ممتاز قادری کی تدفین کردی گئی، حالات کنٹرول میں

qabar

 ممتاز قادری کو منگل کی سہ پہر اسلام آباد کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ ردعمل کے پیش نظر ریڈ زون کو جانے والے بیشتر راستے کنٹینر کھڑے کرکے بند کردیے گئے تھے اور جگہ جگہ پولیس بھی تعینات تھی۔ اس موقع پر شہر کے بیشتر نجی اور سرکاری سکول بھی بند رہے۔ قادری کے خلاف مقدمے میں وکیل استغاثہ سیف الملوک نے کہا ہے کہ انہیں سزائے موت دے کر ایک پیغام دیا گیا ہے۔ قبل ازیں ممتاز قادری کے جنازے کے موقع پر راولپنڈی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ممتاز قادری کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی تھیاور ان کی نمازِ جنازہ منگل کی دوپہر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ادا کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی، اہلسنت و الجماعت، سنی تحریک اور دعوت اسلامی کے کارکنوں سمیت ہزاروں افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ جنازے کے مقررہ وقت سے کئی گھنٹے قبل ہی لوگوں کی بڑی تعداد اس علاقے میں جمع ہوگئی تھی جو حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتی رہی۔  لیاقت باغ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو ٹریفک کے لیے مکمل طور بند کر دیا گیا جبکہ مری روڈ پر ٹریفک معمول سے انتہائی کم ہے اور شہر کی اس اہم ترین شاہراہ کو کئی مقامات پر کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ممتاز قادری کی نماز جنازہ پیر حسین الدین شاہ نے ادا کی اور نماز جنازہ کے بعد مقامی اور دیگر شہروں سے شرکت کرنے والے پرامن طریقے سے منتشر ہوگئے۔ اس موقع پر لیاقت باغ اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں پولیس کی نفری تعینات رہی جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں نظامِ زندگی معمول کے مطابق رہا۔ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف راولپنڈی کی تاجر برادری کی جانب سے بھی احتجاجاً دکانیں بند کی گئی ہیں اور راولپنڈی کے بڑے بازاروں میں کاروبار مکمل طور پر بند ہے جبکہ شہر میں تعلیمی ادارے بھی منگل کو نہیں کھلے۔ ادھر وفاقی دارلحکومت کے نواحی علاقے بارہ کہو سے تقریباً چار کلومیٹر دور واقع گاؤں اٹھال میں بھی پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ پولیس نے پیر کی شب بڑی تعداد میں ایسے افراد کو حراست میں لیا ہے جو جنازے میں شرکت کے لیے وسطی پنجاب کے مختلف علاقوں سے راولپنڈی آ رہے تھے۔ممتاز قادری کے جنازے میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی-راولپنڈی کے علاوہ کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں بھی محدود پیمانے پر احتجاجی جلوس نکالے گئے تھے۔ ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا تعلق سنّی تحریک اور جماعتِ اسلامی سمیت مختلف مذہبی جماعتوں سے ہے اور جماعتِ اسلامی نے قادری کی پھانسی کے دن کو یومِ سیاہ قرار دیتے ہوئے جمعے تک روزانہ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں وکلا کی تنظیم اسلام آباد بار کونسل نے بھی پھانسی کے خلاف ہڑتال کرنے اور احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *