خیبرپختونخواہ کی پولیس کیسی ہے؟ ملاحظہ فرمائیے!

saad
(سعد شیر)
ہمارے معاشرے میں ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو کسی بھی ملک ،معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتاہے اور تمام ملکی امور اور معاشرے میں نظم نسق قائم کرنا ، لوگوں کے بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی کو یقنی بنانے میں صف اول کا کردار ادا کرتا ہے ۔بد قسمتی سے ہماری سرزمین پاک میں اس ادارے نے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس خوبصورت دھرتی کو گناہوں اور برائیوں کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔ امید ہے کہ آپ سمجھ چکے ہوں گے کی میں کسی کی بات کر رہا ہوں ۔میں پاکستان کی ’’گریٹ پولیس ‘‘کی با ت کر رہا ہوں۔ آپکو معلوم تو ہو ہی گا کہ اس کا کا م معاشرے میں برائیوں کا خاتمہ کرنا ، مثلاّ چوریوں ، منشیات فروشوں ،جنسی تشدد ، ملک میں امن و امان ،جان و مال اور عزت کی حفاظت کرنا ہوتا ہے لیکن بد قسمتی اس قوم کی کہ اس ادارے نے بڑی کامیابی کی ساتھ بالکل متضاد کر کے انتہائی درجہ کامیابی حاصل کی ہے ۔منشیات فروشی ‘لوگوں کا تماشا بنانا‘مال لوٹنا اور یہاں تک کہ اگرقانون سے بالا تر کسی کی جان بھی لینی ہو تویہی ادارہ اپنی خدمات پیش کرتا نظر آتا ہے۔ انہی خدمات کی پیش نظر اس ملک کے21 کروڑ عوام کے خون پسینے اور حلال کی کمائی کا پیسہ اس ادارے پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب اس ادارے میں بہت اچھے لوگ بھی موجود ہے جو فرض شناسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریا ں پوری کرتے ہیں لیکن ان اچھے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ،میں پورے ملک کی پولیس کی کارکردگی تو نہیں بتا سکتا لیکن کچھ اپنے صوبے خیبرپختونخواہ کے بارے جانتا ہوں ، جہاں’’ تبدیلی سرکا ر‘‘ کی حکومت ہے ۔ یہ پولیس پنجاب اور سندھ کی پولیس سے اس لیے بھی بہتر کہی جاتی ہے کیونکہ یہ صرف لوگوں کو بے عزت کرنا اورطالب علموں کو گدھا کہنا خوب جانتی ہے ‘اگر کسی کے پاس گاڑی کے کاغذات نہ ہوں تو اسے ’بم بنانے والا‘ قرار دیتی ہے چاہے وہ طالب علم یونیورسٹی کا ہی کیو ں نہ ہو اور دو ہفتوں سے پولیس تھانے کی یاترا صرف اپنی موٹر سائیکل حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہو ۔ جواب میں اسے کہا جاتا ہے کہ عدالت سے کچھ لائے ہو کہ نہیں ؟ پوچھا جائے کہ حضور بتایئے تو سہی عدالت سے لانا کیا ہے ؟ تو آگے سے وہ کچھ سننا پڑتا ہے جو یہاں لکھا نہیں جاسکتا ۔
ہمارے صوبے کی نئی حکومت نے پولیس میں بہت سے نئے شعبے متعارف کرئے ہیں جن کی بڑی لمبی لسٹ ہے اور جن پر پولیس کے سربراہ صاحب بھی دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ میں ان کی قابلیت میں شک نہیں کرتالیکن ایک عرضی ہے کہ جہاں اتنے نئے شعبے بنائے ہے وہاں ایک اور شعبہ''ادارہ برائے کردار سازی پولیس " بھی بنا دیں جہا ں اِن جانبازوں کو کم از کم بول چال کا طریقہ ہی سکھادیا جائے ۔ پچھلے دنو ں اپنے ایک بڑے سے بات کی کہ پولیس کا رویہ ٹھیک نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہوتا ہے میں نے سوچا یہ کیسا رویہ ہے کہ ہم انھیں ’خان جی‘ کہتے ہیں اور وہ جواباً گالی دے کر کہتے ہیں ’’ادھر آؤ گدھے ‘‘۔۔۔ اور ان میں اگر کوئی بہت اچھا ہے تو وہ کہے گا ’’ اترو۔۔۔ ادھر آؤ خبیث‘‘۔۔۔آپ ہی بتائیے کس کا’’ کریکٹر ڈھیلا ‘‘ہے اور کس کو tight کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں سابقہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ،جسٹس جواد ایس خواجہ کے چند کلمات دہرانا چاہوں گا جنہوں نے کہا تھا کہ ’’ پاکستان کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ پولیس ہے ‘اگر یہ ٹھیک ہو جائے تو سارا پاکستان ٹھیک ہو جائے گا ۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *