔

(جماعت میں خاموشی چھا گئی )

پروفیسر: ۔میرا خیال ہے تم اب پھر معاملے کو ایمان تک لے جاﺅ گے۔

طالب علم :۔جی ہاں جناب :بالکل یہی بات ہے ۔ خدا اور انسان کے درمیان تعلق ایمان ہے اور یہی وہ قوت ہے جو ہرچیز کو زندگی بخشتی اور انہیں متحرک رکھتی ہے۔ اور آخر میں اردو کے کسی شاعر کا شعر :

تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

مَیں جان گیا بس تری پہچان یہی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *