ظلم کے مدمقابل روشن چہرے

column kahani

تو کیا ہم تیسری جنگِ عظیم سے گزر رہے ہیں جو اپنی نوعیت میں مختلف تو ہے مگر ہے تو جنگ ہی نا ! ۔۔
اگر دُنیا کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو کہیں بھی سکون نہیں ۔۔ مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب ہر طرف ظلمتوں کا وحشی رقص جاری ہے۔۔ الیکٹرانک میڈیا ہو ، سوشل میڈیا ہو یا پیپر میڈیا ، بریّریت کی ایسی ایسی بھیانک تصویریں اور خبریں سامنے آتی ہیں کہ آنکھیں ہی نہیں اُن میں بسی نیندیں بھی لہو رونے لگتی ہیں۔ شاید انسان اُس عہدِ نا مہربان سے گزر رہے ہیں جس کے دن بد حال اور راتیں رتجگوں کی ماری ہویٔ ہیں۔ کسی ہونی کی اذیت اور اَن ہونی کا خوف پوری سانس بھی نہیں لینے دیتا ۔ بغور جایٔزہ لیں تو مشرق ہو یا مغرب ، شمال ہو یا جنوب کہیں امن نہیں ۔ ۔ فلسطین کو خون میں ڈبو دیا گیا، عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گیٔ ، یمن تقریباً غایٔب ہو گیا، لیبیا کو برباد کر دیا ، کشمیر کی صورتِ حال سامنے ہے۔ سب نام گنواۓ نہیں جا سکتے لیکن ایسے بے شمار ممالک ہیں جنہیں کبھی آہستگی اور کبھی شدّت سے معاشی، سیاسی، سماجی ہر سطح پر خلفشار کا شکار کیا جاتا رہا ہے۔ اب شام ہی کو دیکھ لیں کہ انسانی حقوق کی پامالی کی جو وحشیانہ تاریخ وہاں لکھی جا رہی ہے اس کو بیان کرنے کے لیٔے نہ الفاظ ہیں نہ حوصلہ ! گو نقشۂ ارض دیکھیں توانسان کے وجود میں آتے ہی ایک تسلسل نظر آتا ہے جنگوں کا ۔۔ مگر اب یہ ساری جنگیں بارود سے نہیں لڑی جا رہیں۔ انسانی ذہن نے تعلیم و تکنیک کے حصول کے ساتھ جہاں شب و روز کو سہولتوں سے آراستہ کیا ہے وہیں اپنی توانایٔیوں کو منفی بنیادوں پر استعمال کرنے کا ماہر بھی بنا دیا ہے ۔ اس لیٔے اب ہتھیار تو بہت بعد میں اُٹھاۓ جاتے ہیں ،پہلے تو اقتصادی ، ثقافتی اور مذہبی حملے کرکے اہم فتوحات حاصل کر لی جاتی ہیں ۔ جس کے لیٔے اور بہت سے ذرایٔع کے ساتھ ساتھ عموماً این جی اوز، الیکٹرانک میڈیا، پیپر میڈیا اور اب سوشل میڈیا ،جنگی منصوبہ بندی میں اہم محاذوں کا کام کرتے ہیں۔
اگر ہم برّصغیر کی تاریخ کی مثال دیں تو جان لیں گے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تو ایک طرح کی ’این،جی،او‘ ہی تھی۔ جس نے پہلے اقتصادی انقلاب کا نعرہ لگایا ، پھر مشرقی علم و تعلیم کا سہارا لیا ، پھر ثقافتی اثر و رسوخ حاصل کیا اور آخرِ کار سیاسی میدان کو اپنا اکھاڑہ بنا لیا۔ ہر سرزمین پر استحصالی بیرونی طاقتوں کو بوجوہ یوں بھی اہلِ سیاست بہت مرغوب ہوتے ہیں ۔ محترم عوامی نمایٔندوں ذکر کے ساتھ ۔ لفظ ’مرغوب‘ کا استعمال کویٔ اتنا موزوں تو نہیں لگتا لیکن فی زمانہ برپا رہنے والی سیاست گردی کے بعد اس سے بہتر اصطلاح لایٔیں کہاں سے ۔۔ ؟ آخر بندہ بشر ہیں جناب ، چاروں طرف جلتے ہوۓ الاؤ کے درمیان کھڑے ہو کر گلاب لکھنے سے تو رہے۔ جس آشوب زدہ عہد میں ہم جی رہے ہیں اس پر جھنگ کے شاعر رام ریاض کا شعر یاد آ گیا ،
شب کے محبوس کو سونے کی اجازت بھی نہیں
آنکھ لگتی ہے تو دیوار سے سَر لگتا ہے

آج ہی کی بات لیجیٔے۔۔ گھر کا تالہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہی ٹی وی آن کیا ۔ آسٹریلیا میں رہتے ہوۓ بھی پاکستان سے جُڑے رہنے کا اہتمام یہ کر رکھا ہے وہ نیٹ ورک لگوا لیا ہے، جس پر تمام پاکستانی چینلز دیکھے جا سکتے ہیں۔ اور بہت سے دیگر سَر پھرے بیرونِ مُلک پاکستانیوں کی طرح ہمیں بھی یقین ہے کہ پیارا دیس ہماری ہی مسلسل دعاؤں اور خبریں دیکھنے سے قایٔم و دایٔم ہے ۔۔ اگرچہ بعض اوقات اس پاکستان پرستی کے ہماری معصوم شادی پر بڑے ہیجانی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں کہ ہمارے شوہر جو خود بھی پاکستانی ہیں لیکن اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پردیس میں تین دہایٔیاں گزارنے کے بعد ہمارا نومولود پردیسیوں والا جذباتی روّیہ فشارِ خون کے لیٔے بہتر نہیں اور اب تک تو ہمیں عالمی مسایٔل پر زیادہ نظر رکھنا چاہیٔے تھی ۔ لیکن کیا کریں دُنیا میں آتے ہی دی جانے والی یہ ’ گُھٹی‘ جو بظاہر بہت بے ضرر سی چیز لگتی ہے وہ ساری زندگی انسان کے داخل و باطن پر غالب رہتی ہے ۔ شاید ہمارے پیارے ابّو جی نے جب کان میں اذان دینے کے بعد شہد کی گُھٹی چٹائی تو اپنا کردار بھی منتقل کر دیا تھا ۔۔ کہ وطن میں رھو یا نہ رھو اس کے لیٔے پریشان ضرور رہو۔
خیر بات کہاں جا نکلی ۔۔ پاکستانی چینل لگاتے ہی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کی ایک اور کہانی نے اعصاب کو شل کرکے رکھ دیا۔ ۔ ایک اور نوجوان اور خاتون کی شہادت ، جو ظاہر ہے فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے ہوئی اس واقعہ کو موضوع بنانا چاہا تو خیال آیا کہ کیوں نہ اس کی تصدیق کر لی جاۓ کہ میڈیا سے جتنی بھی قربت ہو بھروسہ متزلزل ہی رہتا ہے۔ ویسے بھی کسی بُری خبر کو سُن کر انسان کا پہلا ردِّ عمل بے یقینی ہی ہوتا ہے۔ ۔ دل سے دعا نکلتی ہے کہ یہ خبر غلط ہو۔ کئی نام ذہن میں آۓ لیکن کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک عمدہ شاعر منصور راٹھور سے رابطہ کیا جنہیں فیصل آباد میں سنا بھی تھا سے اور فیس بُک برادری کے بھی رُکن ہیں ۔ لیکن بُری خبریں کہاں جھوٹی ہوتی ہیں سو تصدیق ہو گیٔ۔ یہ سارا واقع کاکا پورہ کے علاقہ میں پلوانہ کے مقام پر ہوا۔ ایک عوامی اجتماع کے موقع پر فورسز نے حسبِ معمول اپنی طاقت کا اظہار کرنے کے لیٔے فائر کھول دیٔے جس کے نتیجے میں رتنی پور کے رہنے والے نوجوان دانش فاروق میر اور للہار کی رہنے والی خاتون شایٔستہ حمید شہادت پا گیٔیں ۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ نہ تو یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری ہوگا ۔
جانے کب کشمیر کی مٹی کی سُنی جاۓ گی۔ کب اس کی بیٹیاں خود کو محفوظ تصّورکر سکیں گی، کب اس کے بیٹے چوپالوں میں بیٹھ کر آزادی کے گیت گا سکیں گے۔ جب سے یہ جدوجہدِ آزادی شروع ہوئی ہے اتنے لوگ شہید ہو چکے ہیں کہ شمار کرنے کو اک عمر چاہیٔے اور جو کھوئے گئے اُن کے منتظر اپنی سانسوں کا بوجھ اُٹھاۓ چند زندہ ہیں چند مر چکے۔۔ اپنے عزیز کا کفن دیکھ کر تو دل کو رتّی بھر تسّلی مل جاتی ہوگی مگر کسی کے لوٹ آنے کا انتظار آنکھوں میں لے کر دُنیا سے رخصت ہونے والوں کی روحیں کتنی بے چین رہتی ہوں گی ۔ ۔ جب سوال ملال میں بدل جایٔیں تو بے قراری مقدر بن جاتی ہے ۔
وہ طبقات جو نشانہ بن رہے ہیں اُن پر تو زندگی تنگ ہے ہی مگر جبر کرنے والی قوتیں بھی کہاں سکون سے رہتی ہیں یہ کویٔ فلسفہ نہیں حقیقت ہے کہ خبطِ عظمت کا شکار رہنا ایک بے حد الجھا دینے والا عمل ہے خواہ وہ ذاتی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر۔ ظلم کے عمل کے پس منظر میں خوف ہی تو کار فرما ہوتا ہے ۔۔ مظلوم کے طاقت ور ہو جانے کا خوف ۔۔ بلکہ شدید خوف۔ لیکن یاد رہے کہ ظلم کے جتنے چہرے ہوتے ہیں اس کے ردِّ عمل کے بھی اتنے ہی چہرے ہوتے ہیں۔ ۔اور روشن بھی۔

ظلم کے مدمقابل روشن چہرے” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 4, 2016 at 11:38 AM
    Permalink

    ہمارے حکمرانوں کی کوئی ترجیح نظر نہیں آتی اس سلسلے میں کہ وہ سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئ کوشش کررہے ہوں.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *