حجامہ ۔ ۔ ۔ علاج بھی سنت بھی !

  haj

(ڈاکٹر محمد احسن فاروقی)

hajama

انسان اگر احکام الٰہی اور سنت نبوی ﷺ کے مطابق زندگی نہ گذارے تو جسمانی طور پر اور روحانی طور پر بیمار ہوجاتاہے۔ کیونکہ اس جسم انسانی کو اللہ نے بنایا اور اس کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے طریقے بھی اللہ نے ہی بتائے۔ بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اور بیماری سے شفا بھی اللہ ہی دیتا ہے۔ حکیم ‘معالج یا ڈاکٹر سبب کے طور پر علاج کرتے ہیں اور دوا دیتے ہیں۔ اور انسانوں کے سب سے بڑے اور شافع حکیم ہمارے رہبر اور ہادی برحق پیغمببر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کے ہر پہلو سے ہمیں آگا ہ کیا ہے۔ چنانچہ بیماریوں سے شفا کے لئے آپ کے ارشادات پر مبنی طب نبوی ﷺ ہے۔ اور اس سلسلے کی ایک کڑی حجامہ علاج ہے۔ جسے پچھنا لگانا کہتے ہیں۔ یہ ایک بہترین علاج بھی ہے اور سنت رسول ﷺ بھی ہے۔ اس علاج کی تفصیلات اور احادیث نبوی ﷺ سے اس کی تاکید ذیل میں بیا ن کی جا رہی ہے۔
حجامہ یعنی پچھنے لگاناحضور اکرم ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔اور ایک بہترین علاج ہے۔رسول اللہ ﷺ نے خود پچھنے لگائے اور دوسروں کوترغیب دی۔الحجامہ یعنی پچھنے لگانا ایک قدیم طریقہ علاج ہے۔جو بہت مفید ہے۔ یہ گرم اور سرد دونوں علاقوں میں مفید ہے۔چین والوں نے اس علاج کی اہمیت جانی اور یہ اس ملک کا قومی علاج ہے۔اور سارے ملک میں یہ علاج مقبول ہے۔یہ عرب ملکوں کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں بے حد مقبول ہے۔ حجامہ کی افادیت ہزاروں سال کی طب کی تاریخ سے واضح ہے۔ اس علاج کو دنیا کے بیشتر ممالک میں یکساں موزونیت اور افادیت کے ساتھ استعمال کیا جا رہاہے۔ حجامہ امریکہ ‘یورپ‘آسٹریلیا‘جرمنی اور جنوبی افریقہ میں بھی مقبول ہے۔ اور ہندوستان میں اس طریقہ علاج کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے ۔ خلیجی ممالک میں رہ کر آنے والے خاص طور سے مقامات مقدسہ مکہ اور مدینہ میں لوگ وہا ں اس علاج کی مقبولیت اور افادیت دیکھ کر ہندوستا ن میں اپنے رشتے داروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی حجامہ کراتے رہیں۔ کیونکہ یہ علاج سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہے۔اور جو علاج سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے اس کی افادیت میں ایک مومن مسلمان کو کوئی شک ہی نہیں رہتاا۔ جسم کی 70%بیماریاں خون کی سربراہی میں رکاوٹ یا عدم سربراہی کی وجہہ سے ہوتی ہیں۔ ہماری غذائی عادات میں بد احتیاطی سے خون میں بہت س زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔ جو فاسد خون بناتے ہیں۔ یہی فاسد خون جسم میں کئی امراض کے سبب ہے۔ اور طب نبوی ﷺ کی روشنی میں جسم سے فاسد بے کار خون احادیث میں بتائے گئے مقامات جسم پر فسد لگاکر خارج کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہہ سے جسم میں صاف خون گردش کرنے لگتا ہے۔ اور بہت سے امراض سے شفاء ملتی ہے۔ الحجامہ یا پچھنا لگانے سے جسم کا دوران خونBlood Circulationبہتر ہوتا ہے۔اور اس علاج کے بعد ایسے اعضائے جسم تک بھی خون کی سربراہی ہونے لگتی ہے جہاں خون کی کمی سے مہلک امراض پیدا ہوتے ہیں۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشا د فرمایا’’شفا تین چیزوں میں ہے۔پچھنا لگوانے‘شہد پینے اور آگ سے داغنے میں‘اور میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔(بخاری) آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ’’ بہترین علاج سے تم استعمال کرتے ہو وہ پچھنا لگانا ہے( بخاری :5371)حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ پچھنا لگوایا۔اس حال میں کہ آپ ﷺ روزہ میں تھے(بخاری)حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حالت احرام میں پچھنا لگوایا(بخاری)آپ ﷺ نے ارشا د فرمایاکہ پچھنے سے علاج کرنے والا کیا ہی اچھا آدمی ہے کہ فاسد خون نکال دیتا ہے اور پشت کو ہلکا کردیتا ہے۔اور نظر کو تیز کردیتا ہے‘‘۔ابن عباسؓ کا ارشاد ہے کہ معراج کی رات آپ ﷺ کا گذر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہواانہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ پچھنے کو لازم پکڑ لیں۔ایک اور حدیث میں آپ ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ آپ ﷺسر مبارک پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگایا کرتے تھے اور فرمایا جس شخص نے پچھنے کے ذریعے اپنا گندا خون نکلوادیا تو اب اسے کوئی خدشہ نہیں اس بات سے کہ وہ کوئی بیماری کا علاج کرائے۔حضرت ابو حریرہؓ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ جو چاند کی 17تاریخ کو پچھنے لگوائے تو یہ پچھنے لگوانا ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔قمری مہینے کی 17-19-21تاریخ کو پچھنا لگانے کی روایت ہے۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ’’بہترین دن جن میں تم پچھنا لگاتے ہو وہ قمری مہینے کی سترھویں‘انیسویں اور اکیسویں تاریخ کے دن ہیں۔
حجامہ سے کن امراض میں شفاہے: الحجامہ یا پچھنا لگانے سے روز مرہ کے کئی امراض سے شفا ہے ۔ خا ص طور سے دردسر‘ٹینشن کی وجہہ سے ہونے والا درد‘کندھوں کا درد‘گردوں کا درد‘بلڈ پریشر‘کمر کا درد‘عرق النساء‘ایڑھی کا درد‘گھٹنوں کا درد‘ گردن کا درد‘آدھے سر کا درد‘فالج‘رعشہ‘بے خوابی‘کیل مہاسے‘یرقان‘بد ہضمی‘گردے کی پتھری‘نا مردی بانجھ پن‘سفید کپڑا‘فیل پا‘ذیابطیس‘موٹاپا‘مایوسی‘دمہ‘ الرجی اور ہر قسم کے درد میں اس سے شفا ہے۔یہ علاج رعشہ Parkinsonدور کرتا ہے۔ شوگر کے مرض میں مفید ہے۔ جلدی امراض سے شفا دلاتا ہے۔ دل کے امراض‘ بلڈ پریشر ‘پیروں کی سوجن ‘بے خوابی‘جگر اور پتہ کے امراض ‘قبض ‘اسہال ‘آنتوں کی سوزش ‘ زنانہ و مردانہ امراض‘ENT کے امراض‘ نفسیاتی امراض ؛وزن میں ذیادتی اور سستی و کاہلی دور کرنے مختلف امراض سے شفاء دلاتا ہے۔ یہ ایک سنت طریقہ علاج ہے اور اللہ کے رسولﷺ کے ارشادات پر عمل کرنے سے اللہ کے فضل سے شفاء یقینی ہے۔

حجامہ کا علاج خون صاف کرتا ہے۔حرام مغز کو فعا ل بناتاہے۔شریانوں پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔رگ پٹھوں کے اکڑاؤ کو ختم کرتا ہے۔دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور امراض قلب انجائنا میں مفید ہے۔ سر درد ‘دانتوں کے درد میں مفید ہے۔آنکھو ں کی بیماریوں میں اس سے شفا ہے۔ عورتوں کی ماہواری کو باقاعدہ بناتا ہے۔دل کے ضعف کو دور کرتا ہے۔ ذیاد ہ سونے اور سستی کو دور کرتا ہے۔مواد بھرے زخموں کے لئے مفید ہے۔ جس جگہ درد ہو وہاں حجامہ کرانے سے آرام ملتا ہے۔صحت یاب لوگ بھی دو تین مہینے میں ایک مرتبہ حجامہ کرا سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ علاج حدیث سے ثابت ہے۔ اور اس سے بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔علاج کا کرنا طبیب کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور شفا ء اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے مریض اور طبیب دونوں اس علاج کو اللہ کی ذات پر کامل یقین اور سنت نبوی ﷺ سمجھ کر اختیار کریں گے تو اللہ کی ذا ت سے قوی امید ہے کہ حجامہ سے کئی امراض سے ضرور مریضوں کو شفا ملے گی۔

حجامہ کاعلاج ماہرین کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک قسم کا طبی جراحی والا کام ہے ۔اس لئے اسے ہر کوئی نہیں انجام دیتا بلکہ ڈاکٹری پیشہ سے واقفیت رکھنے والے اور نرسنگ کے ماہرین ہی انجام دیتے ہیں۔ ایسا حجامہ جس میں خون نکلتا ہوں۔ اس کے لئے صاف ستھرے اسٹرلائز کئے ہوئے ساز و سامان استعمال کئے جاتے ہیں۔قدیم طریقہ حجامہ میں کانچ کے گلاس استعمال ہوتے تھے۔ اور آگ استعمال کی جاتی تھی۔ آج کل حجامہ کے لئے پلاسٹک کے اسٹرلائز کئے ہوئے صاف کپ مختلف سائز کے چین سے منگائے جارہے ہیں۔ اور انہیں جسم پر بٹھانے کے لئے مخصوص خلائی دباؤ کی گن استعمال کی جارہی ہے۔ جہاں تک قدیم طریقہ حجامہ کا معاملہ ہے۔ اس میں جن مقامات پر حجامہ کرنا ہو اتنی تعداد میں کانچ کے صاف غیر مستعملہ نئے گلاس منگائے جاتے ہیں۔ ایک عدد میڈیکل بلیڈ اور اسپرٹ روئی اور ہاتھ میں پہننے کے دستانے حجامہ کے سامان میں شامل ہیں۔حجامہ کا عمل صبح سویرے جب کے مریض کا معدہ خالی ہو کرنا بہتر ہے۔ ویسے کھانے کے چھ گھنٹے بعد یا مشروبات پینے کے دیڑھ گھنے بعد بھی حجامہ کیا جا سکتاہے۔ حدیث میں بیان کردہ تاریخوں میں حجامہ کیا جائے تو ذیادہ بہتر ہوگا۔ جس جگہ حجامہ کا عمل کرنا ہوتا ہے اس جگہ کو روئی اور اسپرٹ سے اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے۔ اور ایک گلاس میں ٹشو پیپر جلا کر جسم کے اس حصے پر زور سے لگا دیا جاتا ہے۔ گلاس میں جلتا ہوا کاغذ آکسیجن کی تلاش میں جلد کی طرف دباؤ پیدا کرتا ہے۔ اور باہر سے آکیسجن نہ آنے کے سبب وہ جلد سے لگے حصے کو اندر کی جانب کھینچنا شروع کردیتا ہے۔ آکسیجن کی عدم موجودگی سے گلاس میں خلا پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کے جگہ جسم کا حصہ کھنچ کر ابھرنے لگتا ہے۔ اور جسم کے اس حصے سے فاسد خون گلاس کے دائرے کی شکل میں جلد کے نیچے جمع ہونے لگتا ہے۔پانچ منٹ کے وقفے کے بعد جب گلاس کو جسم سے الگ کیا جاتا ہے تو دائرے کی شکل میں جلد سرخ و سیاہی مائل ہوجاتی ہے۔ اب صاف میڈیکل بلیڈ سے اس حصے پر خراشیں لگائی جاتی ہیں۔اس میں یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ ذیادہ گہرائی تک یا رگوں یا نسوں کو نہیں کاٹا جاتابلکہ جلد کی اوپر سطح پر ہلکی خراشیں لگائی جاتی ہیں۔ تاکہ اس حصے میں جمع فاسد خون باہر نکلنے لگے۔ دوسری مرتبہ فوری گلاس میں آگ لگا کردوبارہ خراشوں کی جگہ پر گلاس لگا دیا جاتا ہے۔ اب کی بار خراشوں کی جگہ سے سیاہ گاڑھا فاسد خون نکلنے لگتا ہے۔ یہی وہ بے کار اور فاسد خون ہے جو جسم میں رکاوٹ پیدا کرکے درد پیدا کر رہا تھا اور مختلف امراض کا باعث بن رہا تھا۔ پانچ منٹ بعد احتیاط سے گلاس کو الگ کیا جاتا ہے۔ محفوظ طریقے سے گلاس کو ضائع کردیا جاتا ہے۔ اسپرٹ اور روئی سے خراشوں کو صاف کردیا جاتا ہے۔اور چونکہ انسانی جسم میں زخم کو مندمل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اس لئے خون کا رساؤ رک جاتا ہے۔ حجامہ ایک وقت میں دو ۔تین یا اس سے ذائد مقامات پر کیا جاتاہے۔اب چین سے منگائے جانے والے پلاسٹک کے مختلف کپ استعمال ہونے لگے ہیں۔ اور آگ جلانے کی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔ کپ کو متعلقہ مقام پر رکھ کر کپ پر لگے ناب پر خلائی گن لگا کر کپ کے اندر کی آکسیجن کھینچ لی جاتی ہے۔ اور کپ پر لگے ربر کے واشر سے باہر کی ہوا کپ کے اندر نہیں جاتی اور کپ جسم پر مضبوط بیٹھ جاتا ہے۔ اور خون جمع کرنے کا خلا اور دباؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور دوسری مرتبہ میں خراشیں لگا کر خون باہر نکال لیا جاتا ہے۔ حجامہ کے بعد مریض کو غسل کرلیناچاہئے تاکہ جراثیم سے حفاظت ہو۔ حجامہ کی ایک قسم حجامہ مساج بھی ہے ۔ جس میں خون نہیں نکالا جاتا بلکہ جسم کے درد والے حصے پر تیل لگا کر حجامہ کاکپ بٹھایا جاتا ہے اور خلا پیدا کرکے کپ کو آہستہ آہستہ جسم پر حرکت دی جاتی ہے ۔جس سے جلد کا حصہ ابھر کر آگے بڑھتا ہے۔ اور مساج سے جسم کا دوران خون صحیح ہوتا ہے۔ مریضوں کے علاوہ عام آدمی بھی صحت کے حصول کے لئے اور چاخ و چوبند رہنے اور جسم سے فاسد خون نکالنے کے لئے اور طلباء امتحان سے قبل اپنی ذہانت بڑھانے اور پڑھائی میں تیزی اور چستی لانے کے لئے تین مہینے میں ایک مرتبہ حجامہ کا عمل کراسکتے ہیں۔

حجامہ ۔ ۔ ۔ علاج بھی سنت بھی !” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *