کیا اندرا گاندھی مسلمان باپ کی بیٹی تھی ؟

indira-gandhi-feroze-gandhi-rare-wedding-photos (3) بھارتی پریس میں ایک تہلکہ خیز رپورٹ شائع ہوئی ہے ۔اس کا تعلق نہرو خاندان سے ہے۔ اس کے مطابق فیروز خان کا جواہر لال نہرو کی بیٹی سے معاشقہ اور شادی ایک ایسی داستان ہے کہ جس کو ہمیشہ چھپایا گیا۔ وہ فیروزگاندھی، جن کا ایک بیٹا ملک کا وزیراعظم ہوا، بیوی وزیراعظم ہوئی اور سسر بھی ملک کے اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہے۔ ساتھ ہی ان کی اولاد کے ہاتھوں میں اب بھی ملک کے اقتدار کی چابی ہے۔ ان کا خاندان آزاد بھارت کا شاہی خاندان سمجھا جاتا ہے۔آزادی کے بعد اس خاندان کے افراد نے کسی نہ کسی شکل میں بھارت پر حکومت کی،کسی دوسرے خاندان نے نہیں کی۔ لیکن باجود اس کے ان کی اولاد نے انھیں بھلا دیا،یا پھر دانستہ طور پر انھیں یاد کرنا نہیں چاہتی۔آخر کیا سبب ہے کہ راجیو اور اندرا گاندھی کی سالگرہ پراخبارات کو آٹھ آٹھ کروڑ کے ا شتہارات دینے والی حکومت نے فیروز گاندھی کو بالکل ہی نظر انداز کردیا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ فیروز گاندھی کونظرانداز کرنے کی کوشش ہوئی ہو،بلکہ انھیں ہمیشہ ہی ان کی اولاد نے نظرا نداز کیا ہے۔ کبھی ان کے نام سے نہ تو کوئی راستہ منسوب کیا گیا اورنہ کسی فلاحی کام کا نام رکھا گیا۔فیروز گاندھی کا مذہب کیا تھا؟عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک پارسی تھے،لیکن شاید اس معاملے میں کچھ کنفیوزن ہے۔ان کے والد کا نام جہانگیرخان تھاجو کہ نواب خان کے نام سے مشہور تھے۔بعض روایتوں کے مطابق یہ ایک ایرانی مسلمان تھے۔کے این راؤ نے بھی یہی لکھا ہے۔البتہ ان کی ماں رتی مائی پارسی سے تبدیلی مذہب کرنے والی نومسلمہ تھیں۔ان کے خاندان کا سرنیم’’گھنڈی‘‘ Ghandy ہوتا تھا۔ فیروز گاندھی کو جو پارسی کے طور پر مشہور کیا گیا یہ ہندستانی عوام کے مزاج اور یہاں کی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔فیروز جہانگیر خان عرف فیروزگاندھی اپنے پانچ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے دوبھائیوں کے نام دوراب جہانگیر اور فریدون جہانگیر بتائے جاتے ہیں اور بہنوں کے نام تہمینہ اور علو ہیں۔ ایرانی مسلمانوں کے نام فارسی ہوتے ہیں یہ عام بات ہے مگر پارسیوں کے نام عربی نہیں ہوتے۔ ان کے بھائیوں کے نام کے الفاظ فارسی ہیں مگر ان کی بہنوں کے نام خالص عربی ہیں۔ اس سے اس سلسلے میں کچھ اشارہ ضرور ملتا ہے۔ فیروز کے رشتے داروں کا کچھ اتا پتا نہیں ملتا۔البتہ ایک آدھ جن کے بارے میں کچھ خبر ملتی ہے، وہ پارسی ہیں،یہ وہ ہیں جن کی رشتے داری ان کی نومسلمہ ماں کی طرف سے تھی۔نہرو کی بیٹی اندرا پریادرشنی (بعد میں اندرا گاندھی) نے بھی خاندان کی اس اخلاقی بے راہروی کی روایت جاری رکھی۔ کیتھرین فرینک کی کتاب‘‘The Life of Indira Nehru Gandhi’’(ISBN: 9780007259304) by میں اندرا گاندھی کے ابتداء ادوار اور زندگی کے دیگر ادوار میں وقتا فوقتا چلنے والے معاشقوں کا تفصیلی ذکر ہے۔ اندرا کا پہلا معاشقہ ان کے جرمن ٹیچر سے Shantiniketan میں چلا۔ ان کا دوسرا معاشقہ اپنے والد کے سیکریٹری ایم۔او متھا سے چلا۔ اپنے یوگا ٹیچر دھریندرا برہمچاری سے بھی اندرا کے تعلقات رہے۔ فیروز خان سے معاشقہ شادی میں تبدیل ہوا۔ جبکہ آخری معاشقہ وزیر خارجہ دھنیش چند سے چلا۔ ذہین و فطین اندرا گاندھی کو تعلیم کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخل کرایا گیا لیکن وہاں اپنی غیر تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی جس وجہ سے اسے وہاں سے نکال دیا گیا۔ بعد میں اس نے Shantiniketon یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن یہاں سے بھی اسے گرودیورا بندراناتھ ٹیگور نے اپنے غیراخلاقی رویہ پر بھگادیا۔ یونیورسٹی سے تو بدنام ہو کر نکل چکی تھی۔ والد سیاست میں مشغول تھا جس کے پاس اندرا کیلئے وقت ہی نہ تھا۔ والدہ ٹی بی کی مریضہ تھی اور سوئیزرلینڈ میں زیر علاج تھی تو اب اندرا تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہوگئی۔ اس موقعہ پر فیروز خان اسکی زندگی میں داخل ہوا اور وہ اسکے پاس کھچی چلی آئی۔ دونوں اس حد تک قریب آگئے کہ ایک دوسرے میں ضم ہوگئے۔ اسی دوان فیروز خان بھی انگلینڈ چلا گیاجہاں وہ اندرا کی والدہ کی تیمار داری بھی کرتا اور اندرا کو بھی خوش رکھتا بلکہ ماں بیٹی دونوں کیلئے مسیحا بن گیا۔ فیروز گاندھی کانگریس کے بہت سینئر لیڈر تھے۔ ان سے جواہرلعل نہرو بھی خوفزدہ رہتے تھے۔1930 میں انھوں نے کانگریس جوائن کیا،جنگ آزادی میں سرگرمی سے حصہ لیا اور اس کی پاداش میں گرفتار ہوکر جیل گئے۔ وہ فیض آباد جیل میں انّیس مہینے قید رہے۔فیروزگاندھی،مہاتما گاندھی کے بہت قریب تھے اور گاندھی جی انھیں پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ایک مرتبہ فیروز کی ماں گاندھی جی سے ملنے گئیں تو گاندھی جی نے کہا کہ فیروز زبردست انقلابی ہیں اگر ایسے سات افراد مجھے مل جائیں تو سات دن میں ملک آزاد ہوجائے۔فیروز گاندھی ملک کی عبوری پارلیمنٹ کے ممبر تھے، پھر پہلی لوک سبھا کے لئے 1952 میں منتخب ہوئے۔ وہ دوسری لوک سبھا کے لئے 1958 میں بھی منتخب ہوئے۔فیروز گاندھی انڈین آئل کارپوریشن کے پہلے چیرمین بنے،ساتھ ہی وہ اپنے دور کے ایک بڑے اخبار نیشنل ہیرالڈ اور ہندی روزنامہ نوجیون کے پبلشر تھے۔وہ میڈیا کی آزادی کے علمبردار تھے،اسی لئے وہ اس سلسلے میں ایک پرائیویٹ بل بھی پارلیمنٹ میں لائے تھے،جوپاس ہوگیا تھا۔اس وقت کے مہارا شٹر کے وزیر اعلیٰ شری پرکاش نے نہرو کو اندرا کے فیروز خان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں خبردار بھی کیالیکن نہرو شدید سیاسی مصروفیات کی وجہ سے بیٹی کیلئے وقت ہی نہ نکال سکا۔ جب اس نوجوان جوڑے کے تعلقات خطرناک حد تک بڑھ گئے تو نوجوان اندرا مسلمان ہوگئی اور لندن کی ایک مسجد میں دونوں نے شادی رچالی۔ شادی کے بعد اندرا پریادرشی نہرو نے اپنا نام تبدیل کرکے اسلامی نام میمونہ بیگم رکھا۔ اس بات کا ذکر نہرو کے پرسنل سکریٹری ایم۔او،متھائی نے اپنی کتاب \'\'REMINENCES OF THE NEHRU AGE\'\' میں لکھا ہے۔ اپنی ایک کتاب میں کیا ہے جس کو بعد میں انڈیا میں بین کردیا گیا تھا.۔ اندرا کی والدہ کمالہ نہرو اس شادی کی سخت مخالف تھی لیکن اندرا نے اسکی ایک نہ سنی۔ نہرو بھی اس لئے سخت ناراض تھا کہ اندرا کے مسلمان بننے سے اسکا وزیراعظم بننے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔ یادرہے کہ یہ آزادی سے پہلے کا واقعہ ہے۔
گاندھی جی کے مشورے پر نہرو نے سیاست سے کام لیا اور اس کے شاطر ذہن نے بھارتی روام کو بیوقف بنانے کے لئے ایک نئی چال چلی۔اب نہرو نے اپنے نوجوان داماد فیروز خان کو مجبور کیا کہ وہ بے شک مذہب تبدیل نہ کرے لیکن صرف اپنے نام کے ساتھ خان ہٹا کر گاندھی Gandhy بطور لقب (Surname) لگالے۔ ایساکرنے کیلئے کسی زیادہ کارروائی کی ضرورت بھی نہ تھی بلکہ یہ تبدیلی صرف ایک بیان حلفی سے ممکن تھی۔ اس نام کا اسلام یا ہندوازم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تو یوں نہرو کے اصرار پر وہ فیروز خان سے فیروز گاندھی بن گیا۔مذکورہ کتاب کے مطابق جب ان حالات کی خبر مہاتماگاندھی کو ملی تو انھوں نے فوراً دونوں کو بھارت بلوایا اور ان کی شادی ویدک طریقے سے کرائی۔ انھوں نے فیروز جہانگیرخان کا نام تبدیل کراکر فیروز گاندھی کرایا۔ نہرو اس شادی کے حق میں نہیں تھے،جس کے پیچھے ان کے سیاسی مفادات تھے،مگر انھیں آخرکار ہتھیار ڈالنا پڑا۔ یہ 1942 کا واقعہ ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق راجیو گاندھی کی پیدائش کے بعد اختلافات کے سبب اندرا اور فیروز الگ ہوگئے تھے۔کے این راؤ نے لکھا ہے کہ سنجے گاندھی، فیروز گاندھی کی اولاد نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے شخص محمد یونس کی اولاد ہیں۔ یہ محمد یونس ایک بیوروکریٹ تھے اور اندرا گاندھی کے بہت قریبی تھے۔ یہ خارجہ معاملات میں ان کے مشیر تھے اور ترکی، انڈونیشیا،عراق واسپین میں سفیر بھی رہے۔یہ مجاہدآزادی تھے اور خان عبدالغفار خان کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے تھے۔
محمد یونس نے بھی اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتا ب لکھی،جس کا نام ہے PERSONS249PASSIONS& POLITICS اس کتاب میں انھوں نے اس سلسلے میں تو کچھ نہیں لکھا ہے البتہ یہ لکھا ہے کہ سنجے گاندھی کا اسلامی طریقے کے مطابق ختنہ کیا گیا تھا۔محمد یونس سنجے کی موت پر پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ کسی مسلمان لڑکی سے شادی کریں۔
یہاں واضح ہونا چاہیے کہ Gandhi تو ہندو لقب ہو سکتا ہے لیکنGandhy ہندو لقب یا ہندو نام نہیں ہے۔ گو یہ ہے بڑا عجیب سا نام جیسے ’’بسم اللہ سرما‘‘ وغیرہ۔ بدقسمتی سے اردو میں Gandhi اور Gandhy کے ہجے ایک جیسے ہیں‘ اس لیے فرق کا پتہ نہیں چلتا۔ مہاتماگاندھی نہرو کا آئیڈیل سیاسی ر اہنما تھا۔ اسکے مجبور کرنے پر گاندھی کے ہجے مزید تبدیل کر دئیے گئے۔ یوں اندرا اور اسکے سلسلہ نسب کو دو جعلی ناموں سے تاریخ نے محفوظ کر لیا۔ دونوں فینسی نام یعنی ’’نہرو اور گاندھی‘‘ہی تاریخ بن گئے۔
فیروز گاندھی کو کرپشن کے خلاف لڑائی کی شروعات کرنے والا پہلا لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے دور کے بڑے معاشی گھوٹالے مندھرا اسکنڈل کا پردہ فاش کیا تھااور اسی وجہ سے اس وقت کے وزیرِ خزانہ ٹی ٹی کرشنم چاری کو مستعفی ہونا پڑا تھا اور صنعت کار ہری داس مندھرا کو جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی۔ فیروز کے اس رویے نے جواہر لعل نہرو کو پریشان کر رکھا تھااور دونوں کے بیچ سرد جنگ شروع ہوگئی تھی۔ان کی بیوی اندرا گاندھی بھی ان حالات سے پریشان تھیں۔جب 1960 میں صرف 48،سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا تو دونوں نے چین کی سانسیں لیں۔نہرو کے پرسنل سکریٹری ایم۔او،متھائی نے اپنی کتاب \'\'REMINENCES OF THE NEHRU AGE\'\' میں لکھا ہے کہ انھیں پی ایم او میں جانے کی اجازت نہ تھی اورمیاں بیوی الگ الگ رہتے تھے۔ان دنوں فیروز دوسری شادی کا پلان بنا رہے تھے۔ابھی چند سال قبل کی بات ہے کہ راہل گاندھی الہ آباد کے دورے پر گئے تو رات کی خاموشی میں اپنے چند سیکوریٹی والوں کے ساتھ چپکے چوری فیروز گاندھی کی قبر پر گئے۔ اس خبر کو میڈیا سے چھپائے رکھا گیا گویاوہ اپنے دادا کی قبر پر نہیں کسی بدنام جگہ پر جارہے ہوں اور اگر دنیا کو پتہ لگ گیا تو قیامت برپا ہوجائے گی۔یہ خبر صرف ایک اخبار میں شائع ہوئی اور وہ تھا پارسیوں کا کمیونیٹی اخبار۔ اس خبر کو اب بھی انٹر نیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔http://www.savehinduism.in/stories/article/635.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *