پھانسی کے علاوہ بھی تو کئی راستے تھے

syed arif mustafa

(بشکریہ: سید عارف مصطفی)

میں صحافی ہونے سے پہلے قانون دان ہوں ،،، یہ الگ بات کہ قانونی تعلیم حاصل کرنے باوجود جب عدالتی احاطوں میں وکلاء کی عظیم ترین اکثریت کو سفید جھوٹ اور گھناؤنے جرائم کا محافظ پایا اور ہر قیمت پہ مال کمانے کے لیئے ہر طرح مکر و فریب میں اس طرح لتھڑا ہوا پایا تو پھر پریکٹس کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور اپنی ایل ایل بی کی ڈگری کو یونیلیور کی مینیجری حاصل کرنے اور وہاں قانونی مشاورت میں استعمال کرنے کی حد تک ہی استعمال کیا ۔۔۔ یہاں اپنے قانونی پس منظر کا حوالہ صرف اسلیئے دیا ہے کہ ممتاز قادری والے اس کیس پہ اپنی دانست میں قانونی نظر ڈال سکوں ،،، اب جبکہ ممتاز قادری کو سزائے موت دی جاچکی ہے تو مجھے بڑے دکھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سےایک حقیقت تویہ ہے کہ دینی جماعتوں نے بھی انہیں دھوکا دیا اورانہیں اپنی سیاست چمکانے کے لیئے 'عظیم شہید' کی جو لاش درکارتھی وہ انہیں بالآخر مل گئی ہے ۔۔۔ اس حوالے سے ممکن ہے مزید کچھ مگر مچھ کے آنسو دیکھنے کو ملیں لیکن اس پہ احتجاج کے لیئے نہ تو مولانا فضل الرحمان مرکز میں اپنی وزارتون کو چھوڑینگے اور نہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی کو ،،، نہ ہی جماعت اسلامی ایوان وزیراعظم کا گھیراؤ کرےگی اور نہ ایوان صدر کا ،، حتیٰ کہ اہل سنت اور سنی تحریک والے بھی دو ایک نمائشی ریلیوں اور جلسوں تک ہی محدود رہیں گے - اس ضمن میں ایک دوسری حقیقت یہ ہے کہ 'کسی بھی خاص وجہ سے ' انکے وکلاء کی طرف سے بھی انکا کیس صحیح نہیں لڑا گیا ،،،

ممتاز قادری کے حوالے سے میرا موقف بہت واضح تھا اور وہ یہ کہ اس مقدمے کو قتل غیرعمد کی تشریحات تک لاکر سزائے عمر قید یا دیگر کسی نظربندی کی سزا دیکر اس نوع کی ناگوار صورتحال سے بچا جاسکتا تھا کیونکہ یہ واضح طور پہ ایک ایسا قتل تھا جو کسی دیرینہ دشمنی یا سازش کے نتیجے میں نہیں کیا گیا تھا اور ایسے وقتی ابال یا اشتعال کا نتیجہ تھا کہ جو واضح طور پہ دینی جذبات کو مجروح کرنے کے اقدام سے پیدا ہوا تھا ،، وہ پہلے سے کسی مجرمانہ ریکارڈ کا حامل نہیں تھا اور سلمان تاثیر کی جانب سے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو 'کالا قانون' کہنا صریحاً بہت سے ایسے لوگوں کے جذبات کی توہین کے مترادف تھا کہ جو ناموس رسالت کے قانون پہ ادنیٰ سی حرف گیری بھی برداشت نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ مگر یہاں مملکت کی مجبوری یہ تھی کہ وہ کسی کو اپنے من پسند تصورات کے بل پہ کسی کو قتل کرنے کو گوارا نہیں کرسکتی تھی جبکہ دوسری طرف مسئلہ یہ تھا کہ ممتازقادری اپنے اس قدم کو بطور عاشق رسول ناگزیر باور کرتا تھا جبکہ خود اسکی اپنی تعلیمی سماجی و ذہنی کیفیت مضبوط نہ تھی ،،، وہ خود کوئی عالم دین نہیں تھا ، بس عاشق رسول تھا اور اپنی کم معلومات کے بل پہ فوری جذبات کے ہاتھوں اسیر ہوکر یہ کام کربیٹھا تھا - غیرت اور ناموس قسم کی اصطلاحات کی مغرب میں تو یقینناً کوئی پذیرائی نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں تو یہ ایک نہایت عام اور موثر اصطلاحات ہیں اور شان رسالت و ناموس رسالت تو ایسے حساس معاملات ہیں کہ مجھ سمیت مسلمانوں کی بہت بہت بڑی اکثریت اس پہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی-

ممکن ہے کہ میری اس رائے زنی پہ کچھ اہل قانون اس بنیاد پہ معترض ہوں کہ قتل غیرعمد میں قابل قبول اشتعال صرف وہی ہے کہ جو ایسے کسی 'غیرتمندانہ" جذبات سے پھوٹے لیکن جس وقت آئے اس سے اسی وقت اگر کوئی جرم سرزد ہونے کا سبب بن جائے اور نظرثانی کا کوئی وقفہ ہی نہ ملا ہو یا کوئی قتل غیر روایتی ہتھیار سے ہو اور ارادہء قتل کا بھی کوئی ثبوت ہویدا نہ ہوا ہو تو اسے قتل غیرعمد کی مد میں شمار کیا جاتا ہے ،،، تو میرا اس ضمن میں یہ کہنا ہے کہ اب ہمیں اپنے قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیئے اور معاشرے کے ان ٹھوس حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے کہ کیا ایسے کسی 'حرمت' سے منسلک اشتعال کی مدت واقعی محض اتنی ہی لمحاتی سی ہوسکتی ہے کہ جیسے کوئی کسی کو ننگی گالی دیدے اور وہ فوراً اس پہ ردعمل کا اظہار کرڈالے ،،، اگر ایک حدیث 'خیرالامور اوسطہا' سے مدد لیتے ہوئے اس دینی جذبات والے قتل پہ سزا کا کوئی درمیانی رستہ نکال لیا جاتا تو کوئی قیامت نہیں آنی تھی ،،، اس سے مملکت کی رٹ بھی چیلنج ہونے سے بچ جاتی اور ایک ایسے شخص کی جان بھی بچ سکتی تھی کہ جو ذاتی طور پہ برا آدمی نہیں تھا اور جسکے اس فعل کی تائید کرنے والے بھی بیشمار ہیں - ساتھ ہی ایسی درمیانی سزا سے دینی معاملات پہ یوں گستاخانہ طور پہ منہ پھاڑ کر کچھ بھی اول فول بکنے والوں کی بھی خاصی حوصلہ شکنی ہوتی ،،

ممتازقادری اگر عمرقید پاتا تو وہ کسی کا اور کچھ نہ بگاڑسکتا تھا لیکن ممکن ہے کہ اپنی قبر سے وہ اس حکومت کیلیئے انتخابی مہم میں بڑے مسئلے کھڑے کردے اور یہی نون لیگ کے حریف جو چاہتے تھے کہ جو انہیں مل گیا ہے ۔۔۔ رہی حکومت تو اس کو اس سے اور تو کچھ ملنا ملانا نہیں ہے لیکن اس پھانسی سے ہونا بس یہ ہے کہ بارگاہ مغرب میں شاید اب ہم ایک بہتر غلام تصور ہونگے کیونکہ انتخابی جلسوں میں انگلی نچا نچا کے طائر لاہوتی کو بیغیرتی کی غذا سے موت پہ ترجیح دینے کیلیئے نعرے لگانے والے وقت آنے پہ ادنیٰ مفادات کیلیئے پہلے ہی مرحلے میں انکل سام کے قدموں میں سجدہ ریز ہوگئے ہیں اور قوم کو اسی رستے پہ لے کر چل پڑے ہیں کہ جس پہ پرویز مشرف کے قدموں کے نشانات بہت دور تک گئے ہیں اور آگے اک بہت بڑے گڑھے تک جاکے ختم ہوگئے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *